جمعہ کے احکام و مسائل

جمعہ کے احکام و مسائل

Advertisement

(۱)’’ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہِ أَوْ یَمَسُّ مِنْ طِیبِ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ فلَا یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ ثُمَّ یُصَلِّی مَا کُتِبَ لَہُ ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرَی‘‘ ۔ (1)
حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس قدر ممکن ہوسکے طہارت نظافت کرے اور تیل لگائے یا خوشبو ملے جو گھر میں میسر آئے ۔ پھر گھر سے نماز کے لیے نکلے اور دو آدمیوں کے درمیان ( اپنے بیٹھنے یا آگے گزرنے کے لیے ) شگاف نہ ڈالے ۔ پھر نماز پڑھے جو مقرر کردی
گئی ہے ۔ پھر جب امام خطبہ پڑھے تو خاموش بیٹھا رہے تو اس کے وہ تمام گناہ جو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس نے کیے ہیں معاف کردیئے جائیں گے ۔ (بخاری)
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَقَفَتِ الْمَلَا ئِکَۃُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ یَکْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَمَثَلُ الْمُہَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِی یُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی بَقَرَۃً ثُمَّ کَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَۃً ثُمَّ بَیْضَۃً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَہُمْ وَیَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ‘‘۔ (2) (بخاری، مسلم)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر مسجد میں آنے والوں کی حاضری لکھتے ہیں جو لوگ پہلے آتے ہیں ان کو پہلے اور جو بعد میں آتے ہیں ان کو بعد میں اور جو شخص جمعہ کی نماز کو پہلے گیا اس کی مثال اس شخص کی طر ح ہے جس نے مکہ شریف میں قربانی کے لیے اُونٹ بھیجا۔ پھر جو دوسرے نمبر پر آیا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے گائے بھیجی پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے دُنبہ بھیجا پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے

جس نے مرغی بھیجی اور جو اسکے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے انڈا۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے اُٹھتا ہے تو فرشتے اپنے کاغذات لپیٹ لیتے ہیں۔ ا ور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
(۳)’’ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِینَارٍ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِنِصْفِ دِینَارٍ ‘‘ ۔ (1) (أحمد، ابوداود)
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جس شخص نے بغیر کسی عذر شرعی کے جمعہ کی نماز چھوڑ دی تو اسے چاہیے کہ ایک دینار (ا شرفی) صدقہ کرے اگر اتنا ممکن نہ ہو تو آدھا دینار۔
(۴)’’عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ احْضُرُوا الذِّکْرَ وَادْنُوا مِنْ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا یَزَالُ یَتَبَاعَدُ حَتَّی یُؤَخَّرَ فِی الْجَنَّۃِ وَإِنْ دَخَلَہَا‘‘ ۔ (2)
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ حاضر رہو خطبہ کے وقت اور امام سے قریب رہو اس لیے کہ آدمی جس قدر دور رہے گااسی قدر جنت میں پیچھے رہے گا۔ اگرچہ وہ جنت میں داخل ضرور ہوگا۔ (ابوداود)
(۵)’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ ذَلِکَ‘‘ ۔ (3)
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایاکہ جس شخص کو مسجد میں جمعہ کے دن اونگھ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کردے ۔ (ترمذی)
(۶)’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَکَّرَ بِالصَّلَاۃِ وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاۃِ یَعْنِی الْجُمُعَۃَ‘‘۔ (4)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سخت سردی کے موسم میںجمعہ کی نماز سویرے پڑھتے اور سخت گرمی کے دنوں میں دیر سے پڑھتے ۔ (بخاری شریف)

انتباہ:

(۱)…خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اس کا جواب ہر گز نہ دینا چاہیے یہی احوط ہے ۔ (1)
(فتاوی رضویہ)
اور درمختار مع ردالمختا ر جلد اول ص:۳۸۰میں ہے : ’’ یَنْبَغِی أَنْ لَا یُجِیبَ بِلِسَانِہِ اتِّفَاقًا فِی الْأَذَانِ بَیْنَ یَدَيْ الْخَطِیبِ‘‘۔ (2)
اور ردالمحتار جلد اول ص:۵۷۵میں ہے : ’’إِجَابَۃُ الْأَذَانِ حِینَئِذٍ مَکْرُوہَۃٌ‘‘۔ (3)
(۲)…خطبہ میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام پاک سن کر انگوٹھا نہ چومے یہ حکم صرف خطبہ کے لیے ہے ورنہ عام حالات میں نام نامی سن کر انگوٹھا چومنا مستحب ہے اور درود شریف دل میں پڑھے … زبان کو جنبش نہ دے اس لیے کہ زبان سے سکوت فرض ہے ۔ (4) (فتاوی رضویہ)
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۵۷۵ میں ہے : ’’الصَّوَابُ أَنَّہُ یُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَمَاعِ اسْمِہِ فِی نَفْسِہِ‘‘۔ (5)
(۳)…غیر عربی میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان کو بھی شامل کرلینا مکروہ اور سنت متوارثہ کے خلاف ہے ۔ (6) (فتاوی رضویہ، بہار شریعت)
(۴)…دیہات میں جمعہ جائز نہیں( عامہ کتب) لیکن عوام اگر پڑھتے ہوں تو انہیں منع نہ کیا جائے ۔ (7)
(فتاوی رضویہ، حصہ سوم)
(۵)…چونکہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں اس لیے دیہات میں جمعہ کی نماز پڑھنے سے اس دن کی نماز ظہر ساقط نہیں ہوتی لہذا دیہات میں جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعت ظہر فرض پڑھنا ضروری ہے ۔ (کتب عامہ)
٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!