حفظ و صدق کی اہمیت

حفظ و صدق کی اہمیت

راحت دل و جاں ! تجھے پتا ہو گا کہ میں نے کوئی سوکتابیں
تصنیف کی ہیں،  
Advertisement
ان میں سے کچھ تو بہت ضخیم
ہیں جیسے بیس جلدوں پر مشتمل ’’تفسیرکبیر‘‘۔بیس جلدوں میں ’’تاریخ‘‘ یوں ہی بیس
جلدوں میں پھیلی ’’تہذیب المسند‘‘ اور کچھ کتابیں پانچ جلدوں کی ہیں،  کچھ چار کی،  کچھ تین کی اور کچھ دو کی یوں ہی کم و بیش۔
تمہارے باپ کا یہ ورثۂ  تصنیف تمہیں از خود کتابیں لکھنے یا کتابیں خریدنے
اور  دوسروں سے عاریۃً لینے سے بے نیاز کر
دے گا،لہٰذا اِن کتابوں کی حفاظت کے ساتھ انھیں اپنے قلب و باطن میں جگہ دو،کیوں کہ
جو بچ جاتا ہے وہی اصل مال ہوتا ہے، اور خرچ کرنے سے نفع ہوتا ہے۔اور اللہ کے کرم
پر اعتماد کر کے ان دونوں حالتوں میں صدق کا دامن ہاتھ میں تھامے رہنااوراس کے
حدود و حقوق کا خیال رکھنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
إنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ(سورۂ  محمد: ۴۷؍۷)
اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد
فرمائے گا۔
فَاذْکُرُونِي أذْکُرْکُمْ (سورۂ  بقرہ:۲؍ ۱۵۲)
سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
وَ أوفُوا بِعَہْدِيْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ (سورۂ  بقرہ: ۲؍۱۴۰)
اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے
(ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!