اسلام

قیامت کی نشانیاں

قیامت کی نشانیاں

(۱)عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَکْثُرَ الْجَہْلُ وَیَکْثُرَ الزِّنَا وَیَکْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَیَکْثُرَ النِّسَائُ حَتَّی یَکُونَ لِخَمْسِینَ امْرَأَۃَنِ الْقَیِّمُ الْوَاحِدُ۔ ()
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اُٹھالیا جائے گا۔ جہالت زیادہ ہوگی، زنا کاری اور شراب خوری کی کثرت ہوگی۔ مردوں کی تعداد کم ہوگی۔ عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔
(۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اتّخِذَ الْفَیْئُ دُوَلًا، وَالْاَمَانَۃُ مَغْنَماً، وَالزَّکَاۃُ مَغْرَماً، وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّیْنِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ اِمْرَاَتَہُ، وَعَقَّ أُمَّہُ، وَأَدْنَی صَدِیْقَہُ وَأَقْصَی أَبَاہُ، وَظَھَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِی الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِیْلَۃ فَاسِقُھُمْ، وَکَانَ زَعِیْمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَھُمْ، وَأُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَۃَ شَرِّہِ، وَظَھَرَتِ الْقَیْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُوْرُ، وَلَعَنَ آخِرُ ھَذِہِ الْأُمَّۃِ أَوَّلَھَا فَارتَقِبُوْا عَنْدَ ذَلِکَ رِیْحاً حَمْرَائَ وَزَلْزَلَۃً وَخَسْفاً
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ سرکار اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب غنیمت (صرف امرا کی) دولت ٹھہرائی جائے ، امانت کو مالِ غنیمت اور زکوۃ کو تاوان سمجھا جائے ۔ جب کہ علم کو دین کے لیے نہ حاصل کیا جائے ۔ مرد اپنی عورت کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا جب کہ آدمی اپنے دوست سے قریب ہوگا اور اپنے باپ کودور کرے گا۔ جب مسجدوں میں شور مچایا جائے گا ، قوم کا سردار ان کا فاسق ہوگا۔ اور جب قوم کا لیڈر ان میں کا کمینہ آدمی ہوگا اور آدمی کی عزت ان کی برائیوں سے بچنے کے لیے کی جائے گی۔ جب گانے والی عورتیں اور

وَّمَسْخاً وَقَذْفاً، وَآیَاتٍ تَتَابَعُ کَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْکُہُ فَتَتَابَعُ۔ (1)
(قسم قسم)کے باجے ظاہر ہوں گے (علانیہ) شراب پی جائے گی اور جب امت کے پچھلے لوگ اگلوں کو
برا کہیں گے تو اس وقت تم ان چیزوں کا انتظار کرنا۔ سرخ آندھی، زلزلہ ، زمین میں دھنسنا، صورتیں مسخ کرنا، پتھروںکا برسنا اور ( قیامت کی بڑی بڑی ) نشانیوں کا پے درپے ظاہر ہونا کہ گویا وہ موتیوں کی ٹوٹی ہوئی لڑی ہے جس سے لگاتا ر موتی گررہے ہیں۔ (ترمذی، مشکوۃ)
(۳) عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَکُونُ السَّنَۃُ کَالشَّہْرِ وَالشَّہْرُ کَالْجُمُعَۃِ وَتَکُونُ الْجُمُعَۃُ کَالْیَوْمِ وَیَکُونُ الْیَوْمُ کَالسَّاعَۃِ وَتَکُونُ السَّاعَۃُ کَالضَّرَمَۃِ بِالنَّارِ۔ (2)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمانہ ایک دوسرے کے قریب نہ ہوگا۔ (یعنی زمانہ کے حصہ جلد جلد گزر نے لگیں گے ) سال مہینہ کے برابر ہوجائے گا۔ مہینہ ہفتہ کے برابر۔ ہفتہ ایک دن کے برابر اور اس وقت ایک دن ایک ساعت
کے برابر ہوگا اور ساعت آگ کا ایک شعلہ ( اٹھ کر ختم ہوجانے ) کے برابرہوگی۔ (ترمذی، مشکوۃ)
(۴) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذْکُرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ قَالَ إِنَّہَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْا قَبْلَہَا عَشْرَ آیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّۃَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَنُزُولَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ
حضرت حذیفہ بن اسید غفار ی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم لوگوں کی گفتگو پر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطلع ہوئے تو فرمایا تم لوگ کیا بات کررہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم قیامت کا ذکر کررہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت نہ آئے گی جب تک کہ تم ان نشانیوں کو
وَیَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَۃَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِہِمْ وَفِی رِوَایَۃٍ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ وَفِی رِوَایَۃٍ فِی الْعَاشِرَۃِ وَرِیْحٌ تَلْقِی النَّاسَ فِی الْبَحْرِ۔ (1)
نہ دیکھ لو گے ۔ پھر ان نشانیوں کا ذکر کیا اور فرمایا دھواں، دجال ، دابۃ الار ض ۔ پچھم سے سورج کا نکلنا، عیسی ابن مریم کا نازل ہونا۔ یاجوج و ماجوج، تین مقامات پر زمین کا دھنسنا ، ایک مشرق میں دوسرے مغرب میں اور تیسرے جزیرئہ عرب میں۔ اور ان کا دسواں وہ آگ ہے جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر محشر یعنی ملک شام کی طرف لے جائے
گی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ عدن کے علاقے سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی اور ایک روایت میں دسویں نشانی ایک ہوا بیان کی گئی ہے جو لوگوں کو دریا میں پھینک دے گی۔ (مسلم، مشکوۃ)
(۵)عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ() قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَہُ جَنَّتُہُ وَنَارُہُ فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وجَنَّتُہُ نَارٌ۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا بہت کثرت سے بال ہوں گے ۔ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی۔ اس کی جہنم (حقیقت میں) جنت ہوگی اور جنت (حقیقت میں ) جہنم ہوگی۔ (مسلم ، مشکوۃ)
f عَنْ أَبِی سَعِیدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْمَھْدِیُّ مِنِّیْ أَجْلَی
حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ سرکار ِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مہدی میری اولاد

الْجَبْھَۃِ أَقْنَی الْاَنْفِ یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِیْنَ۔ (1)
میں سے ہے ۔ روشن و کشادہ پیشانی، بلند ناک، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح پہلے ظلم و ستم سے بھری تھی۔ اور وہ سات
برس تک زمین کا مالک رہے گا۔ (ابو داود، مشکوۃ)
(۷)عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی لَا یُقَالَ فِی الْأَرْضِ اللَّہُ اللَّہُ۔ (2)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت آئے گی جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہ جائے گا۔ (ابو داود، مشکوۃ)

انتباہ:

(۱)…قیامت کی چند نشانیاں جو احادیث مذکورہ میں بیان کی گئیں ہیں ان میں سے کچھ ظاہر ہوچکیں اور جو باقی ہیں وہ بھی یقیناً ظاہر ہوں گی۔ دجال کا فتنہ بہت سخت ہوگا ، وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا جو اس پر ایمان لائے گا۔ اسے اپنی جنت میں( جو حقیقت میںدوزخ ہوگی) ڈالے گا اور جو انکار کرے گا اسے دوزخ میں ( جو در حقیقت جنت ہوگی) ڈالے گا۔ مردے جِلائے گا زمین سے سبزہ اُگائے گا اور آسمان سے پانی برسائے گا اسی قسم کے بہت شعبدے دکھائے گا جو حقیقت میں سب جادو کے کرشمے ہوں گے ۔ اس کی پیشانی پرک، ف، ر لکھا ہوگا (یعنی کافر) جس کو ہر مسلمان پڑھے گا مگر کافر کو نظر نہ آئے گا۔ (1) (بہار شریعت)
(۲)…حضرت امام مہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ظاہر ہونے کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ رمضان شریف کا مہینہ ہوگا۔ ابدال کعبہ کے طواف میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مہدی بھی وہاں ہوں گے ۔ اولیائے کرام انہیں پہچانیں گے ان سے بیعت کی درخواست کریں گے وہ انکار فرمائیں گے تو غیب سے آواز آئے گی ’’ھَذَا خَلِیْفَۃُ اللَّہِ الْمَھْدِیُّ فَاسْمَعُوْا لَہُ وَأَطِیْعُوہُ‘‘ یعنی یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو۔ سب لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ، پھر وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر آپ ملک شام چلے جائیں گے ۔ (1) (بہار شریعت)
(۳)…حضرت عیسی علیہ السلام جامع مسجد دمشق کے شرقی منارہ پر آسمان سے اُتریں گے ، فجر کی نماز کا وقت ہوگا۔ حضرت امام مہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہاں موجود ہوںگے ۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام انہیں امامت کا حکم دیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اس وقت دجال لعین ملک شام میں ہوگا۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا۔ وہ بھاگے گا آپ اس کا پیچھا کریں گے اور اس کی پیٹھ میں نیزہ مار کر جہنم میں پہنچا دیں گے پھر بحکم الہٰی تمام مسلمانوں کو لے کر کوہِ طور پر چلے جائیں گے ۔ (2) (۲)(بہار شریعت)
(۴)…جب حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام مسلمانوں کے ساتھ پہاڑ پرمحصور ہوں گے تو یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا۔ یہ دنیا بھر میں فساد اور قتل و غارت کریں گے پھر آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے ۔ خدا تعالیٰ کی قدرت سے ان کے تیر اوپر سے خون آلود گریں گے وہ خوش ہوں گے ۔ وہ لوگ اپنی انہی حرکتوں میں مشغول ہوں گے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ان کی ہلاکت کے لیے دعا کریں گے ۔ خدائے تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کردے گا ایک دم میں وہ سب کے سب مرجائیں گے ۔ اب حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام تمام مسلمانوں کے ہمراہ پہاڑ سے اُتریں گے ۔ دنیا بھر میں اس وقت صرف ایک دین۔ دین اسلام اور ایک مذہب ، مذہب اہلِ سنت و جماعت ہوگا۔ چالیس برس تک آپ اقامت فرمائیں گے ۔ نکاح کریں گے اولاد ہوگی اور بعد وفات سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے روضئہ انور میں دفن ہوں گے ۔ (3) (بہار شریعت)
(۵)… دابۃ الارض ایک جانور ہوگا جس کے ہاتھ میں حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام کی انگوٹھی ہو گی۔ عصا سے ہر مسلمان کی پیشانی پر ایک نورانی نشان بنائے گا اور انگوٹھی سے

ہر کافر کی پیشانی پر ایک سیاہ داغ لگائے گا جو کبھی نہ مٹے گا جو کافر ہے ہرگز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے زندگی بھر اپنے ایمان پر قائم رہے گا ۔ (1) (بہار شریعت)
(۶)…حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی وفات کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامت کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے تو ایک خوشبودار ٹھنڈی ہوا چلے گی جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی جس کا اثر یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی روح قبض ہوجائے گی اللہ کہنے والا کوئی نہ بچے گا۔ کافر ہی کافر دنیا میں رہ جائیں گے ۔ چالیس برس تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوگی۔ یعنی چالیس برس سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا اب انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام صور پھونکیں گے سب مرجائیں گے ۔ آسمان، پہاڑ ، زمین یہاں تک کہ صور و اسرافیل اور تمام فرشتے فنا ہوجائیں گے سوائے اس واحد حقیقی کے کوئی نہ ہوگا۔ وہ فرمائے گا۔ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ یعنی آج کس کی بادشاہت ہے ۔ مگر ہے کون جو جواب دے پھر خود ہی فرمائے گا۔ لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ یعنی صرف اللہ واحد قہار کی سلطنت ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا ، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا۔ اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکنے کا حکم دے گا۔ صور پھونکتے ہی تمام اولین و آخرین ملائکہ اور انس وجن وغیرہ سب موجود ہوجائیں گے ۔ سب سے پہلے حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قبرِ انور سے یوں باہر تشریف لائیں گے کہ ان کے داہنے دستِ مبارک میں حضرت صدیق اکبر کا ہاتھ ہوگا اور بائیں دستِ مبارک میں حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا کا ہا تھ ہوگا۔ پھر مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے ۔
٭…٭…٭…٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!