تبصرہ

“بلگام تاریخ کے آئینہ میں” ایک ایسی مستند کتاب ہے جو کتاب لکھنے والے جناب  عبد الصمد خانہ پوری کی محنتوں کی عکاس ہے، اسکے زریعہ جناب ع صمد خانہ پوری نے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے درج کرالیا ہے ۔میری قوم کے وہ افراد جو بصیرت کا چراغ لیکر آگے کو چل نکلیں گے تو انکے لیےء یہ کتاب مشعل راہ، زاد راہ،اور منزل کو تعین کرنے والے کمپاس کا کام کریگی ۔سب سے پہلے میں جناب ع الصمد خانہ پوری صاحب کو اس بیش بہا  محنت، کتاب کی اشاعت و اجراء کے لیےء دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔دعا ہے آپ اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن بھی نکالیں اور آپ کو رب مہربان کی جانب سے صحت و سلامتی بھی عطا ہو بحیثیت ِ مبصر ،کتاب کے کل نو ابواب کو میں نے تین حصوں میں دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔*تاریخ بلگام ۔۔۔۔ایک محقق اور مورخ کی نگاہ سے *بلگام کے علماء اور اولیائے کرام *بلگام کی علمی ادبی تحریکیں، صحافت، اور بلگام کے ادباء و شعراء مندرجہ بالا کتاب لکھتے وقت جناب ع الصمد خانہ پوری نے اپنے تمام تر وسائیل کو بروے کار لانے کی کوشش کی ہے ۔تحقیق و جستجو کے لئے انہوں نے جو عرق ریزی کی ہے وہ بے مثال ہے ۔اس کے لئے انہوں مندرجہ ذیل چیزوں سے استفادہ کیا ہے ۔1۔۔۔۔تاریخ بیجاپور دکن از مولوی بشیر الدین احمد 2۔۔۔تاریخ دکن ۔از ابن فرشتہ 3۔۔۔۔بلگام گزیٹئر 4۔۔کچھ حوالہ جات انگریزی مورخین کی کتابوں سے 5۔۔۔بلگام کے قلعہ، درگاجات، تاریخی عمارتوں پر لگے کتبے، تانبے کی تختیاں اور پتھروں پر کنندہ لکھائی6۔۔۔۔ان سیاحوں کے تذکرے جنہوں نے بلگام کو اپنی سیاحت کا مقام بنایا اور اپنے تذکروں میں اسکا ذکر کیا۔بلگام کی تاریخ کو موہنجادرو ہڑپہ کی تاریخی ادوار سے جوڑنے کی سعی کرتے ہوئے سلسلہ وار انہوں نے بلگام پر حکومت کرنے والے تمام تر حکمرانوں کا ذکر کیا ہے ۔، کدمبا، چولا، چالوکیہ، عادل شاہی، مراٹھا، مغل سلطنت، پیشوا، ٹیپو سلطان، نظام حیدر آباد سے ہوتے ہوئے انگریزی حکمرانوں تک پہنچ کر جنگ آزادی، آزادی کے مجاہدین، انکا کردار اور تفصیل، پھر آزادی کے بعد ضلع کلکٹران، مراٹھی اور کنڑی زبان کے تنازعہ میں بلگام میں ہوئی سیاسی تحریکیں، بلگام کا سرحدی تنازعہ، عدالت عظمیٰ کا کردار، بلگام ودھان سودھ کی تعمیر اور اسکے اجلاس کے ذکر تک کی تاریخ کو انہوں نے سمیٹنے کی بہترین کوشش کی ہے ۔تاریخ نویسی آسان کام نہیں ہے، اسکے لیےء جگر کو پانی کرنا، آنکھوں کو پتھر کرنا، اور دماغ کی چولیں ہلانا پڑتی ہیں، تب کہیں جاکر تاریخ کا ایک صفحہ مرتب کیا جاسکتا ہے ۔تاریخ مرتب کرنے کے لئے جتنے حوالہ حات کی ضرورت ہوتی ہے شاید ہی کسی اور علم کے لیےء ہوتی ہو ۔جناب عبد الصمد خانہ پوری بہ حیثیتِ محقق کامیاب ہوکر ابھرے ہیں ،کیونکہ انکے تمام تر ریفرنسس کو میں نے پرکھا ہے اور تمام تر سچ پر مبنی ہیں، اس  لئے کہ اوپر کے تمام حوالے میرے اپنے مطالعہ کا حصہ ہیں ۔بہ حیثیتِ مورخ انکی دوسری خوبی انکی غیر جانبداری اور، اور جذبات سے عاری موّرِخانہ لہجہ ہے ۔جو سچ کو بالکل مصفا شکل میں پیش کرتا ہے ۔تاریخ بیان کرتے وقت جب وہ شیواجی، ہندو راجاؤوں، ہندو مہاسبھا، سوامی وویکا نند ۔منادر کی تعمیر اور توسیع کا ذکر کرتے ہیں، تو کہیں بھی انکے لہجہ میں تعصب یا انکی مسلمانی نہیں جھلکتی ۔،ایک ذمہ دار انسان، غیر جانبدار تاریخ دان، ایک مفّکر،ایک روادار انسان کی طرح انہوں نے اپنے لہجہ اور اپنی زبان کو ٹھوس رکھا ہے ۔جس سے قاری کو مورخ کی انسان پروری صاف دکھائی دیتی ہے ۔اس ضمن میں، سلطنت خداد کا حوالہ دینا چاہونگی، جسے جناب محمود بنگلوری نے لکھا ہے ۔جناب محمود بنگلوری نے جب جب حضرت ٹیپوسلطان رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کیا وہاں انکا لہجہ اتنا رقت آمیز ہوگیا، کہ قاری کی آنکھیں بھر آئیں ۔ٹیپو کی عقیدت مندی تاریخی حقایق پر بھاری پڑتی صاف دکھائی دیتی ہے ۔۔جناب ع الصمد خانہ پوری کی غیر جانبداری، نہ صرف قابل ستائش ہے، بلکہ انکے بہترین محقق و مورخ ہونے کی گواہ بھی ہے ۔کتاب کی ایک اور خوبی ہے اسکا تسلسل ۔مورخ نے واقعات کی ابتداء جہاں سے کی وہ قدیم تہذیبی دور تھا ۔پھر چھوٹے موٹے راجا جو بلگام پر حکومت کرتے رہے ۔بلگام کے نام کا ،ہر حکمران اور زیر سلطنت تبدیل ہونا ایک دلچسپ داستان ہی ہے۔ واقعات کا تسلسل اتنا واضح اور صاف ہے کہ ایک عام قاری بھی اس تاریخ کو نہ صرف آسانی سے سمجھ سکتا ہے بلکہ یاد بھی رکھ سکتا ہے ۔تاریخی تفصیل اتنی آسان ہے کہ تاریخ ایک ناٹک کی صورت زندہ ہوکر ہماری چشم تصور میں پھیل جاتی ہے ،جس کا ہر منظر اپنے پس منظر کے ساتھ واضح ہوکر تخیل میں نکھر آتا ہے ۔اپنی بات کی دلیل کے لئے میں تاریخ ابن فرشتہ اور تاریخ بیجاپور دکن از مولوی بشیر الدین احمد کا حوالہ دونگی جہاں قاری کو واقعاتی تسلسل کی کمی کے باعث بات کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے ۔اور واقعات کی کڑیوں کو جوڑنا ہی ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔مندرجہ بالا کتاب اس سقم سے مبّرا ہے ۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کتاب ِ ھٰذا کا مواد اور کینوس اتنا وسیع نہیں جتنا کہ مذکور دو اور تواریخ کا ہے ۔
بحیثیت مورخ آپ نے جو زبان استعمال کی ہے وہ سادہ، سلیس، آسان اور عام فہم ہے ۔کتاب کی زبان عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ سے مبّرا ہے اسلیےء عام انسان کا ادراک بھی کتاب کو بہ آسانی جذب کرسکتا ہے ۔ کتاب کی ابتداء میں ایک جملہ لکھا ہوا ہے ۔”مادر وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے “جس نے موصوف کو کتاب لکھنے کی طرف توجہ مبذول کروائی ۔بلگام کے تمام تر حکمرانوں نے اور خاصکر مسلمانوں نے بلگام کی تعمیر و تشکیل میں اہم رول ادا کیا اور مادر ِ وطن سے اپنی محبت کا حق ادا کیا۔اسی حوالے سے ایک اور حدیث یاد آگئی “بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنی تاریخ سے اپنی جڑیں کاٹ لیں “اس حدیث کے  پس منظر میں کتاب کو پڑھتے وقت ایک جملہ میرے ذہن میں اُپجا ۔۔۔خوش بخت ہے وہ شخص جو تاریخ سے اپنی جڑیں جوڑتا ہے اور دوسروں کو بھی روشناس کرواتا ہے ۔تاریخ مرتب کرنا نہ صرف سنت ہے، بلکہ عین عبادت بھی ہے، جسکی پیروی نہ صرف خلفائے راشدین نے کی بلکہ ان کے ساتھ تابعین اور تبع تابعین نے کی ،پھر دیگر آئمہ کرام نے اس فن کو زندہ رکھا ۔جب مسلمانوں نے اس سے کنارہ کشی کرلی تو انگریزوں نے اس فن کو اٹھالیا اور وہ اپنے آباء کی تاریخ لکھنے لگے ۔جناب ع الصمد خانہ پوری نے نہ صرف اس ذمہ داری کو اٹھایا، بلکہ تاریخ نویسی کے فن کو جِلا دی اور بلگام کی عوام کی طرف سے ایک فرض کفایہ بھی ادا کردیا۔جسکے لئے بلگام کے لوگ ہمیشہ موصوف کے احسان مند رہیں گے ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر میری ایک ذاتی رائے یہ ہے کہ اس کا ترجمہ ریاستی زبان کنڑا، قومی زبان ہندی، بین الاقوامی زبان انگریزی اور پڑوسی ریاستی زبان مراٹھی میں بھی کروایا جائے تاکہ کثرت سے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں ۔خاصکر میری آنے والی وہ نسل بھی اسے پڑھ سکے جو بعض حالات کی وجہ اردو سے نابلد ہوتی جارہی ہے ۔دوسری رائے یہ بھی ہے کہ کتاب کا وہ حصہ جس میں مجاہدین ِ آزادی کا ذکر ہے، جس پر موصوف نے لکھا کہ بہ سبب طوالت ادھوری ہے ،اسے مکمل کرواکر اشتہار یا اخباری ضمیمہ کی شکل میں تین یا چار زبانوں میں شایع کر عوام میں بڑے پیمانے پر تقسیم کروایا جائے، تاکہ احساس کمتری میں مبتلا قوم، اور پیچھے دھکیلے جاتے نوجوان فخر سے کہہ سکیں کہ اس وطن کی مٹی کی سینچائی میں انکا خون بھی شامل ہے وہ مجاہدین آزادی تو ہوسکتے ہیں لیکن دہشت گرد نہیں ۔کتاب کا دوسرا حصہ اولیائے دکن (بلگام )پر مشتمل ہے .یہاں پر بھی جناب نے بڑی تفصیل کے ساتھ نہ صرف اولیائے کرام کی ذات، حیات، خدمات کا ذکر کیا ہے بلکہ انکے مقبرہ جات کی تصاویر رنگین عکسی صفحات میں شایع کرواکر اپنی عقیدت مندی کا ثبوت بھی دیا ہے ۔بلگام کے تمام ترمساجد کی تعمیر و توسیع، قلعہ اور دیگر عمارات کی تعمیر و توسیع اور درستی کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے ۔اس سے بڑھ کر تمام تاریخی منادر اور گرجا گھروں کی تعمیر کا ذکر بھی تفصیلاً موجود ہے ۔ایک اور قیمتی رائے یہ ہے کہ ان تمام آثار قدیمہ، درگاہ جات، منادر، مساجد، گرجے، قلعہ، باقیات، کھنڈرات کی گوگل میپنگ (گوگل کے زریعہ نقشہ کاری) کرواکر اگر وکی پیڈیا یا گوگل پر لگادی جائے تو مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے، اور بابری مسجد جیسا واقعہ پیدا ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے، جس سے حکومتیں بنائی اور بگاڑی جاتی ہیں ۔اور سیاسی بازار گرم رہتے ہیں ۔کتاب کا تیسرا حصہ ادبی افادیت سے تعلق رکھتا ہے پہلی ادبی افادیت یہ ہے کہ آپ نے حوالے کے ساتھ لکھا ہے  “ابراہیم عادل شاہ نے فارسی کو ترک کرتے ہوئے دکنی اردو کو درباری زبان کے عہدے پر فائز کیا اور دربار و حکومت کے تمام ترمعاملات دکنی اردو میں لکھے جانے لگے ۔”یہ بہت بڑی ادبی خدمت ہے جو موصوف نے انجام دی ہے جس سے ہماری نسل آگاہ رہیگی ۔دوسرا واقعہ یہ لکھا گیا ہے کہ بیل ہونگل کے مجاہد آزادی سنگولی رایناّ کی حیات پر لکھا گیا ناول جس پر فلم بنی جس کی کردار نگاری اداکار درشن نے کی ہے ۔تیسرا ادبی حوالہ حضرت اسد اللہ خان لاری رحمتہ اللہ علیہ کے ذکر میں آیا ہے جو کہ ابراہیم عادل شاہ کے سسر تھے ۔اور عادل شاہی حکومت کے استحکام میں جنہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔ان کی ذات کو تاریخی کردار بناکر محترم احسن ممتاز نے دوتاریخی ناول لکھے “غدار کی واپسی ” “جاں باز کنیز “..جو ماہنامہ” تاریخی داستان” میں قسط وار شایع ہوئے اور بہت مشہور ہوئے ۔یہ ایک بہت بڑا ادبی تاریخی حوالہ ہے جو ادب کی خاک چھاننے والوں کے لئے کیمیا ہے ۔اسکے بعد بلگام میں آزادی کے بعد ہوئی تاریخی، ادبی و لسانی تحریکوں پر کافی تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے ۔ان تمام اداروں کا ذکر کیا ہے جو تعلیم کو عام کرنے اور عوامی بیداری مہمات میں لگے ہیں ۔بلگام میں شایع ہونے والے تمام اخبارات کی عکسی تصاویر دی گیء ہیں اور انکی تفصیلات درج ہیں ۔تمام جوہران صحافت کا ذکر بھی ہے، جنہہوں نے اخبارات کو چلاتے چلاتے خود کو خاک کر ڈالا ۔ان تمام ادباء اور شعراء کا ذکر بھی ہے جنہوں نے ادبی سرزمینِ بلگام کی آبیاری کی ۔آخر میں ان تمام بنکس اور امداد باہمی سے چلنے والے اداروں کا ذکر ہے جن پر بلگام کی معیشت چلتی ہے ۔کتاب “بلگام تاریخ کے آئینہ میں “مصنف جناب ع الصمد خانہ پوری کے والدِ مرحوم محی الدین صاحب محمد صاحب خانہ پوری کے نام منسوب ہے ۔کتاب کی ضخامت 250صفحات پر مبنی A5 سائیز پر چھپی کتاب  کی قیمت 250روپیہ ہے اشاعت کا کاغذ معیاری نہیں ہے نہ ہی بائنڈنگ عمدہ ہے ۔مگر سر ورق دیدہ زیب ہے، اور تاریخی تصاویر سے مزئین ہے ۔اسکے مالکانہ حقوق جناب ع الصمد خانہ پوری کے پاس موجود ہیں ۔کتاب کی اشاعت اشرفی پرنٹرس ہبلی نے کی ہے۔ کتاب ملنے کا پتہ اقبال بک ڈپو بھینڈی بازار بلگام فون 09844175764مومن بک ڈپو بھینڈی بازار بلگام فون 08880932949عبد الصمد خانہ پوری فون 9880924402مبصر
مہر افروز
الرحمٰن
تھرڈ فیز کے ایچ بی کالونی
ڈی این کوپّ دھارواڑ 580008
کرناٹک
انڈیا

Advertisement

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!