Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کیا طلاق کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے جس سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے ؟

 سوال نمبر ۱۷:-کیا طلاق کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے جس سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے ؟

جواب :-شوہر کے وفات پانے سے عورت کا نکاح سے نکل جانا تو واضح ہے البتہ اگر معاذاﷲ شوہر مرتد یعنی کافر ہوجائے تو بھی نکاح ختم ہوجاتا ہے اور عورت عدت گزارکر جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ آجکل یہ صورت بھی مشاہدے میں آئی ہے ۔ کہ لوگ قرآن مجید یا کسی شرعی مسئلے کو جانتے ہوئے بُرا کہہ دیتے ہیں یا دیوبندیوں کی کفریہ عبارتوں پر مطلع ہوکر اوران پر شرعی حکمِ کفر جان کر بھی ان عبارتوں کے قائلین کو مسلمان کہتے ہیں یا کم ازکم کافر ماننے سے انکار کردیتے ہیں ۔ایسی صورت

میں بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور عورت عدت گزار کر جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ جن دیوبندیوں کو کافر جاننا ضروری ہے وہ وہی ہیں جنہوں نے کفریہ عبارتیں کہیں مثلاً اشرفعلی تھانوی وغیرہ اور وہ لوگ کافر ہیں جو ان عبارتوں پر مطلع ہو کر بھی انہیں مسلمان جانتے ہیں ۔آجکل کے وہ دیوبندی جن کو عقائد کا پتہ ہی نہیں انہیں کافر نہیں کہیں گے ۔(فتاوی رضویہ ۴/۳۶۶، بہار شریعت ۷/۸۳ )

error: Content is protected !!