Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حسد کاعلا ج

حکایت نمبر377: حسد کاعلا ج

قاضی تَنُوْخِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے کچھ دیر قبل میں ”جامع منصور” میں موجود تھا، میری سیدھی طرف حضر تِ سیِّدُنا علی بن طلحہ بن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو میرے بہت ہی قریبی دوست عبدُ الصَّمَد بھی کچھ فا صلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کی طرف جانے کا ارادہ کیا،چونکہ نماز کا وقت بالکل قریب تھا لہٰذا میں ان کے پاس نہ جاسکا لیکن وہ اٹھے اور میری طرف بڑھنے لگے تو میں کھڑا ہوگیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا:” قاضی صاحب! آپ

تشریف رکھیں، میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی میں آپ کے لئے آیا ہوں بلکہ میں توحضرتِ سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خاطر اٹھ کر آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے نفس نے مجھے ان کے متعلق حسد میں مبتلا کر نے کی کوشش کی اور انہیں دیکھ کر میرے نفس کو ناگواری محسوس ہوئی تومیں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نفس کو ذلیل ورُسوا کروں اور اس کی بات ہر گز نہ مانوں، بس اسی لئے میں حضرتِ سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آیا ہوں ۔” یہ سن کر حضرت سیِّدُناعلی بن طلحہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور اُن کے سرکا بوسہ لے لیا۔
قاضی تَنُوْخِی کا بیان ہے کہ مجھے ایک شخص نے بتایا: ”جب حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الصَّمَد علیہ رحمۃ اللہ الاحد کا آخری وقت قریب آیا توقاضی ابومحمد اَکْفَانِی کی بیٹی ”اُمِّ حسن” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پا س آئی اور کہنے لگی:” میں آپ کو قسم دے کرکہتی ہوں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھ سے اپنی کوئی حاجت طلب کریں اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں اسے ضرور پورا کروں گی۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” ہاں! آج میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کہ جس طر ح میری زندگی میں تم میر ی بیٹی کی دیکھ بھال کر تی تھی اسی طرح میرے مرنے کے بعد بھی اس کا خیال رکھنا، بس مجھے تم سے یہی حاجت ہے۔”اُمِّ حسن نے کہا:” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے فکر رہیں، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیٹی کی بہت اچھی طر ح دیکھ بھال کر وں گی ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بے قرار ہو کر باربار اِسْتِغْفَار پڑھنے لگے اور کہنے لگے: ” اے اُمِّ حسن! اللہ تعالیٰ میر ی خطا سے در گزر فرمائے۔ وہ پروردگار عَزَّوَجَلَّ میری بیٹی کا تجھ سے بہتر کارساز اور حفاظت کرنے والا ہے۔ ”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!