دیانت دار تاجر

دیانت دار تاجر

Advertisement

حضرت سیدنا مطفربن سہل المُقرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرّزّاق کے ساتھ بیٹھا ہواتھا ۔ دو ران گفتگو حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا ذکر ِخیر شرو ع ہوگیا ،ہم ان کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگے۔
حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابرکت میں حاضر تھا، اچانک ایک عورت نہایت پریشانی کے عالم میں آئی او رآپ کو مخاطب کر کے کہنے لگی:”اے ابو الحسن( علیہ رحمۃ اللہ الاعظم) !میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پڑو س میں رہتی ہوں ، مجھ پر ایک مصیبت آن پڑی ہے ، رات میرے بیٹے کو سپاہی پکڑکرلے گئے اور مجھے خطرہ ہے کہ وہ اسے تکلیف پہنچا ئیں گے اور اسے سزا دیں گے۔ میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہوں۔ اگر آپ میری مدد فرمائیں اور میرے ساتھ چل کر میرے بیٹے کی سفارش کریں یا پھر کسی کو میرے ساتھ بھیج دیں جو آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کا پیغامِ سفارش حاکم کو پہنچا دیں تو مجھے اُمید ہے کہ حاکم میرے بیٹے کو چھوڑدے گا ۔ خدا را! میرے حال پر رحم فرمائیں ۔”
حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ اس عورت کی یہ فریاد سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوئے اور نماز میں مشغول ہوگئے اور اِنتہائی خشوع وخضوع سے نماز پڑھنے لگے ۔ جب کافی دیر ہوگئی تو اس عورت نے کہا :”اے ابوالحسن (علیہ رحمۃ اللہ الاعظم )!جلدی کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ حاکم میرے بیٹے کو قید میں ڈال کر سزادے او ر اسے تکلیف پہنچائے ، برائے کرم! میرے معاملے کو جلدی حل فرمادیں ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نماز میں مشغول رہے ،پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا:”اے اللہ عزوجل کی بندی !میں تیرے ہی معاملے کو حل کر رہاہوں۔
ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ اس عورت کی خادمہ آئی اور اس نے کہا: ”محترمہ! گھر چلئے، آپ کا بیٹا بخیر و عافیت گھر لوٹ آیا ہے۔” یہ سن کر وہ عورت بہت خوش ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوگئی ۔
حضرت سیدنا علان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے یہ واقعہ سنانے کے بعد ارشاد فرمایا:”اے مطفر! اس سے بھی زیادہ عجیب بات میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بتا تا ہوں۔ حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی تجارت کیا کرتے تھے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل کرتے۔
ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بازار تشریف لے گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 60دینار کے بدلے96صاع بادام

خریدے اور پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دیناررکھی ، تھوڑی دیرکے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اورکہنے لگا: ”میں یہ سارے بادام آپ سے خریدنا چاہتا ہوں۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”خرید لو ۔” اس نے پوچھا: ”کتنے دینار لو گے؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”63دینار۔” اس تا جر نے پوچھا:” حضور! باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اب 96 صاع باداموں کی قیمت 90دینا ر تک پہنچ چکی ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے 90دینار میں یہ بادام فر وخت کردیں ۔”
حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا لہٰذا میں اپنے وعدہ کے مطابق تمہیں یہ با دام بخوشی 63دینار میں فروخت کرتا ہوں، اگر چاہو تو خرید لو، میں اس سے زیادہ رقم ہر گز نہیں لوں گا۔”
وہ تاجر بھی اللہ عزوجل کا نیک بندہ تھااوراپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کاخواہاں تھا ۔دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بددیانت تا جر نہ تھا۔جب اس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بات سنی تو کہنے لگا :” میں نے بھی اپنے رب عزوجل سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا۔ اگر تم بادام 90 دینار میں بیچو تو میں خریدلوں گا ،اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اپنی بات پر قائم رہے اور فرمایا :” میں 63دینار سے زیادہ میں فروخت نہیں کرو ں گا ۔” چنانچہ نہ تو اس امانت دارتاجر نے یہ بات گوارا کی کہ مَیں کم قیمت میں خریدو ں او رنہ ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تین دینار سے زیادہ نفع لینے پرراضی ہوئے بالآخر ان کاسودا نہ بن سکا او رتا جر وہاں سے چلا گیا ۔
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت سیدناعلان الخیاط علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں:” جن لوگو ں میں ایسی عظیم خصلتیں پائی جائیں جب وہ اپنے پاک پروردگار عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو ان کی دعائیں قبول کیوں نہ ہوں ۔اللہ عزوجل ایسے برگزیدہ بندوں کی دعاؤں کو شرف قبولیت ضرور عطا فرماتا ہے۔ جو اللہ عز وجل کا ہو جاتا ہے اللہ عزوجل اس کے تمام معاملات کو حل فرمادیتا ہے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!