Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صحابہ و اہل بیت کون ہیں

صحابہ و اہل بیت کون ہیں

صحابی کس مسلمان کو کہتے ہیں ؟

صحابی اس مسلمان کو کہتے ہیں جس نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّم کے دربار (خدمت) میں حاضری دی اور ایمان کے ساتھ دنیا سے گیا، سب صحابی اہل خیر و صلاح ہیں اور عادِل و ثقہ ہیں، جب کسی صحابی کا ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ (1 )

عقیدہ ۲۹: صحابی کی توہین کا حکم

کسی صحابی کے ساتھ بدعقیدگی گمراہی و بدمذہبی ہے، حضرت امیر مُعاوِیہ، حضرت عمرو بن عاص، حضرت وحشی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم) وغیرہ کسی صحابی کی شان میں بے اَدَبی تبرا ہے

اور اس کا قائل رافضی۔

حضراتِ شیخین کی توہین کا حکم

حضراتِ شیخین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کی توہین بلکہ اُن کی خلافت سے انکار ہی فقہاء کے نزدیک کفر ہے۔

حضرتِ مُعاوِیہ کو برا کہنے والے کا حکم

عقیدہ۳۰: کوئی وَلی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رُتبہ کو نہیں پہنچتا، حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے حضرت امیر مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی جنگ خطائے اِجتہادی ہے جو گناہ نہیں اس لیے حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو ظالم، باغی سرکش یا کوئی بُرا کلمہ کہنا حرام و ناجائز بلکہ تبرا (1 ) و ر فض ہے۔

اہل بیت میں کون لوگ داخل ہیں ؟

اہل بیت یعنی رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بیویاں اور اولاد۔ صحابہ کی طرح ان کے بھی بہت فضائل آیات واحادیث میں آئے صحابہ و اہل بیت کی محبت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محبت ہے۔

عقیدہ۳۱: ام المومنین صدیقہ ( رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا) کو عیب لگانے والے کا حکم

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کو اِفک کی تہمت لگانے والا قطعاً یقیناً کافر مرتد ہے۔ (شرح عقائد و تکمیل و ہندیہ وغیرہ)
عقیدہ۳۲: حضرات حسنین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) اعلیٰ درَجہ کے شہداء میں سے ہیں اِن میں سے کسی کی شہادت کا منکر گمراہ بددین ہے۔

عقیدہ۳۳: حضرت امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو باغی کہنے والے کا حکم

جو حضرت امام حسین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کو باغی کہے یا یزید کو حق پر بتائے وہ مردُود خارِجی مستحق جہنم ہے۔

یزید کا حکم

یزید کے ناحق ہونے میں کیا شبہ ہے البتہ یزید کو کافر نہ کہیں اور نہ مسلمان کہیں بلکہ سکوت کریں۔

عقیدہ۳۴: اِختلافاتِ صحابہ کا حکم

جو صحابہ و اہل بیت سے محبت نہ رکھے وہ گمراہ و بدمذہب ہے۔
مسئلہ:صحابہ کر ام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم میں آپس میں جو واقعات ہوئے ان میں پڑنا حرام و سخت حرام ہے ان کی لغزشات پر گرفت کرنا یا اِن کی وجہ سے اُن پر طعن یا اُن سے بداعتقادی ناجائز

واللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خلاف ہے۔ ( 1)
________________________________
1 – قال الامام الھمام قدوۃ علماء الاسلام نجم الملۃ والدین عمر النسفی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی) :ویکف عن ذکر الصحابۃ الا بخیر۔ ۱۲ (منہ) . (شرح العقائد النسفیۃ،ص۳۳۷)

________________________________
1 – شیخین سے مراد حضرت ابوبکر و عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) ہیں ۔ ۱۲ (منہ)
2 – قال العلامۃ التفتازانی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) :فسبھم والطعن فیھم ان کان مما یخالف الادلۃ القطعیۃ فکفر کقذف عائشۃ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا والا فبدعۃ وفسق۔ (شرح عقائد) ۱۲ (منہ) (شرح العقائد النسفیۃ ، ص۳۳۷)

________________________________
1 – قرآن و حدیث میں صحابیوں کی بہت فضیلت آئی ، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو خیر امت کا لقب دیا اور فرمایا کہ ہم ان سے راضی اور وہ ہم سے راضی ہیں ۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (پ۴،آل عمران:۱۱۰) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہ۔ ( پارہ ۱۱ رکوع ۲) ۔ (التوبۃ :۱۰۰) ۔ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں : لا تسبوا اصحابی فلو ان احد کم ان انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصفہیعنی میرے اصحاب کو برا نہ کہو ( خدا کے یہاں ان کی اتنی مقبولیت ہے) کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خدا کی راہ میں خرچ کرے تو ان کے آدھے مُد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ( بخاری ،کتاب فضائل الصحابۃ،باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،۲/ ۵۲۲، حدیث: ۳۶۷۳) اور فرمایا:اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضہم فببغضی ابغصھم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ ومن اذی اللّٰہ یوشک ان یاخذہیعنی اللّٰہ سے ڈرواللّٰہ سے ڈرو میرے اصحاب کے بارے میں میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا کہ جو انہیں دوست رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے دوست رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے اور جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھ کو ایذا دی اس نے بلاشک اللّٰہ کو ایذادی اور جس نے اللّٰہ تعالیٰ کو ایذا دی قریب ہے کہ اللّٰہ اسے پکڑ ے گا۔ (۱۲منہ) (ترمذی،کتاب المناقب،باب فی من سب اصحاب النبی،۵/ ۴۶۳،حدیث:۳۸۸۸)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!