Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پُر اَسرار جزیرہ

پُر اَسرار جزیرہ

حضرت سیدنا ابوہَیثَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم حضرت سیدنا عبداللہ بن غالب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے چند رُفقاء کے ساتھ بحری سفر پر روانہ ہوا،ہماری کشتی سمندر کے سینہ کو چیرتی ہوئی جانبِ منزل چلی جا رہی تھی۔ اچانک ہماری کشتی ایک جزیرہ کے قریب جا پہنچی، ہم نے وہاں کشتی روکی تو وہ ایک ویران اور بڑی ہولناک جگہ تھی وہاں ہمیں کوئی شخص نظر نہ آیا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس جگہ کو ضرور دیکھوں گا شایدیہاں کوئی عجیب وغریب شےئ نظر آئے۔چنانچہ میں کشتی سے اُتر ا اور اکیلا ہی اس پرُ اَسرارجزیرے کی طرف چل دیا، وہاں کامنظر بڑاہولناک تھا، مجھے نہ تو وہاں کوئی انسان نظر آیا نہ ہی کوئی گھر و غیرہ۔ پھرکچھ دور ایک گھر نظر آیا ، میں نے جان لیا کہ اس میں ضرور کوئی نہ کوئی رہتا ہوگا اور یہاں کوئی عجیب وغریب بات ضرو ر ہوگی کیونکہ اس ویرانے میں کسی گھر کا موجود ہونا ایک عجیب سی بات تھی۔
میں نے تہیہ کر لیا کہ اس گھر کے راز کو ضرور جانوں گا ، چنانچہ میں وہاں سے واپس اپنے دو ستوں کے پاس آیا او ران سے کہا:” مجھے تم سے ایک کام ہے، اگر تم اسے پورا کردو تو احسان ہوگا ۔”انہوں نے پوچھا :” بتائیے کیا کام ہے ؟” میں نے جواب دیا: ”آج رات ہم اسی جزیرہ میں قیام کریں گے اور صبح سفر پر روانہ ہوں گے۔” میرے رفقاء میری اس خواہش پر وہیں رات بسر کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ میں پھریہ سوچتے ہوئے اسی گھر کی طر ف چل دیا کہ جب رات ہوگی تو اس گھر میں رہنے والے ضرور یہاں آئیں گے اورمیں ان سے ملاقات کرلو ں گا ۔چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا پھر یہ سوچ کر میں اس گھر میں داخل ہوگیا کہ آخر دیکھوں تو سہی کہ اس میں کیا ہے ۔ میں نے اس چھوٹے سے گھر کو بالکل خالی پایا، اس میں صرف ایک گھڑا تھا اور وہ بھی بالکل خالی اور ایک بڑا سا تھال تھا جس میں کچھ نہ تھا ، ان کے علاوہ اس گھر میں کوئی شے نہیں تھی۔ میں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگا، جب سورج غروب ہوگیا اور رات نے اپنے پَر پھیلادیئے تو مجھے اچانک ایک آہٹ سی محسوس ہوئی اور پہاڑ کی جانب سے ہلکی ہلکی آواز آنے لگی، میں محتا ط ہو کر بیٹھ گیا اور غور سے اس آواز کو سننے لگا۔ یہ کسی نوجوان کی آوازتھی جو اَللہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللہِ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عزّوجل کی صدائیں لگاتا ہوا اسی گھر کی طرف آرہاتھا۔کچھ دیر بعد ایک پُر کشش نورانی شکل وصورت والانوجوان اس گھر میں داخل ہوا ، اس نے آتے ہی نماز پڑھنا شرو ع کردی اور کافی دیر نماز میں مشغول رہا،نماز سے فراغت کے بعد وہ اس بر تن کی طرف بڑھا جو بالکل خالی تھا ۔ نوجوان نے اس بر تن سے کھانا شرو ع کردیا حالانکہ میں دیکھ چکا تھا کہ وہ بر تن باکل خالی تھا لیکن وہ نوجوان اسی برتن میں سے نہ جانے کیا کھارہا تھا؟ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور گھڑے کی طرف آیا اور ایسا لگا گویا کہ اس میں سے پانی پی رہا ہو حالانکہ میں نے دیکھا تھا کہ اس گھڑے میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ، میں

بڑا حیران ہوا اور چھپ کر بیٹھا رہا ۔
اس نوجوان نے کھانے پینے کے بعد اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور دو بارہ نماز میں مشغول ہوگیا اور فجر تک نماز پڑھتا رہا، فجر کے وقت مجھ سے رہانہ گیا پس میں اس کے سامنے ظاہر ہوگیا۔ اس کی اِقتداء میں نماز فجر ادا کی ،نماز کے بعد وہ نوجوان مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:” اے اللہ عزوجل کے بندے !تُو کون ہے اور میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں کیسے داخل ہوگیا؟” میں نے کہا :”اے مردِ صالح! اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے میں کسی برُی نیت سے یہاں نہیں آیا بلکہ میں تو بھلائی ہی کے لئے یہاں آیا ہوں، مجھے چند باتوں سے بڑی حیرانی ہوئی ہے ، میں نے آپ کے آنے سے پہلے گھڑے کو دیکھا تھا تو اس میں پانی بالکل نہ تھا لیکن آپ نے اسی میں سے پانی پیا ، اسی طر ح جس بر تن سے آپ نے کھانا کھایا وہ تو باکل خالی تھا پھر آپ نے کیسے کھانا کھایا؟میرے لئے یہ باتیں بڑی حیران کن ہیں ۔” یہ سن کر وہ نوجوان کہنے لگا : ”تم نے بالکل ٹھیک کہا کہ وہ بر تن اور گھڑا خالی تھا لیکن میں نے جو کھانا اس برتن سے کھایا وہ ایسا کھانا نہیں جسے لوگ طلب کرتے ہیں ،اسی طرح میں نے جو پانی پیا وہ ایسا نہیں جیسا لوگ پیتے ہیں ۔”
یہ سن کرمیں نے اس نوجوان سے کہا :” اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو تازہ مچھلی لاکر دو ں”؟ نوجوان کہنے لگا:” کیاتم مجھے (دنیوی)غذ ا کی دعوت دے رہے ہو؟” میں نے کہا:” اے نوجوان! اس اُمت کو یہ حکم نہیں دیا گیاجیسے آپ کر رہے ہیں بلکہ ہمیں تو یہ حکم دیا گیا کہ جماعت کے ساتھ رہیں ،مساجد میں حاضر ہوں ،باجماعت نماز کی فضیلت حاصل کریں، مریضو ں کی عیادت کریں، مسلمانوں کے جنازوں میں حاضر ہوں اور مخلوقِ خدا عزوجل کی خیر خواہی کریں، لیکن آپ نے یہ سب کام چھوڑکر گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے اور ان سعادتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔”یہ سن کر وہ نوجوان کہنے لگا :” آپ نے جوباتیں ذکر کیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل مجھے وہ تمام سعادتیں حاصل ہیں ، یہاں قریب ہی ایک بستی ہے جہاں جاکرمیں عوام النا س کی خیر خواہی بھی کرتا ہوں اورآپ کے ذکر کردہ باقی اُمور بھی سرانجام دیتا ہوں۔” اتنا کہنے کے بعد اس نوجوان نے ایک پرچہ پر کچھ لکھا اور پھر زمین پر لیٹ گیا میں سمجھا کہ شاید اس کا اِنتقال ہوگیا ،قریب جا کر دیکھا تو وہ واقعی خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملے تھے ۔جب ان کی قبر کھودی گئی تواس سے مُشک کی خوشبوآرہی تھی ۔
(اللہ ل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!