محبوب سے ملاقات کاوقت قریب آگیا

محبوب سے ملاقات کاوقت قریب آگیا

Advertisement

حضرت سیدنا عبدالملک بن عمیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدناربعی بن خراش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے بتایا: ”ہم تین بھائی تھے اور ہم میں سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ روزے رکھنے والا ہمارا منجھلا (یعنی درمیانہ) بھائی تھا۔ ایک مرتبہ میں اپنے دونوں بھائیوں کو چھوڑ کر ایک جنگل کی طر ف نکل گیا، پھر جب میں واپس گھر پہنچا تو مجھے بتایا گیاکہ میرا وہی عبادت گزاربھائی مرض الموت میں مبتلا ہے ۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ ابھی کچھ دیر پہلے اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ لوگوں نے اُسے ایک کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا۔ میں اس کے لئے کفن لینے چلاگیا، جب کفن لے کر آیا تو یکایک میرے اس مردہ بھائی کے چہرے سے کپڑا ہٹ گیا۔ اس نے مجھے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔ میں نے بڑی حیرانگی کے عالم میں جواب دیا اور اس سے پوچھا :” اے میرے بھائی !کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگیا ؟ ”اس نے کہا:”جی ہاں!الحمدللہ عزوجل میں دوبارہ زندہ ہوچکا ہوں،اور تم سے جدا ہونے کے بعد میں اپنے ربّ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوا ،میرا ربّ عزوجل مجھ سے بہت خوش ہے، اور وہ پاک پروردگارعزوجل مجھ سے ناراض نہیں۔ اس نے مجھے سبز رنگ کے ریشمی حُلِّے عطا فرمائے ، اور میں نے اپنا معاملہ تمہارے معاملے سے بہت آسان پایا لہٰذ اتم نیک اعمال کی طر ف خوب رغبت کرو او رسستی بالکل نہ کرو، اور (موت) سے بے خبرنہ رہو۔ دنیا سے رخصت ہونے کے بعدالحمد للہ عزوجل میری ملاقات ،میری حسرتوں کے محور حضور نبی کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ہوئی، انہوں نے کرم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :” جب تک تم نہیں آؤ گے میں تمہاری (قبر ) سے نہیں جاؤں گا۔ لہٰذا تم میری تجہیز وتکفین میں جلدی کرو اور بالکل دیر نہ کرو ، قبر میں میری ملاقات حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ہوگی ۔ بقول شاعر:
؎قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں پر گروں
گر فرشتے بھی اٹھائیں تو میں ان سے یوں کہوں
اب تو پائے ناز سے میں اے فرشتو!کیوں اٹھوں
مر کے پہنچا ہوں یہاں اس دِلرُبا کے واسطے
پھر اس کی آنکھیں بند ہوگئیں ، اور اس کی روح اس طر ح آسانی سے اس کے بد ن سے نکلی جیسے کوئی کنکر جب پانی میں ڈالا جاتا ہے تو آسانی سے تہہ میں اتر جاتا ہے۔
؎جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
جان لینے کو دلہن بن کے قضا آئی ہے
جب یہ واقعہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے بیان کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا:” ہم یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ اس اُمت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو مرنے کے بعد بات کریگا ۔”
حضرت سیدنا ربعی بن خراش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں:”میرا وہ بھائی سخت سردی کی راتو ں میں بہت زیادہ قیام کرتا، اور سخت گرمیوں کے دنوں میں ہم سے زیادہ رو زے رکھتا تھا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!