دیو بندی خود بدلتے نہیں ’’کتابوں‘‘ کو بدل دیتے ہیں

دیو بندی خود بدلتے نہیں ’’کتابوں‘‘ کو بدل دیتے ہیں

Advertisement

میثم عباس رضوی، لاہور

حمد و صلوٰۃ کے بعد عرض ہے کہ حق کا سامنا کرنا دیوبندیوں کے بس کی بات نہیں اس لیے کہ جب دیوبندی چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں تو قرآن و حدیث و کتب اسلاف بلکہ اپنے ہی اکابر تک کی کتابوں میں بھی تحریف کر دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے جھوٹے مذہب کو عوام کی نظر میں سچا کر دکھائیں لیکن اللہ تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے کہ اس ذاتِ کریم نے ان دجالوں کے دجل و فریب کو ہم اہلِ سُنت پر ظاہر کیا لہٰذا اس ذاتِ کریم کی مدد سے مَیں نے دیوبندیوں کی تحریفات اور دیگر دجل و فریب عوام و خواص پر ظاہر کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ بے خبری میں کوئی شخص ان کے ہتھے چڑھ کر ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ میرے اس ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

دیوبندی تحریف نمبر۱:

دیوبندی شیخ الہند مولوی محمود الحسن دیوبندی صدر المدرسین دیوبند بھی قرآن میں الحاق ہونے کے قائل ہیں۔ مولوی مذکور نے لکھا ہے کہ ’’کلام اللہ و حدیث میں بعض آیات و جملے فرقۂ ضالہ نے الحاق کیے ہیں چنانچہ سب پر ظاہر ہے۔‘‘
’’بلکہ کلام اللہ و حدیث میں بعض آیات و جملے فرقۂ ضالّہ نے الحاق کیے ہیں، چنانچہ سب پر ظاہر ہے۔‘‘ (ایضاح الاولہ، صفحہ ۳۵۷ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی)
یعنی ان کے نزدیک قرآن پاک محفوظ نہیں ہے بلکہ اس میں الحاقات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے

گندے عقیدہ سے بچائے آمین۔

دیوبندی تحریف نمبر۲:

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی نے حدیث پاک کی تحریف کا جرم کیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دعا جو نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابی کو پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس دعا میں نبی پاک ﷺ کو یا محمد کے الفاظ سے پکارا گیا تھا اس لیے اشرف علی تھانوی سے برداشت نہ ہوا اور اپنے بغضِ باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں سے یا محمد وانی اتوجہ بک الی ربی کے الفاظ نکال دیے (جن کا ترجمہ ہے اے محمد مَیں آپ کے طفیل اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں) حدیث پاک میں تحریف کرکے دیوبندی حکیم الامت نے رسول دشمنی کا ثبوت دیا ہے اس حدیث کو تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث مولوی زکریا کاندھلوی دیوبندی نے بھی نقل کیا ہے لیکن مولوی زکریا صاحب یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی کے الفاظ نکال نہیں سکے۔ پہلے مولوی زکریا صاحب کی کتاب فضائل حج سے اس دعا کو ملاحظہ کریں۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ ِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ اَتَوَجَّہُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰہُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ۔
(فضائل حج صفحہ ۱۷۵ مطبوعہ کتب خانہ فیضی لاہور)
آئیے اب دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی کی کتاب مناجاتِ مقبول ملاحظہ کریں جس میں دیوبندی حکیم الامت نے یہودیانہ تحریف کی ہے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْٓ اَسْأَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ فِیْ حَاجَتِیْ ہٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ فَشَفِّعْہُ فِیَّ۔
ترجمہ: یا اللہ مَیں مانگتا ہوں آپ سے اور متوجہ ہوتا ہوں آپ کی طرف بذریعہ آپ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جو رحمت کے نبی ہیں اپنی بس حاجت میں تاکہ پوری ہو جائے پس قبول

کیجیے شفاعت ان کی میرے حق میں۔
(مناجاتِ مقبول، صفحہ ۱۸۶ مطبوعہ اقبال بک کارنر، لاہور)

دیوبندی تحریف نمبر۳:

تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث مولوی زکریا کاندھلوی دیوبندی نے بھی ایک حدیث پاک نقل کی ہے جس میں جناب رسول اللہ ﷺ سے بغض کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میںرسول کا لفظ نکال دیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر دیوبندیوں کا بس چلے تو یہ قرآن پاک اور کلمہ وغیرہ سے بھی رسول اللہ کا ذکر نکال دیں تاکہ ان کی شیطانی توحید پر کوئی اثر نہ ہو۔ لعنت ہے ایسی شیطانی توحید پر۔
ذیل میں اس حدیث پاک کی فوٹو کاپی لگائی جا رہی ہے ملاحظہ کیجیے۔
حدیث میں ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئیں۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی تھیں جن کے ہاتھ میں دو وزنی کنگن سونے کے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس بات سے خوشی ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ ان کے بدلہ میں آگ کے دو کنگن تمہیں قیامت میں پہنا دیں۔ اُنہوں نے یہ سُنتے ہی دونوں کنگن حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیے کہ یہ اللہ کے واسطے دیتی ہوں۔ (ترغیب)
(فضائلِِ صدقات صفحہ ۳۴۰ مطبوعہ کتب خانہ فیضی لاہور)
مولوی زکریا دیوبندی کی نقل کردہ مندرجہ بالا حدیث پاک کے آخری الفاظ ہیں کہ اللہ کے واسطے دیتی ہوں جبکہ حدیث پاک کے اصل متن میں اللہ کے ساتھ رسول کا لفظ بھی ہے لیکن خبیث دیوبندی نے بغضِ رسول کی وجہ سے … رسول … کا لفظ شامل نہیں کیا۔
اب اس حدیث پاک کا عکس اصل کتاب ترغیب و ترہیب سے ملاحظہ کریں۔

۲۶: رُوِیَ عَنْ عَمْرو بْنِ شُعَیْبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدَّہِ اَنَّ اَمْرَاَۃَ اَنْتِ النَّبِیُّ ﷺ، وَمَعَہَا ابْتَۃً لَہَا، وَفِی یَدِ ابْنَتِہَا مَسْکَنَانِ غَلِیْظَتَانِ مِنْ ذَہَبِ، فَقَالَ لَہَا: اَتَعْطِیْنَ زَکَاۃَ ہٰذَا؟: قَالَتْ: لَا قَالَ: اَیَسُرُّکِ اَنْ یُسَوْرَکِ اللہُ بِہِمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سِوَازَیْنِ مِنْ نَارِ؟ قَالَ: فَحَذَفَتْہُمَا فَاَلْقَتْہُمَا اِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَقَالَتْ: ہُمَا لِلہِ وَلِرَسُوْلِہِ۔ رواہ احمد ابو داؤد، واللفظ لہ والترمذی والدار قطنی، و لفظ الترمذی والدار قطنی نحوہ:
(ترغیب و ترہیب، جز اوّل، صفحہ ۳۱۱ مطبوعہ مکتبہ روضۃ القرآن، پشاور)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ حدیث پاک میں للّٰہ ولرسولہ کے الفاظ ہیں لیکن کیا کیجیے دیوبندیوں کے بغضِ باطن کا کہ جس نے انہیں اللہ کے نام کے ساتھ رسول کا لفظ شامل نہیں کرنے دیا۔

دیوبندی تحریف نمبر۴:

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی کے مشہور خلیفہ مفتی محمد حسن بانی جامعہ اشرفیہ لاہور کے مرنے کے بعد ایک دیوبندی عالم نے تعزیتی خط لکھا اس خطا کو مفتی حسن دیوبندی کی حالاتِ زندگی پر مشتمل کتاب ’’تذکرہ حسن‘‘ میں شامل کیا گیا۔ خط میں مفتی محمد حسن دیوبندی کو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کہا گیا ہے۔ ذیل میں اصل کتاب ’’تذکرہ حسن‘‘ کا حوالہ ملاحظہ کریں:
’’السلام علیکم، آج نمازِ جمعہ کے موقع پر خبر جانکاہ سن کر دلِ حزیں پر بیحد چوٹ لگی کہ حضرت قبلہ رحمۃ للعٰلمین دنیا سے سفر آخرت فرما گئے۔‘‘
(’’تذکرہ حسن‘‘ صفحہ۲۰۶ مطبوعہ ۱۳۸۱ ؁ھ مصنف مولوی وکیل احمد مصدقہ دیوبندی مخدوم العلما مولوی خیر محمد ملتان)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ للعالمین کو مفتی حسن دیوبندی

پر فٹ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’تذکرہ حسن‘‘ اب نایاب ہے لیکن اس کا کافی حصہ ’’احسن السوانح‘‘ مطبوعہ جامعہ اشرفیہ لاہور نامی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ احسن السوانح میں یہ خط بھی شامل ہے جس میں مفتی محمد حسن کو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کہا گیا تھا لیکن اس خط میں سے لفظ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ نکال دیا گیا ہے۔ احسن السوانح میں یہ عبارت اس طرح کر دی گئی ہے:
’’آج نمازِ جمعہ کے موقع پر یہ خبر جانکاہ سن کر دلِ حزیں پر بے حد چوٹ لگی کہ حضرت قبلہ دنیا سے سفر آخرت فرما گئے۔‘‘
(احسن السوانح، صفحہ۸۳۲ مطبوعہ جامعہ اشرفیہ لاہور)

دیوبندی تحریف نمبر۵:

تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث مولوی زکریا کاندھلوی دیوبندی نے ’’فضائلِِ اعمال‘‘ میں شامل ایک باب ’’فضائلِِ نماز‘‘ کے آخری صفحہ پر بے توجہی کی حالت میں قرأتِ قرآن کو ہذیان اور بکواس سے تشبیہ دی:
’’نماز کا معظم حصہ ذکر ہے، قرأتِ قرآن ہے۔ یہ چیزیں اگر غفلت کی حالت میں ہوں تو مناجات یا کلام نہیں ہیں، ایسی ہی ہیں جیسے بخار کی حالت میں ہذیان اور بکواس ہوتی ہے۔
(فضائلِِ اعمال، صفحہ ۲۸۷، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی)
جبکہ یہی ’’فضائلِ اعمال‘‘ دیوبندیوں نے لاہور سے شائع کی تو اس میں سے ’’بکواس‘‘ کا لفظ اُڑا دیا۔ ’’فضائلِ اعمال‘‘ کے تحریف شدہ ایڈیشن میں یوں ہے:
’’نماز کا معظم حصہ ذکر ہے، قرأتِ قرآن ہے۔ اگر غفلت کی حالت میں ہو تو مناجات یا کلام نہیں ہیں ایسی ہی ہیں جیسے کہ بخار کی حالت میں ہذیان ہوتی ہے۔‘‘
(فضائلِ اعمال، صفحہ ۳۸۳ مطبوعہ کتب خانہ فیضی لاہور)

دیوبندی تحریف نمبر۶:

دیوبندی نام نہاد ’’غوثِ اعظم‘‘ مولوی رشید احمد گنگوہی نے اپنی کتاب ’’امداد السلوک‘‘ میں نبی پاک ﷺ کے سایہ نہ ہونے کو تواتر سے ثابت لکھا ہے یہ عبارت ملاحظہ کریں:
’’اور حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نور فرمایا اور تواتر ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے سایہ نہ تھا اور ظاہر ہے بجز نور کے تمام جسم سایہ رکھتے ہیں۔‘‘
(امداد السلوک، صفحہ ۲۰۳ مطبوعہ دارالتحقیق والاشاعت، لاہور)
نوٹ: تواتر کی تعریف مولوی فضل اللہ حسام الدین شامزئی دیوبندی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ ’’جس کو ایسا عدد کثیر روایت کرے کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونا عقلاً محال ہو۔‘‘ اس کے ایک سطر بعد لکھا ہے کہ ’’عقل اس بات کو محال سمجھے کہ ان راویوں نے اس خبر کے گھڑنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘ (تفہیم الراوی فی شرح تقریب النووی، صفحہ ۳۶۸ مطبوعہ مکتبہ جامعہ فریدیہ، اسلام آباد) تواتر کی وضاحت کے بعد معلوم ہوا کہ سایہ نہ ہونا اتنے بزرگوں سے ثابت ہے جس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کے قلم سے نبی پاک ﷺ کی ایک خصوصیت (یعنی سایہ نہ ہونا) ثابت ہو گئی جو کہ دیوبندیوں کے لیے موت کے مترادف ہے اس لیے دیوبندیوں نے اس عبارت میں شامل لفظ تواتر کو شہرت سے بدل دیا۔ یہ تحریف شدہ عبارت ملاحظہ کریں:
’’اور حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نور فرمایا اور شہرت سے ثابت ہے کہ آں حضرت ﷺ کے سایہ نہ تھا۔‘‘
دیوبندیوں نے لفظ تواتر کو شہرت کے ساتھ تبدیل کیا اس کی کیا وجہ ہے؟ آئیے شہرت کی تعریف دیوبندی مولوی ڈاکٹر خالد محمود مانچسٹروی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ دیوبندی مولوی صاحب نے شہرت کی تعریف میں لکھا ہے کہ ’’جس کے راوی ابتداء سند سے لے کر آخر سند تک دو یا دو سے زیادہ ہوں لیکن تواتر کو نہ پہنچتے ہوں۔‘‘ اس کے دو سطر بعد مولوی خالد محمود دیوبندی نے

شہرت کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’اسے قطع و یقین کا وہ درجہ حاصل نہیں ہوتا کہ اس کے منکر کو کافر کہا جاسکے قطع و یقین صرف حدیث متواتر میں ہوتا ہے۔‘‘ (آثار الحدیث، جلد دوم، صفحہ ۱۳۵، ۱۳۶ مصنف ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی) قارئین آپ نے ملاحظہ کیا کہ دیوبندیوں نے مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کی عبارت میں سے تواتر کو شہرت کے ساتھ اسی لیے بدلا کہ یہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی اس خصوصیت کو یہ کہہ کر مسترد کر دیں کہ یہ تواتر سے ثابت نہیں، اس لیے ہم پر حجت نہیں۔

دیوبندی تحریف نمبر۷:

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں ہندوستان کو ’دارالاسلام‘ قرار دیا تو دیوبندیوں نے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے انگریز کی حمایت میں فتویٰ دیا، اس لیے ہندوستان کو ’دار السلام‘ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف مولوی رشید احمد گنگوہی سے ہندوستان کے دارالسلام ہونے کے متعلق سوال ہوا تو مولوی رشید احمد گنگوہی نے جواب دیا کہ اکثر علما ہندوستان کو دارالسلام کہتے ہیں فتاویٰ رشیدیہ میں درج سوال اور جواب دونوں ملاحظہ کریں:
سوال: ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام۔ مدلل ارقام فرما دیں؟
الجواب: دارالحرب ہونا ہندوستان کا مختلف علماء حال میں ہے اکثر دارالسلام کہتے ہیں بعض دارالحرب کہتے ہیں۔ بندہ اس میں فیصلہ نہیں کرتا۔ فقط واللہ اعلم
رشید احمد عفی عنہ
(فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ ۸، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ، کراچی)
مولوی رشید احمد گنگوہی کے اس جوا ب سے (کہ ہندوستان کے اکثر علما ہندوستان کو دارالاسلام کہتے ہیں) دیوبندیوں کے الزام کی عمارت بے بنیاد ہو کر دھڑام سے گر جاتی ہے۔ اس لیے دیوبندیوں نے اپنے امام ربانی مولوی رشید احمد گنگوہی کے فتوے کو اعلیٰ حضرت کی دشمنی میں

’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ سے نکال دیا ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ کے مندرجہ ذیل ایڈیشنوں میں سے دیوبندیوں نے مندرجہ بالا اقتباس نکال دیا ہے۔
(۱) فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز تاجرانِ کتب قرآن محل، کراچی۔
(۲) فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ محمد علی کارخانہ اسلامی کتب، اردو بازار، کراچی۔
(۳) فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، لاہور۔
نوٹ: ادارہ اسلامیات کی شائع شدہ ’’تالیفاتِ رشیدیہ‘‘ میں ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ شامل ہے۔
اوپر ذکر کیے گئے تینوں ایڈیشنوں میں سے دیوبندیوں نے دار الاسلام والا حصہ نکال کر اپنے یہودیانہ مزاج کا ثبوت دیا ہے۔

دیوبندی تحریف نمبر۸:

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی کے خلیفہ عنایت علی شاہ لدھیانوی نے اپنی کتاب ’’باغِ جنت‘‘ میں دو جگہ نبی پاک ﷺ کو ’’بہروپیا‘‘ کہا ہے (نعوذ باللہ)۔ اس کی عبارت ملاحظہ کریں:
(۱)
بشر نور رب العلیٰ بن کے آیا
نئے رنگ میں جا بجا بن کے آیا
کہیں انبیاء بن کے شکلیں دکھائیں
کہیں صورتِ اولیاء بن کے آیا
کہیں شکلِ موسیٰ کہیں شکل عیسیٰ
کہیں یوسفِ مۂ لقا بن کے آیا
بڑے کھیل کھیلے بڑے روپ بدلے
زمانہ میں بہروپیا بن کے آیا
بنے انبیاء اولیاء سب براتی

جب دولہا حبیبِ خدا بن کے آیا
کہیں غریبوں بیکسوں میں شانیں دکھائیں
کہیں شہنشاہِ ہر دوسرا بن کے آیا
(باغِ جنت، صفحہ ۲۹۴، مطبوعہ الفیصل تاجرانِ کتب، لاہور)
(۲)
بشر نور رب العلیٰ بن کے آیا
نئے رنگ میں جا بجا بن کے آیا
کہیں انبیاء بن کے شکلیں دکھائیں
کہیں صورتِ اولیاء بن کے آیا
کبھی شکل موسیٰ کبھی شکلِ عیسیٰ
کبھی یوسفِ مہ لقا بن کے آیا
بڑے کھیل کھیلے بہت روپ بدلے
زمانہ میں بہروپیا بن کے آیا
بنے انبیاء اولیاء سب براتی
جب دولہا حبیبِ خدا بن کے آیا
(باغِ جنت، صفحہ ۳۲۴، مطبوعہ الفیصل، تاجرانِ کتب، لاہور)
اس کتاب کے نئے ایڈیشن میں ایک جگہ سے دیوبندیوں نے وہ شعر نکال دیا ہے جس میں نبی پاک ﷺ کو بہروپیا کہا گیا ہے۔ نئے ایڈیشن میں عبارت یوں درج ہے:
بشر نور ربّ العلی بن کے آیا
نئے رنگ میں جا بجا بن کے آیا

کہیں انبیا بن کے شکلیں دکھائیں
کہیں صورتِ اولیاء بن کے آیا
کہیں شکل موسیٰ کہیں شکل عیسیٰ
کہیں یوسف مہ لقا بن کے آیا
بنے انبیاء اولیاء سب براتی
جب دولہا حبیبِ خدا بن کے آیا
کہیں غریبوں بیکسوں میں شانیں دکھائیں
کہیں شہنشاہ ہر دوسرا بن کے آیا
(باغِ جنت، صفحہ ۴۱۱، مطبوعہ الفیصل، تاجرانِ کتب، لاہور)
دیوبندی دوسری جگہ سے ’’بہروپیا‘‘ کا لفظ نہ نکال سکے، ہو سکتا ہے یہ مضمون پڑھ کے اگلے ایڈیشن سے نکال دیں۔

دیوبندی تحریف نمبر۹:

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب ’’الدرالثمین‘‘ میں میلاد شریف سے متعلق اپنے والد شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ الدرالثمین فی مبشرات النبی الامی میں جو اپنے والد ماجد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب علیہ الرحمۃ سے نقل فرماتے ہیں: اخبرنی سیدی والدی قال کنت اصنع فی ایام المولد طعاماصلۃ بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یفتح فی سنۃ من السنین شئے اصنع بہ طعاماً فلم اجد الاجعا مقلیاً فقسمتہ بین الناس فوایتہ صلی اللہ علیہ وسلم بین یدیہ ہذہ الجص متبحجا بشاشا۔ فقط گرامی کا ایک واقعہ نقل کیا ہے، یہ واقعہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ میں بحوالہ ’’الدرالثمین‘‘ مذکور ہے۔ فتاویٰ رشیدیہ میں مذکور واقعہ ملاحظہ کریں۔
(فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ ۱۰۶، مطبوعہ سعید اینڈ سنز تاجرانِ کتب کراچی)
فتاویٰ رشیدیہ، مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی اس مندرجہ بالا عبارت کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے۔
’’مَیں ہمیشہ ہر سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے موقعہ پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا لیکن

ایک سال میں کھانے کا انتظام نہ کر سکا ہاں کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیے رات کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی خوشی کی حالت میں تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
چونکہ یہ واقعہ دیوبندی مذہب کے بالکل خلاف ہے اس لیے دیوبندیوں سے اور تو کچھ نہ ہوسکا لیکن ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق انہوں نے ’’الدرالثمین‘‘ میں تحریف کر دی تاکہ یہ میلاد شریف کے جواز کے لیے دلیل نہ بن سکے۔ دیوبندیوں نے ’’الدرالثمین‘‘ میں اپنی ’’نسلی‘‘ فن کاری (یعنی یہودیت) کا مظاہرہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا واقعہ میں سے ’’فی ایام المولد‘‘ یعنی ’’میلاد کے موقع پر‘‘ کے الفاظ نکال دیے۔ دونوں کے عکسی نقول ملاحظہ ہوں۔
(۱) اخبرنی سیدی الوالد قال: کنت اصنع طعاما صلۃ بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یفتح لی سنۃ من السنین شیء اصنع بہ طعاما فلم اجد الا حمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس، فرایتہ صلی اللہ علیہ وسلم وبین یدیہ ہذہ الحمص متبہجا بشاشا۔
(الدرالثمین، صفحہ ۱۶۲، مطبوعہ مکتبہ الشیخ، کراچی)
(۲) اخبرنی سیدے الوالد قال کنت اصنع بہ طعاماً صلۃ بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یفتح لی سنۃ من السنین شیء اصنع بہ طعاماً فلم اجد الا حمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس فرأیتہ صلی اللہ علیہ وسلم وبین یدیہ ہذہ الجص متبہجا بشاشا۔
(الدرالثمین، صفحہ ۶۱، مطبوع میر محمد کتب خانہ، کراچی)
حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد دشمنی کے حوالے سے فتنۂ نجدیت و دیوبندیت کی مثال آپ نے ملاحظہ کی، ان کا مقصد میلاد شریف کو نا جائز ثابت کرنا ہے۔ چاہے ان کو کتابوں میں تحریف ہی کرنی پڑے۔

دیوبندی تحریف نمبر۱۰:

علماے دیوبند کے ’’مفتی اعظم‘‘ جسٹس تقی عثمانی کے خطبات بنام ’’اصلاحی خطبات‘‘ پندرہ

جلدوں میں کراچی اور دیوبند سے شائع ہوئے۔ اصلاحی خطبات کی جلد نمبر۵ میں ایک وعظ ’’لباس کے شرعی اصول‘‘ کے نام سے شامل ہے جس میں تقی عثمانی نے عمامہ شریف کے رنگوں کے متعلق کہا کہ سفید، سیاہ اور سبز رنگوں کے عمامے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے ثابت ہیں۔ عبارت ملاحظہ کریں:
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سفید عمامہ پہننا بھی ثابت ہے اور سیاہ عمامہ پہننا بھی ثابت ہے، اور بعض روایات میں سبز عمامہ پہننا بھی ثابت ہے۔ تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف رنگوں کے عمامے پہنے ہیں۔‘‘
(اصلاحی خطبات، صفحہ ۲۸۵، مطبوعہ مکتبہ مدنیہ ابو المعالی دیوبند)
تقی عثمانی صاحب کے بیان سے ثابت ہوا کہ نبی پاک ﷺ کا سبز عمامہ شریف پہننا بھی روایات سے ثابت ہے لہٰذا یہ بھی سُنّت ہوا۔ دیوبندی چونکہ سبز عمامہ کے خلاف ہیں لہٰذا دیوبندیوں نے یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیوبندی ’’مفتی اعظم‘‘ تقی عثمانی کے خطبات میں تحریف کرتے ہوئے ’’سبز عمامہ‘‘ شریف کا ذکر نکال دیا۔ اس تحریف شدہ ایڈیشن کی عبارت اب یوں ہے:
’’حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ ﷺ کے سر پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ حضور اقدس ﷺ سے سیاہ عمامہ پہننا ثابت ہے اور بعض روایات سے سفید عمامہ پہننے کا بھی اشارہ ملتا ہے۔‘‘
(اصلاحی خطبات، صفحہ ۳۱۴، مطبوعہ میمن اسلامک پبلشرز، کراچی)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!