Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ہائے!میراد ل کہاں ہے

حکایت نمبر:338 ہائے!میراد ل کہاں ہے….؟

حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن فارسی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے: حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے معتقدین میں سے ایک شخص کی عقل جاتی رہی اور وہ مجنون ہوکر گلی کوچوں میں اس طر ح صدائیں لگاتا پھرتا:” ہائے ! میرا دل کہاں ہے؟ ہائے! میرا دل کہا ں ہے؟ کیا کسی کو میرا دل ملا ہے؟ کیا کسی کو میرا دل ملا ہے ؟ میرا دل کہا ں ہے ؟” بچے اس کا مذاق اُڑاتے اور پتھر مارتے۔ ایک دن وہ بچوں سے تنگ آکر ایک گلی میں داخل ہوکر ایک جگہ بیٹھ گیا ، کچھ دیر بعد ایک بچے کے رونے

کی آواز سنائی دی ، نظر اٹھا کر دیکھا تو ایک چھوٹا سا بچہ زارو قطار رورہا تھا، اس کی والدہ نے کسی غلطی پر اسے مارا اور ناراض ہوکر گھر سے باہر نکال کر دروازہ بند کر دیا تھا۔ اب وہ چھوٹا سا مُنَّا کبھی دروازے کی دائیں جانب جارہاتھا کبھی بائیں جانب لیکن اسے اندر جانے کا کوئی راستہ نظر نہ آرہاتھا۔ بچہ بڑے درد مندانہ انداز میں رورہا تھااور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟کہا ں جائے؟ بالآخر تھک ہار کر اپنے گھر کے دروازے کی چوکھٹ پر گردن رکھ کر لیٹ گیا ،لیٹے لیٹے اسے نیند آگئی۔ جب بیدار ہوا تو رونے لگا اور بڑی آہ وزاری کرتے ہوئے یوں التجائیں کرنے لگا:
” اے میری پیاری ماں! اگر تو ہی میرے لئے دروازہ بند کردے گی تو پھر کون میرے لئے ا پنا دروازہ کھولے گا؟ جب توہی مجھے ٹھکرادے گی تو کون مجھے اپنے قریب کریگا؟ میر ی پیاری ماں! جب تو ہی مجھ سے ناراض ہوگئی تو کون مجھے پیار دے گا ؟ میری پیاری ماں !مجھے اپنی آغو شِ رحمت میں لے لے۔”
بچے کی آنکھوں سے سَیلِ اشک رواں تھا اور بڑے ہی درد مندانہ انداز میں آہ وزاری کر رہا تھا۔ اپنے جگر کے ٹکڑے کی یہ درد بھری آواز سن کر ماں کا دل بَھر آیا ، وہ دوڑتی ہوئی اپنے جگر پارے کے پاس آئی تو دیکھا کہ بچے کی آنکھیں آنسوؤں سے تربَتر تھیں ،چہرے پر مٹی لگی ہوئی تھی اور وہ زمین پر سررکھ کر زار وقطار رورہاتھا۔ ماں نے فوراً اپنی آغوش میں لے لیا ، پیار سے چومنے لگی اور مامتا بھری آوازمیں کہا: ” میرے لال! میری آنکھوں کی ٹھنڈک! تُو تو مجھے جان سے بھی زیادہ محبوب ہے تو نے ایسی غلطی کی جس کی وجہ سے مجھے تجھ پر غصہ آیا اور تجھے سختی برداشت کرنی پڑی، میرے لال! اگر تو میری اطا عت وفرمانبرداری کرتا تو ہر گز میری طر ف سے تجھے ناپسند یدہ بات نہ پہنچتی۔”
وہ مجنون ،ماں بیٹے کی باتیں سن رہا تھا، جب اس نے ماں کی بیٹے پر شفقت دیکھی تو اسے وجد آگیا وہ کھڑا ہو گیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔چیخ وپکار سن کر لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور وجہ پوچھی تومجنون نے کہا :”مجھے میرا دل مل گیاہے۔ مجھے میرا دل مل گیا ہے۔” جب اس نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو دیکھا تو کہا :” حضور! مجھے میرا کھویا ہوا دل مل گیا ہے ، فلاں گلی فلاں مکان کے پاس مجھے میرا دل مل گیا۔” پھر اس نے ماں بیٹے والا واقعہ سنایا ۔” جب بھی وہ مجنون یہ واقعہ سناتا اس پر وجد طاری ہوجاتا ، گویا ماں بیٹے کی محبت دیکھ کر اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق پر رحمتیں وعنایتیں یاد آجاتیں۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس رِقّت انگیز حکایت میں ہماری اصلاح کے لئے بے شمار مدنی پھول ہیں ، بچے کی کسی غلطی پر ماں نے ناراض ہوکر اسے گھر سے باہر نکال دیا تو وہ چھوٹاسا مُنّا ماں کی ناراضگی ودوری لمحہ بھر کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکا۔ گھر کے دروازے پرسر رکھ کر روتا رہا اسے اپنی ماں کی رحمت و شفقت سے امید تھی کہ وہ ضرور بلالے گی میری غلطی کومعاف کر کے

مجھے اپنے دامن میں چھپالے گی ، بالآخر بچے کی گریہ وزاری دیکھ کر ماں نے اسے اپنی مامتا بھری گود میں اٹھالیا اور اس کی خطا کو معاف کردیا۔ ہمارا پروردگار جو ہم پر ستر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ورحیم ہے وہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہوگا ۔
ہمیں بھی چاہے کہ کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس میں ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ہو پھر بھی بتقضائے بَشرِیَّت جب بھی کوئی خطا سرزد ہو فوراً اس رحیم و کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ رَیز ہو کر رو روکر اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرلینا چاہے۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر خدا نخواستہ وہ مالک ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ ہم سے ناراض ہوگیا تو ہم کہیں کے بھی نہ رہیں گے، دُنیا وآخرت تباہ وبرباد ہوجائے گی ۔ہمیں اپنے پیارے ، رحیم وکریم،ستار وغفار رب عَزَّوَجَلَّ سے اُمید ِ واثق ہے کہ وہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ہماری خطاؤں کو ضرور معاف فرمائے گا اور اپنے رحمت کے سائے میں ضرور جگہ عطا فرمائے گا۔ جو اس پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ، وہ اتنا عطا فرماتا ہے کہ عقلیں اس کی عطاؤں کا اِدراک نہیں کرسکتیں۔
ہم اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ہمیشہ اپنی ناراضگی سے بچائے رکھے اور اپنی رضا والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))
؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا
یہ کرم کردے تو جنت میں رہوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ !

error: Content is protected !!