Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نماز میں قرأ ت میں غلطی ہوجانے کا حکم

قرأ ت میں غلطی ہوجانے کا بیان

اس میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ جائیں تو نماز فاسد ہوگئی ورنہ نہیں ۔
مسئلہ۲۲: ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا اگر اِس وجہ سے ہے کہ اس کی زبان سے وہ حرف ادا نہیں ہوتا تو مجبور ہے اس پر کوشش کرنا ضروری ہے اور اگر لاپرواہی سے ہے جیسے آج کل کے اکثر حفاظ و علماء کہ ادا کرنے پر قادر ہیں مگر بے خیالی میں تبدیل حرف کردیتے ہیں تو اگر معنی فاسد ہوں نماز نہ ہوئی اِس قسم کی جتنی نمازیں پڑھی ہوں اُن کی قضا لازم ہے۔
مسئلہ۲۳: ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، اء ع، ہ ح، ض د، اِن حرفوں میں صحیح طور پر امتیاز رکھیں ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی اور بعض تو س، ش، ز، ج، ق ک میں بھی فرق نہیں کرتے۔ (بہار شریعت)

جس سے حروف صحیح ادا نہ ہوتے ہوں وہ کیا کرے؟

جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ حروف صحیح کرنے میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح پڑھنے والوں کے پیچھے پڑھ سکتا ہو تو جہاں تک ہوسکے اُن کے پیچھے پڑھے یا وہ آیتیں پڑھے جن کے حروف صحیح ادا کرسکتا ہو اور یہ دونوں باتیں ممکن نہ ہوں تو کوشش کے زمانے میں اُس کی اپنی نماز ہوجائے گی اور اُس کے پیچھے اس جیسوں کی بھی۔ (درمختار، ردالمحتار، بہار شریعت وغیرہ)
مسئلہ۲۴: جس نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم میں عظیم کو عزیم، ظ کے بجائے ز پڑھ دیا تو نماز جاتی رہی لہٰذا جس سے عظیم صحیح ادا نہ ہو وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم پڑھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!