Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ملتِ ابراہیمی کاپیروکار

حکایت نمبر489: ملتِ ابراہیمی کاپیروکار

حضرتِ سیِّدُنامحمد بن سلیمان قُرَشِی علیہ رحمۃاللہ القوی سے منقول ہے کہ ”ایک مرتبہ یمن جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک خوبصورت نوجوان نظر آیا اس کے کانوں میں بالیاں تھیں، جن کے عمدہ وخوشنما موتیوں کی چمک سے اس کا چہر ہ چمک رہا تھا۔وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے ہوئے یوں کہہ رہاتھا :” آسمانوں کے بادشاہ کی وجہ سے میری عزت ووقار ہے ۔وہ غالب وقدرت والا ہے ،اس میں کچھ نقص نہیں،اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔” میں نے قریب جاکر سلا م کیا۔ اس نے کہا:”میں اس وقت تک سلام کا جواب نہیں دوں گا جب تک آپ میراحق ادا نہ کریں۔ ”میں نے کہا:” تمہارا کون سا حق ہے ؟”کہا: ”میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے دین کا پیروکارہوں۔ میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک

ایک دو میل چل کر مہمان تلاش نہ کرلوں۔ آج آپ میرے مہمان ہیں ۔”نوجوان کی یہ بات سن کر میں اس کے ساتھ چل دیا۔ کچھ دور بالوں کا بنا ہوا ایک خیمہ نظرآیا، اس نے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا :” اے میری بہن! اے میری بہن ۔” اندر سے کسی لڑکی کی آواز آئی: لَبَّیْک !( میں حاضر ہوں )میرے بھائی ! نوجوان نے کہا:” مہمان کی تعظیم کرو۔”
لڑکی نے کہا:” ٹھہرو! پہلے میں اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرلوں جس نے ہمارے ہاں مہمان بھیجا ہے ۔”یہ کہہ کر اس نے نماز پڑھی ۔ نوجوان مجھے خیمے میں بٹھاکر جانور ذبح کرنے چلا گیا ۔میری نظر اس لڑکی پر پڑی تو مجھے اس کا چہرہ سب سے زیادہ حسین نظر آیا۔ لڑکی نے کہا:” میری طرف نہ دیکھئے! مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے شہنشاہ محمد ِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمان ہم تک پہنچا ہے کہ ”آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو ) دیکھنا ہے۔’ ‘(سنن ابی داؤد،کتاب النکاح،باب مَا یُؤْمَرُ بِہِ مِنْ غَضِّ الْبَصَر، الحدیث۲۱۵۲، ص۱۳۸۱) سنئے! میں آپ کی بے عز تی نہیں کر رہی اورنہ ہی آپ کو ڈانٹ رہی ہوں بلکہ میرا مقصد آپ کو اَدَب سکھانا ہے تاکہ آپ دوبارہ ایسی حرکت نہ کریں۔” لڑکی کی یہ بات سن کر میں بہت شرمندہ ہوا ۔جب رات ہوئی تو میں اور نوجوان خیمے سے باہر آگئے اور لڑکی خیمے میں ہی رہی ۔میں ساری رات خیمے کے اند رسے قرآنِ پاک کی تلاوت سنتا رہا،آوازمیں سوز وگُداز تھا ۔ صبح میں نے نوجوان سے پوچھا:”قرآنِ پاک کی تلاوت کون کررہا تھا ؟” کہا:” میری بہن اسی طرح ساری ساری رات عبادت کرتی ہے۔ ” میں نے کہا :” وہ عورت ہے اور تُو مرد، تجھے اس سے زیادہ عبادت کرنی چاہے؟”نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا:”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! کیا آپ نہیں جانتے کہ وہی پر وردگا ر عَزَّوَجَلَّ نیک اعمال کی توفیق دینے والا اور وہی عزت وذلت دینے والا ہے۔”

error: Content is protected !!