Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

میرا دِل اُسے قبول نہیں کرتا

حکایت نمبر225: میرا دِل اُسے قبول نہیں کرتا

حضرتِ سیِّدُناجنید بن محمد علیہ رحمۃاللہ الاحد نقل فرماتے ہیں: ”میرے چچاحضرت سیِّدُناحَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث بہت زیادہ غمگین رہنے والے بزرگ تھے۔ایک مرتبہ میں اپنے گھر کے دروازے کے قریب بیٹھا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث کا وہاں سے گزر ہوا ،میں نے دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے ان کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہیں۔ میں نے فوراً قریب جا کرعرض کی: ”چچا جان!آپ ہمارے گھر تشریف لاکر خدمت کا موقع دیجئے۔” چنانچہ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لے آئے ۔ میرے چچا کا گھر ہمارے گھر سے کافی بڑا تھا اوران کے گھر ہر وقت انواع واقسام کے کھانے موجود رہتے۔ میں فوراً وہاں سے قسم قسم کے کھانے لے آیا۔
حضرتِ سیِّدُنا حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث نے ہاتھ بڑھا کر ایک لقمہ لیا،میں نے دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لقمے کو چباتے رہے لیکن حلق سے نیچے نہ اتارپائے۔ پھر لقمہ منہ سے باہر نکالا اورمجھ سے کوئی بات کئے بغیر تشریف لے گئے ۔ جب دوسرے دن ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کی:” چچا جان !کل آپ نے ہمارے گھرقدم رنْجہ فرما کر ہمیں خوش کیا، پھر اچانک کیاہوا؟ کیوں تشریف لے گئے؟” فرمایا :”اے میرے بیٹے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پرخاص کرم ہے کہ جب کوئی ایسا کھانا میرے سامنے آتاہے جس میں اس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی رضا شامل نہ ہوتواس کھانے سے ایک بُونکلتی ہے اور میرادل اسے قبول نہیں کرتا۔جیسے ہی میں نے تمہارے پیش کردہ کھانے سے ایک لقمہ لیاتومجھے وہی بُو محسوس ہوئی لہٰذا میں نے وہ لقمہ نہ کھایا اورتمہارے گھر کے باہر پھینک کر واپس چلا آیا۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!