اسلام

مہر کے احکام و مسائل

مہر کے احکام و مسائل

(۱)’’عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفُّوْا بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوجَ‘‘َ۔ (1)
حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ ( نکاح کی) شرطوں میں سے جس شرط کا پورا کرنا تمہارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ وہی شرط ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے ۔ (یعنی دین مہر)۔ (بخاری، مسلم)
(۲)’’عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَمْ کَانَ صَدَاقُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ کَانَ صَدَاقُہُ لِأَزْوَاجِہِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ أُوقِیَّۃً وَنَشَّ قَالَتْ أَتَدْرِی مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِیَّۃٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِئَۃِ دِرْہَمٍ‘‘۔ (2)
حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے دریافت کیا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کا مہر کتنا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضور کا مہر آپ کی (ا کثر) بیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ پھر حضرت عائشہ نے فرمایا جانتے ہو نش کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نصف اوقیہ۔ تو سب مل کر پانچ سو درہم ہوئے ۔ (مسلم)
ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور ایک نش بیس درہم کا ہوتا ہے ، لہذا بارہ اوقیہ اور ایک نش کا ۵۰۰ درہم ہوا۔ تفصیل یہ ہے ۱۲ اوقیہ ×۴۰ درہم = ۴۸۰ درہم + ۲۰ درہم = ۵۰۰ درہم پھر ایک درہم ساڑھے تین ماشہ کا ہوتا ہے تو پانچ سو درہم کا ساڑھے سترہ

سو ماشہ ( ۵۰۰ درہم × ـــ۱ ۲ ۳ماشہ =۰ ۱۷۵ ماشہ) اوربارہ ماشہ کا تولہ ہوتا ہے تو ساڑھے سترہ سو ماشہ کا ایک سو پینتالیس تولہ دس ماشہ ہوا (۱۷۵۰ ماشہ ÷۱۲ ماشہ = ۱۴۵ تولہ ۱۰ ماشہ) جس کی قیمت فی تولہ پانچ روپیہ کے حساب سے تقریباً سوا سات سو روپیہ ہوا۔ خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کے مذکورہ بھائو اور سکۂ رائج الوقت کے حساب سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی ( اکثر) بیویوں کا مہر تقریباً سوا سات سو روپیہ تھا۔
٭…٭…٭…٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!