Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

درسِ صبر وشکر

حکایت نمبر328: درسِ صبر وشکر

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنّان اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ” ایک بوڑھی عورت جو جنگل میں چراگاہ کے قریب رہتی تھی اس کے متعلق مجھے ایک شخص نے بتایا کہ وہ بڑھیا بہت عقل مند اور صابرہ وشاکرہ تھی ۔ لوگ اس کے صبر وشکر اور دانائی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ اس کا ایک بیٹا تھا جو انتہائی وجیہہ و خوبصورت تھاکافی عرصہ بیمار رہا، بوڑھی ماں نے بہت اچھے طریقے سے اس کی تیمارداری کی۔عرصۂ دارز تک بسترِ َعلالت پر اپنے زندگی کے ایام گزارنے کے بعد بالآخر اس کانوجوان جمیل وشکیل اکلوتا بیٹا اس دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گیا۔ اس کی موت کے بعد بڑھیا اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ لوگ تعزیت کے لئے آئے تو بڑھیا نے ایک ضعیف العمر شخص سے کہا:” کتنا اچھا ہے وہ خوش بخت جس نے عافیت کا لباس پہن لیا، جس پر نعمتوں کا رنگ چڑھ گیا، جسے ایسی فطرت عطا کی گئی کہ جب تک وہ اپنے مسائل حل نہ کرلے اسے تو فیق وہمت دی جاتی رہے۔ پھر بڑھیا نے دوعربی اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ ہے:
” وہ میرا بیٹا تھا مجھے معلوم نہیں کہ اس کی وجہ سے مجھے کتنا اجر ملا، میری مدد اس کے لئے یہ تھی کہ میں نے اس کی پرورش کی
اورمیں اس کی دیکھ بھال کر نے والی تھی ، اگر میں اس کی موت پر صبر کروں تو اجردی جاؤں گی اور اگر گریہ وزاری اور چیخ وپکار کروں تو اس رونے والی کی طرح ہوجاؤں گی جسے اس کے رونے دھونے نے کچھ فائدہ نہ دیا۔”
بڑھیا کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر ضعیف العمر شخص نے کہا:” اب تک تو ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ رونا دھونا ، واویلا کرنا عورتوں کی عادت ہے ، لیکن تم تو مردوں سے بھی زیادہ صبر والی ہو، تمہارا صبر عظیم ہے اور عورتوں میں تمہاری نظیر ملنا مشکل ہے۔” یہ سن کر بڑھیا نے کہا :” جب بھی کوئی شخص دو چیزوں یعنی صبر وشکر اور جزع فزعْ (یعنی بے صبری) کے درمیان ہو تو اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ بہر حال صبر تو ہرحال میں اچھا ہے، وہ ظاہراً حسین اور اس کا انجام محمود ہے۔ جب کہ بے صبری ،اس پر تو کوئی ثواب ہی نہیں ہے ۔اگر صبر و بے صبری انسانی شکل میں ہوتے تو صبر ، حسن و عادات اور دین کے معاملے میں بے صبری سے بدرجہا افضل ہوتا۔ صبر دینی معاملات اور نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے والا ہے۔ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ دولتِ صبر عطا فرمائے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ کافی ہے۔ صبر میں بھلا ہی بھلا اور بے صبری میں نقصان ہی نقصان ہے ۔”
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صبر کی دولت سے مالا مال فرمائے، بے صبری وبے شکری کی نحوست سے محفوظ رکھے۔ راضی برضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ رہنے والااور حرفِ شکایت لب پرنہ لانے والا خوش نصیب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں صابر وشاکر بنائے ۔)
( آ مین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

error: Content is protected !!