Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرتِ داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا خوفِ آ خر ت

حکایت نمبر470 : حضرتِ داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا خوفِ آ خر ت

حضرتِ سیِّدُناحسن بن عبداللہ قُرَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُناداؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام عابدوں کی تلاش میں نکلے،پہاڑکی چوٹی پرایک راہب کے پاس پہنچ کربآوازِبلنداسے مخاطب کیا،لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔جب کئی مرتبہ آپ علیہ السلام نے بآوازِ بلندپکاراتوآوازآئی :” کون ہے جومجھے پکار رہا ہے ؟ ” فرمایا: ”میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کانبی داؤدہوں۔”آوازآئی :”اچھاآپ علیہ السلام ہی وہ ہیں جن کے بلند وبالاقلعے اور نشان زدہ گھوڑے ہیں۔” آپ علیہ السلام نے فرمایا:”تم کون ہو؟” کہا:”میں دنیاکو ترک کرنے والاہوں۔” فرمایا:

” یہاں پرتمہارا انیس ورفیق کون ہے؟” کہا:”حضور!آپ علیہ السلام خود ملاحظہ فرمالیں۔” آپ علیہ السلام اس کے پاس گئے تودیکھاکہ وہ ایک کفن دیئے ہوئے مردے کے پاس موجود ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:”کیایہ تمہارا مونِس ہے ؟”کہا: ”ہاں!یہی میرا مونِس ومددگار ہے۔” فرمایا: ”یہ کون ہے؟”کہا: ” اس کے سرہانے ایک تانبے کی تختی ہے جس پراس کے بارے میں تفصیل لکھی ہوئی ہے۔” آپ علیہ السلام نے تختی اٹھا کردیکھی تواس پریہ عبارت درج تھی:
”میں فلاں بن فلاں بادشاہ ہوں،میں نے ہزارسال عمرپائی،ہزارشہرآبادکئے ،ایک ہزارلشکروں کوشکست دی، ہزا ر عورتوں سے شادی کی،میرے پاس ہزارکنواری لونڈیاں تھیں، میں اپنی سلطنت اور زندگی کی عیش وعشرت میں مشغول تھاکہ ملک الموت علیہ السلام تشریف لے آئے اورمجھے نعمتوں سے نکال کریہاں پہنچادیاگیا۔ اب خاک میرابستراورکیڑے مکو ڑے میرے پڑوسی ہيں۔”
یہ تختی پڑھ کر آپ علیہ السلام بے ہوش ہوکرزمین پرتشریف لے آ ئے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!