Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مشترکہ ہدایات برائے تربیت ِاولاد

مشترکہ ہدایات برائے تربیت ِاولاد

تربیت اولاد کی تفصیل تو علامہ فیض احمد اویسی نے اپنی دوتصانیف’’ہدیۃ العباد فی تربیت الاولاد‘‘ اور’’نفع العباد فی تربیۃ الاولاد‘‘میں لکھ دی ہے یہاں چند ہدایات بقدر ضرورت عرض کردوں۔
سب کو معلوم ہے کہ انسان کی پیدائش مادہ منویہ سے ہوتی ہے اوراس مادہ کی اصل خوراک ہے اگرخوراک حلال کمائی سے ہے توبچے غوث جیلانی اوررابعہ بصریہ اورمعین اجمیری رحمۃ اﷲ علیہم جیسے پیدا ہوتے ہیں۔ ورنہ ڈاکو ،چور اورلفنگے، بدمعاش وغیرہ ۔فلہٰذا ماں باپ دونوں کوچاہیے کہ نیک اولاد کی پیدائش کی خواہش میں پہلے اپنی اصلاح فرمائیں یہی وجہ ہے کہ شریعت مطہرہ کاحکم ہے کہ مرد نیک صالح عورت سے نکاح کرے اورعورت نیک صالح مرد سے۔
جن بندگانِ خدا کو نکاح جیسی دولت نصیب ہوتو وہ جماع (صحبت )میں ذیل کی ہدایات پرعمل کریں۔
۱) جماع سے نیک اولاد کی پیدائش کی نیت ہو۔
۲) جماع سے قبل زن وشوہر نماز کاوضو کرلیں۔
۳) کسی ایسے تنہا مکان میں جہاں کسی کاوہم وگمان نہ ہو، بہتر وقت شب کا آخری
حصہ اورشبِ جمعہ ہو۔
۴) قبلہ رُو نہ ہو ۔
۵) جماع سے پہلے زن وشوہر یہ دعاپڑھیں:اَللّٰھُمَّ جَنِّبِ الشَّیْطَانَ وَجَنِّبْنَا عَنْہٗ ۔
(ورنہ شیطان شریک ہوتاہے اوربچہ ام الصبیان اورمرگی کے مرض میں مبتلا
ہوتا ہے ۔) (کذافی حواشی النبراس)
۶)جماع کے وقت کسی نیک بزرگ کا تصوربندھا ہو۔
۷) بعد فراغت اگر لڑکے کی پیدائش کاارادہ ہوتو عورت فوراً دائیں پہلو پر لیٹ جائے اگر لڑکی
کاارادہ ہو تو بائیں کروٹ اگر اولاد کی پیدائش کاارادہ نہ ہوتو عورت فوراً سیدھے پائوں کھڑی ہوجائے۔
۸) بعد فراغت تھوڑی دیر بعد غسل کرلیں اس میں صحت وتندرستی بھی ہے اور
مرتے وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بھی زیارت ہوگی ۔ورنہ کم از کم وضو
ضرور کرلیں۔ (کذافی الحاوی للفتاوی للسیوطی)
۹)جماع کے وقت باتیں نہ کریں۔ (کذافی کتب الطب)
انتباہ
اولاد کی کثرت کے خطرہ سے منصوبہ بندی کی ادویہ استعمال کرنا حرام اورسخت حرام ہے۔اولادایک نعمتِ عظمیٰ ہے اس کی روک تھام اللہ تعالیٰ کی غیر ت کو چیلنج کرنا ہے وہ بے نیاز ہے اس کی قدرت کاکون مقابلہ کرسکتا ہے پھر کل قیامت میں اپنے نبی کریم ﷺ کے سامنے رسوائی سوا۔حضور نبی اکرم ﷺکثرت اولاد سے خوش ہوتے ہیں ۔(اس کے لیے فقیر کا رسالہ ’’قہر خداوندی درعمل منصوبہ بندی‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے ۔)
کما قال علیہ السلام تناکحواوتناسلوا فانی اُباھی بکم الا مم یوم القیامۃ۔شادیاں کرواوربہت بچے جنو۔کل قیامت میں تمہاری کثرت سے دوسری امتوں پر فخر کروںگا۔
جب نطفہ ماں کے پیٹ میں ٹھہر جائے توعورت اپنی غذا میں حلال کھانے پینے کی خصوصی احتیاط کرے اوریاد الٰہی اورعبادت خداوندی کی کثرت کرے تا کہ اس کے نیک اثرات بچہ پر پہونچیں۔ (ایسا کرنے سے اولاد وَلی پیدا ہوتی ہے)
مزید مشترکہ ہدایات
۱) دنیا کا ہر انسان انبیاعلیہم السلام ہوں یا اولیائے کرام ہوں ،شاہان ِ زماں ہو ں یابہادران دوراں سب کو بچپن سے گزرنا پڑا اورچونکہ انسان کا بچپن ہی آنے والی زندگی کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔ اسی لیے اکثروبیشتر بچپن سے ہی اس کے آثار نمودار ہوتے ہیں اسی لیے ماں باپ پر لازم ہے کہ بچپن
سے ہی بچے کی اچھی تربیت کریں۔
۲) جوبات بچپن میں ہی اثر کرجاتی ہے وہ نقشِ پتھر ہوتی ہے اسی لیے والدین کافرض ہے کہ بچوں کے سامنے ایسے اقوال وافعال اورطوراطوار پیش کریںجن سے وہ تمہاری عمر میںآکران ہی خطوط پرزندگی بسرکریں بالخصوص ماںکادودھ بچے کے لیے اچھے کردار ،تربیت اوربہترین زندگی کا سرمایہ ہے اسی لیے کہاجاتا ہے کہ ’’ انسان کا پہلا استاد ماں کی گود ہے۔‘‘
۳) بچے جب سنِ شعور کوپہونچیں توانہیں نیک لوگوں کے حالات سنائے جائیں۔
فقیر کوتاحال یاد ہے کہ فقیر کے والد گرامی رحمۃ اﷲ علیہ مجھے اورمیرے برادر محترم کورات اوردن کے فارغ اوقات میں حضور نبی پاک شہِ لولاک ﷺ اوردیگر انبیا علیہم السلام ،صحابہ کرام، اہلِ بیت اور اولیائے کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات اورحالات سناتے رہتے جس کی برکت ہوئی کہ فقیر بچپن سے ہی تحصیلِ علوم اسلامیہ اورحفظ القرآن سے نوازاگیا۔اورالحمدﷲبلاتکلّف چھوٹی عمر میں اور تھوڑے سے عرصہ میں حفظ القرآن اورعلومِ عربیہ اسلامیہ سے بہرہ ور ہوگیا تھا ۔
۴) سنِ شعور سے ہی اپنے بچوں ،بچیوں کے سامنے ایسے قول وفعل نہ کرے کہ وہ آئندہ چل کر اپنی طبائع کو برائیوں کی طرف مائل کردے۔
۵)خود پڑھا لکھا ہے تو الحمدﷲ ورنہ کسی نیک سُنّی بزرگ سے علم دین پڑھانا شروع کرادے یاکسی قریبی دینی درس گاہ میں داخل کرادے کیونکہ اولاد کے حقوق میں یہ بھی ہے کہ اولاد کوعلم دین پڑھائے اوراس کی اسلاف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی سیرت پر تربیت فرمائے ۔حضرت شیخ سعدی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ؎
۱) بخردی درشن زجرد تعلیم کُن
بہ نیک وبدش وعدہ وبیم کُن
۲) بیا موز پر وردہ رادست زنج
وگردست داری چوقارون گنج
۳) بپایاں رسد کیسٔہ سیم وزر
نگرودتہی کیسٔہ پیشہ ور
۱) بچپن سے ہی اسے تعلیم دے اوراس وقت اسے نشیب وفراز سمجھا۔
۲) اپنے پروردہ کو کاروبار میں لگا دے اگرچہ تیرے ہاتھ میں قارون کاخزانہ ہے۔
۳) کیونکہ بالآخر سیم وزر کی تحصیل ختم ہوجائے گی لیکن پیشہ(علم) والے کی جیب ختم نہ ہوگی۔
جب بچہ پیدا ہوتو چاہیے کہ اللہ عزوجل کے کسی مقبول اورصالح بندے کے پاس اس کو لے جائیں اس کے لیے خیرو برکت کی دعائیں بھی کرائیں اورتحنیک بھی کرائیں یہ ان سنتوں میں سے ہے جس کا رواج بہت کم ہی رہ گیا ہے۔
حالانکہ یہ اہم سنت ہے اوراسی سے ہی بچہ کی قسمت کاستارہ روشن ہوتا ہے۔
حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اﷲ علیہ کووالدہ نے بچپن کے دوران فرمایا بیٹا نماز پڑھا کروعرض کیا کہ نماز سے کیا ملے گا فرمایا شکر۔
حضرت باباگنج شکر رحمۃ اﷲ علیہ نے نماز پڑھنا شروع کردی توروزانہ نماز کے بعد شکر کی پڑیا والدہ مصلّٰی کے نیچے رکھ دیا کرتی ایک دن نہ رکھ سکیں تواللہ عزوجل نے مصلّٰی کے نیچے سے شکر کادریابہا دیا۔اسی لئے آپ کو ’’ گنج شکر‘‘ کہاجاتا ہے ۔یہ سب کچھ والدہ مرحومہ کی تربیت سے ہوا ۔

error: Content is protected !!