طلاق کے مسائل و احکام

طلاق کے مسائل و احکام

Advertisement

(۱)’’عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَی اللَّہِ الطَّلَاقُ‘‘۔ (1)
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ تمام حلال چیزوں میں خدائے تعالی کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ۔ (ابوداود)
(۲)’’عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیُّمَا امْرَأَۃٍ سَأَلَتْ زَوْجَہَا طَلَاقًا فِی غَیْرِ مَا بَأْس فَحَرَامٌ عَلَیْہَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ‘‘۔ (2)
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو عورت بغیر کسی عذرِ مقبول کے شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔ (ترمذی، ابوداود)
(۳)’’ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ جَمِیعًا فَقَامَ غَضْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَیُلْعَبُ بِکِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ ‘‘۔ (3)
حضرت محمود بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دی ہیں یہ سنتے ہی حضور غضب ناک ہو کر کھڑے ہوگئے پھر فرمایا کیا اﷲ تعالی کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر موجو د ہوں۔ (نسائی)
معلوم ہوا کہ یکبارگی تین طلاقیں دینی حرام ہیں۔ مرقاۃ میں اسی حدیث کے تحت ہے : ’’ اَلْحَدِیْثُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ التَّطْلِیْقَ بِالثَّلاثِ حَرَامٌ لِأَنَّہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَصِیْرُ غَضْبَان إِلَّا

بِمَعْصِیَۃٍ اھـ‘‘۔ (1)
(۴)’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ جَائَ تْ امْرَأَۃُ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّی کُنْتُ عندَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلَاقِی فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْن الزُّبَیْر ومَا مَعَہ إِلَّا مِثْلُ ہُدْبَۃ الثَّوْبِ فَقَال أَ تُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ؟ فَقَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَا حَتَّی تَذُوقِیَ عُسَیْلَتَہُ و یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ‘‘۔ (2) (بخاری، مسلم)
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے فرمایا کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی تو انہوں نے مجھے طلاق دی پھر میری طلاق قطعی کردی یعنی مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ ا س کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر(3) سے نکاح کرلیا اور نہیں ہے ان کا (عضو) مگر کپڑے کے دامن کی طرح نرم (یعنی وہ ہمبستری کی قدرت نہیں رکھتے ) تو حضور نے فرمایا کہ تم لوٹ کر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟انہوں نے عرض کیا ہاں، حضو ر نے ارشاد فرمایا کہ تم اس وقت تک ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاسکتی ہو جب تک کہ عبدالرحمن سے تم اور تم سے وہ جنسی حظ نہ حاصل کرلیں۔ (بخاری، مسلم)
انتباہ :
(۱)…طلاق کی تین قسمیں ہیں۔ رجعی ، بائن اور مغلّظہ۔ طلاق رجعی کا مطلب یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو۔ اور بعد عدت عورت کی مرضی سے نکاح کرسکتا ہے ۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اور طلاق بائن کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی مرضی سے شوہر عدت کے اندر نکاح کرسکتا ہے ۔ اور عدت کے بعد بھی حلالہ کی ضرورت نہیں۔ ا ور طلاق مغلّظہ کا مطلب یہ ہے عورت بغیر حلالہ شوہر اول کے لیے جائز(4)نہ ہوگی۔
(۲)…حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو عدت پوری ہونے کے بعد دوسرے سے نکاح کرے اور یہ دوسرا شوہر اس سے وطی بھی کرے اب دوسرے شوہر کی موت یا طلاق کے بعد عدت پوری ہونے پر

پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے ۔ اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے فوراً بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اس لیے کہ غیر مدخولہ کے لیے عدت نہیں۔ (1) (عالمگیری، بہار شریعت وغیرہ)
حدیث شریف میں حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر جو لعنت آئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے ۔ اور اگر ایجاب وقبول میں حلالہ کی شرط نہ لگائی جائے تو کوئی قباحت نہیں بلکہ اگر بھلائی کی نیت ہو تو مستحق اجر ہے ۔
درمختار مع ردالمحتارجلد ۲، ص:۵۵۹ میں ہے :
’’لُعِنَ الْمُحَلِّلُ وَالْمُحَلَّلُ لَہُ بِشَرْطِ التَّحْلِیل کَتَزَوَّجْتُکِ عَلَی أَنْ أُحَلِّلَکِ أَمَّا إذَا أَضْمَرَ ذَلِکَ لَا یکْرَہُ وَکَانَ الرَّجُلُ مَأْجُورًا لِقَصْدِ الْإِصْلَاحِ‘‘۔ (2)
یعنی حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر اس صورت میں لعنت کی گئی ہے جب کہ ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے ۔ مثلاً مرد عورت سے یوں کہے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا اس بات پر کہ تو شوہر اوّل کے لیے حلال ہوجائے لیکن اگر حلالہ کی نیت دل میں ہو ( اور ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط کا ذکر نہ ٔآئے ) تو اس میں کوئی قباحت وکراہت نہیں بلکہ اگر اصلاح کی نیت سے ہو تو موجب اجر ہے ۔
(۳)… طلاق دینا جائز ہے لیکن بغیر وجہ شرعی ممنوع ہے ۔
(۴)…وجہ شرعی ہو تو طلاق دینا مباح ہے بلکہ اگر عورت شوہر کو یا دوسروں کو تکلیف دیتی ہو یا نماز نہ پڑھتی ہو تو طلاق دینا مستحب ہے ۔ (3) (بہار شریعت)
(۵)…اگر شوہر نامرد ہے یا اس پر کسی نے جادو کردیا ہو کہ ہمبستری نہیں کر پاتا اور اس کے ازالہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو ان صورتوں میں طلاق دینا واجب ہے ۔ اگر طلاق نہیں دے گا تو گنہ گار ہوگا۔ (4)
(بہار شریعت بحوالہ درمختار وغیرہ)
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!