Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

میزبان ہوتوا یسا

حکایت نمبر372 : میزبان ہوتوا یسا۔۔۔۔۔۔!

حضرتِ سیِّدُناابو عاصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد بیان کرتے ہیں: ایک بار حضرتِ سیِّدُنا قَیْس بن سَعْدعلیہ رحمۃ اللہ الاحد نے فرمایا: ”کاش! میں اس شخص کی طرح ہوجاؤں جسے میں نے دیکھا تھا ۔” پھر اپنا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا:
” ایک مرتبہ ہم چند رفقاء شام سے واپس آرہے تھے۔ جب ہمارا گزر ایک خیمے کے قریب سے ہوا تو ہم نے کہا :” اگر اجازت مل گئی تو ہم یہاں قیام کرلیں گے۔ ہم خیمے کے پاس پہنچے تو اندر سے ایک عورت آئی ہم نے کہا :” ہم مسافر ہیں، اگر آپ اجازت دیں تو ہم یہاں قیام کرلیں ۔ ” ہم یہ گفتگوکر ہی رہے تھے کہ ایک شخص عمدہ اونٹنی لے کر ہمارے پاس آیا۔ اس نے آتے ہی اس عورت سے پوچھا:” یہ کون ہیں ؟” عورت نے کہا :”مسافر ہیں، آپ کے مہمان بننا چاہتے ہیں ۔” یہ سنتے ہی اس نے فوراً اپنی اونٹنی کو گِراکر کہا: ”اسے نَحْر کرو اور کھالو، یہ سب تمہارے لئے ہے۔” ہم نے اونٹنی نحر کی اور سارے قافلے والوں نے مل کر

اس کا گوشت کھایا۔ دوسرے دن پھر وہ ایک بہترین اونٹنی لے کر آیا اسے گر ایا اور کہا :” اے اہلِ قافلہ! آؤ، اسے نحر کرو۔” ہم نے کہا: ” ابھی ہمارے پاس کل کا بچا ہوا بہت سا گو شت موجود ہے ۔ ”
اس نے کہا: ” ہم اپنے مہمانوں کو باسی گوشت نہیں کھلاتے، جلدی سے اُسے ذبح کرو اور تازہ گوشت کھاؤ۔” ہم نے اُسے ذبح کیا اور عمدہ گوشت کھایا۔ پھر میں نے اپنے رفقاء سے کہا: ”اگر ہم اس شخص کے ہاں ٹھہرے رہے تو ایک ایک کر کے یہ اپنے تمام جانور ذبح کر دے گا۔ بہتریہی ہے کہ ہم یہاں سے آگے چل پڑیں۔ ”چنانچہ، ہم نے سامان سمیٹا، کجاوے کَسے اور چلنے کی تیاری کرنے لگے ۔ میں نے اپنے خادم سے کہا:” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ جمع کرو ۔” اس نے کہا:”حضور! چا ر سو درہموں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔” میں نے وہ درہم اورجوکچھ رقم میرے پاس تھی سب جمع کر کے اپنے اس میزبان کے ہاں بھجوادی ۔”اس وقت خیمے میں صرف عورت تھی ۔ میزبان کہیں گیا ہو اتھا ۔ ہم نے ساری رقم اس عور ت کو دی اور اپنی منزل کی طرف چل دیئے۔
ابھی ہم کچھ دور چلے تھے کہ تیزی سے کسی سوار کواپنی جانب آتے دیکھا ۔ میں نے رفقاء سے کہا:” یہ کون ہے ؟” انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔قریب آنے پر معلوم ہواکہ یہ تو ہمارا میزبان ہے۔وہ ہاتھ میں نیزہ لئے بڑی تیزی سے ہمارے قریب آرہاتھا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا:” ہم نے جو رقم دی تھی وہ بہت تھوڑی تھی۔ شاید قلیل رقم کی وجہ سے ہمارا میزبان ناراض ہوگیا اس لئے نیزہ لئے آرہا ہے ۔” اتنے میں وہ بالکل قریب پہنچ گیا اور ہماری رقم واپس کرتے ہوئے کہا:” اپنی رقم واپس لے لو، ہم یہ ہر گز نہیں لیں گے۔” میں نے کہا :” بخدا! ہمارے پاس اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں جو کچھ تھا سب جمع کر کے تمہیں پیش کر دیا۔” یہ سن کر اس میزبان نے کہا :” خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک تم یہ رقم واپس نہ لے لو۔”ہم نے کہا: ” ہم اپنی دی ہوئی رقم واپس نہیں لیں گے ہم نے بخوشی یہ رقم تمہیں دی ہے ۔” عظیم میزبان نے کہا:” خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تُم یہ رقم واپس لے لو ورنہ اس نیزے سے تمہاری خبر لوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی بھی باقی نہ بچے گا۔” ہم نے اس کا اصرار وغصہ دیکھ کر رقم لینے میں ہی عافیت سمجھی۔ رقم دے کر وہ فوراًواپس چلاگیا۔جاتے وقت اس کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے: ”ہم مہمان نوازی کی قیمت نہیں لیتے۔ ہم مہمان نوازی کی قیمت نہیں لیتے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!