اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

محمدعبدالہادی مجددی

معززقارئین کرام! ایک رسالہ بعنوان تحققیق حق محترم محمد یحیٰ صاحب شمسی (بن حضرت الحاج مولوی محمدعمرصاحب رحمہ اللہ علیہ ) نےلکھ کرشائع فرمایا ہے۔ جسے ہم نے خلوص کے ساتھ دیکھا اور مطالعہ نے جن تاثرات سے ہمیں محفوظ کیا ہے ۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں
Advertisement
محترم مضمون نگار نے رسالہ کے صفحہ ایک اورآٹھ پر مندرجہ ذیل عبارتیں لکھی ہیں ۔
۱) برادران اسلام! ایک اشتہار بعنوان جواب سوال بصورت سوال وجواب کے ذریعے عوام کو پھرفروع مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔آج مسلمان فرائض وواجبات سے غافل ،کبائر میں مبتلا ہیں لیکن بعض خودغرضوںکو اسکے تدارک کی فکر نہیں مگر فاتحہ کی فکر ہے (صفحہ ۱)(۲) (۸)۔
نوٹ: چونکہ ہم سے بعض حضرات نےاشتہار مذکورکے جواب یاتسلیم کاسخت مطالبہ کیا تھا۔ اس لیے یہ مضمون تحریر کرناپڑا ورنہ ہم ایسے کاموں میں مشغول ہونا پسند نہیں کرتے۔
سبحان اللہ رسالہ لکھنے والے بزرگ سے جب بعض حضرات مسئلہ فاتحہ پرفتویٰ مانگتے ہیں۔ توفاتحہ کوناجائز بتا کر نہ مصنف رسالہ خودغرض بنتے اور نہ یہ فاتحہ کا مسئلہ فروعی ہی رہتاہے بلکہ مصنف رسالہ کے قلم کو حرکت میں لانے والے بعض حضرات جوکچھ کرتے ہیں۔ وہ سب فرائض وواجبات میں داخل ہوکر کبائر کےخلاف جہادِ اکبر ہوجاتا ہےاور جب اس کے سوا دوسرے مسلمان مسئلہ فاتحہ پر قلم اٹھاتے ہیں خود غرض بددیانت اورفریبی بن جاتے ہیں۔
بروز حشر گر۔۔۔۔۔ امت راچراکشتی


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

چہ خواہی گفت قربانت شوم من نیز متشاقم۔
للہ غور فرمایاجائے کہ آخر اس طرح کی دورنگی عبارتیں شائع فرمانے کے لیے روپیہ وقت اور محنت ضائع کرنے سے دین ودنیا کی کونسی دولت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۲ پر رسالہ نویس نے اسی فروعی مسئلہ میں فتاوی اورجندی پر لے دے کر کرتے ہوےمذکور کتاب کو تسلیم نہ کرنے کے لیے جودلیل ذیل دی ہے۔ اس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ ۸۵۷؁ء کے بعد جبکہ انگریز نے وہابی اور سنی کا جھگڑا پیدا کرکے مسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کی کوشش شروع کی تھی۔ اور فروعی مسائل کو ابھارا گیا تھا، یہ روایت اس وقت گھڑی گی تھی۔
محترم رسالہ نگارنے جودلیل فتاویٰ اوزجندی کے ناقابل استدلال ہونے کی فرمائی ہےوہ نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث رسولﷺ میں۔
یہ دلیل بےدلیل توایسی ہی مضحکہ خیز ہے۔ جیسے کوئی کوسنے والاعلامہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ یہ مدرسہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اورمسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کے لیے انگریز نے خفیہ طورپر فنڈ کراکے تیار کرایا تھا۔
مکرم ناظرین!غور فرمایئے کہ ایسی بے سروپا کہانیوں کو دلیل سمجھنا کیسی غلطی اور زبردست مغالطہ ہے۔
مگر ہمارے مصنف رسالہ اسے فاتحہ کو ناجائز کردینے والی عظیم الشان ترجمان قرآن وحدیث دلیل سمجھ رہے ہیں۔
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جوجل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اس کے بعد محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۵ سے صفحہ ۶ تک بحث کرکے یہ فتویٰ دیا ہے کہ قرآن شریف میں حرکات زیروزبر لگانا علم تجوید ایجاد کرنا، علم نحووصرف کوایجاد کرنا، مدرسہ قائم کرناوغیرہ کے لیے اصل صحیح یعی وجہ جواز یہ ہے کہ حفاظت قرآن نماز میں تلاوت قرآن فہم قرآن وغیرہ فرض ہے۔
محترم صاحب رسالہ کے اس مبارک فتویٰ سے چشم ما رشن دل ماشاد جب قیام مدارس اور علم صرف و نحو وتجوید وغیرہ مروجہ علوم وفنون کو آپ فہم قرآن حفاظت قرآن کا مدار علیہ فرماتے ہیں۔ اور اسے بدعت حسنہ اور سنت حسنہ نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مختلف فیہ علوم پر ان کے ماہرین کاتمام مسائل میں اتفاق بھی نہیں ہےاور نہ یہ مروجہ علوم وفنون براہ راست قرآن کا مقصود ہی ہیں۔ تو پھر بیچارہ ایصال ثواب کی اصل صحیح نے کسی کاکیا بگاڑا ہے کہ اس اصل صحیح کومانتے ہوئے بھی اس کی مختلف شکلوں کے لیے کسی’’خاص مستقل‘‘ حدیث کے انتظار وتلاش میں کسی کا حواس باختہ ہونا منظور رکھا جائے۔
محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۷ پرقیاس صحیح کو شرعی حجت فرمایاہے اس کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیاایصال ثواب کی مختلف شکلوں والے تعامل کے لیے اس کی صحیح ایصال ثواب کی بنا پر قیاس صحیح عرفاً فاتحہ وغیرہ کہہ لینے کو برداشت نہیں کرسکتا۔؟
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
محترم مصنف نے قیاس صحیح کو شرعی حجت قرار دیتے ہوئے صف ۷ پر بھنگ تاڑی افیون کو ایصال ثواب کا مدارعلیہ قیاس فرمایاہے سوکون صاحب بصیرت مصنف کے اس خیال کو قیاس صحیح کا درجہ دینے کی ہمت کرے گا۔صفحہ ۷ پر مصنف رسالہ کا یہ گہربار فتویٰ موجود ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح آج تک کوئی ثبوت اس فاتحہ مروجہ کانہیں مل سکا،لہٰذا یقیناً یہ طریقہ فاتحہ مروجہ کابدعت شرعیہ میں داخل ہے اورقطعاً ناجائز ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اب صفحہ ۸پرفاضل مصنف کایہ مہربان فتویٰ ملاحظہ فرمایئے ایسے فروعی اختلافات اوران سے متعلق اشتہارات من گھڑت بیانات سے دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔
ہماری رائے یہ ہے کہ اختلافی مسائل کامعاملہ ان کے اور خدا کے حوالے کردینا چاہئے نہ کسی کو کرنے پرمجبور کیاجائے نہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
ناظرین کرام !مقام عبرت ہے کہ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق جن مصنف صاحب نے فاتحہ مروجہ کو قطعاً ناجائز فرمایاتھا ۔اب آپنے آخری فتویٰ میں وہی بزرگ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق فاتحہ مروجہ کو اختلافی مسئلہ کہنے پر مجبور ہوگیے ہیں۔
ہمیں حیرت ہے کہ جب کل بدعۃ ضلالۃ کومٹانے اور اس سے یکلخت نفرت فرمانے کی بجائے مصنف اسے فروعی اختلاف اور اختلافی مسئلہ فرمارہے ہیں۔ آخربدعت شرعیہ سے اتنی ہمدردی کیوں؟۔
ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مصنف فاضل سارے چکر کاٹ کر آخر اسی نقطہ پر کس طرح آ پہنچے کہ فاتحہ کامعمول بہا طریقہ بدعت حسنہ ، سنت حسنہ میں امت کا اختلاف ثابت ہے جیسا کہ خود مصنف نے اپنے رسالے کے ص ۶ پر تراویح باجماعت میں امرحضرت عمر بیان کیا ہے۔
آخر میں ہم جمیع مسلمانوں کے لیےجناب باری تعالیٰ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور حسنات میں ترقی کرنے کی ہمیں توفیق عطافرمائے۔ آمین۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!