Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جنتیوں کا کھانا اور پینا کیا ہے اور کیسے ملے گا

جنتیوں کا کھانا:

جنتیوں کو کھانے کے لئے لذیذ میوہ جات اور گوشت دیا جائے گانیز ان کے کھانے کے ہرنوالے کا مزہ جداگانہ ہوگا،قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے :

وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾

ترجمہ کنزالایمان :اور میوے جو پسند کریں اورپرندوں کا گوشت جو چاہیں۔

(پ ۲۷، الواقعۃ: ۲۰،۲۱)

حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مرفو عا روایت کرتے ہیں کہ” جنتیوں میں سب سے نچلے درجے کا جنتی وہ شخص ہوگا جس کے ساتھ دس ہزار خادم کھڑے ہونگے اورہر خادم کے ہاتھ میں دو پیالے ہونگے ،جن میں سے ایک سونے کا اوردوسرا چاندی کا ہو گا۔ہر پیالے میں کھانے کی ایک ایسی قسم ہوگی ،جو

دوسرے میں نہ ہوگی۔ وہ اس کے آخر سے بھی اسی طر ح کھائے گا جس طر ح اسکے شروع سے کھائے گا اور جو لذت وذائقہ اسکے پہلے حصہ میں پائے گا ،دوسرے میں اس کے علاوہ پائے گا۔”

(مجمع الزوائد،کتاب اھل الجنۃ ، رقم ۱۸۶۷۵، ج۱۰ ،ص ۷۴۱)

ام المومنین حضرتِ سیدتنا مَیْمُونَہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ” آدمی جنت میں کسی پرندے کی خواہش کریگا تو وہ پرندہ بختی اونٹ کی طرح اسکے دسترخوان پر آگرے گا ،نہ تو اسے دھواں پہنچا ہوگا اورنہ ہی آگ نے چھواہو گا۔ وہ شکم سیر ہونے تک اس پرندے سے کھائے گا پھر وہ پرندہ اُڑجائے گا۔

(التر غیب الترہیب ،کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم ۷۵، ج۴ ،ص ۲۹۲)

کھانا کیسے ہضم ہوگا؟

حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:” جنتی’ جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب و پاخانہ کریں گے اور نہ ہی رینٹھ سینکیں گے۔ ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:” کھانے کا فضلہ کیا ہو گا؟” حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :” انہیں (فرحت بخش) ڈکار آئے گی اور ایسا پسینہ آئے گا جو مشک کی خوشبو کی مثل ہو گا اور سبحان اللہ والحمد للہ کہناجنتیوں کے دل میں اس طرح ڈال دیا جائے گا، جیسے سانس ہے۔”

(مسلم ،کتاب الجنۃ ، رقم ۲۸۳۵ ،ص ۱۵۲۰)

جنتیوں کا مشروب:

جنتیوں کو پینے کے لئے ایسی پاکیزہ شراب دی جائے گی جس میں نشہ نہیں ہوگا، قرآن ِمجید میں ارشاد ہوتا ہے :

یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾بِاَکْوَابٍ وَّ اَبَارِیۡقَ ۬ۙ وَکَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍ ﴿ۙ۱۸﴾لَّا یُصَدَّعُوۡنَ عَنْہَا وَلَا یُنۡزِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾

ترجمہ کنزالایمان :ان کے گر د لئے پھر یں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے۔”

(پ ۲۷ ،سورۃ الواقعہ:۱۷،۱۸،۱۹)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!