Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پُر اَ سرا ر شخص

حکایت نمبر209: پُر اَ سرا ر شخص

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن محمدطُوْسِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :” میں نے اُمّتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مشہور ولی حضرت سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو یہ فرماتے ہوئے سنا :” میرے اُستاذ حضرت سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی کبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے فرمایا: ”سردیوں کے دن تھے،میں مسجد کے دروازے کے قریب بیٹھاہوا تھاکہ میرے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے دو گدڑیاں اوڑھ رکھیں تھیں۔ میرے دل میں یہ بات آئی کہ شاید یہ ان میں سے ہے جو بھیک مانگتے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ اپنے ہاتھ سے کما کرکھاتا ۔ جب میں سویا تو خواب دیکھا کہ میرے پاس دو فرشتے آئے، مجھے بازو سے پکڑا اور اسی مسجد میں لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ قریب ہی ایک شخص دو گدڑیاں اوڑھے سورہاہے۔جب اس کے چہرے سے گدڑی ہٹائی گئی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ وہی شخص ہے جو میرے قریب سے گزراتھا۔ فرشتو ں نے مجھ سے کہا :” اس کا گو شت کھاؤ۔ ” میں نے کہا:”میں نے تو اس کی غیبت نہیں کی۔ ” کہا :” کیوں نہیں ! تیرے نفس نے اس کی غیبت کی اور تو نے اس کو حقیر جانا اور اس سے ناخوش ہوا۔”
حضرت سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی کبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر فرماتے ہیں:” پھر میری آنکھ کھل گئی خوف کی وجہ سے مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ میں مسلسل تیس (30)دن اسی مسجد کے دروازے پربیٹھا رہا،صرف فرض نماز کے لئے وہاں سے اٹھتا۔ میں دعا کرتاکہ دوبارہ وہ شخص مجھے نظر آجائے تاکہ اس سے معافی مانگو ں۔ ایک ماہ بعد وہ پُراَسرار شخص اس حال میں نظر آیاکہ اس کے جسم پر پہلے کی طرح دو گدڑیاں تھیں۔ میں فوراً اس کی طر ف لپکا، مجھے دیکھ کر وہ تیز تیز چلنے لگا ، میں بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ جب مجھے محسوس

ہو ا کہ شاید میں اس کے قریب نہ پہنچ سکو ں گا اور یہ مجھ سے دور چلا جائے گا تو میں نے کہا :” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ! میں تجھ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ ”اس نے کہا : ” اے ابراہیم ! کیا تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو دل کے ذریعے مومنین کی غیبت کرتے ہیں ؟”
حضرت سیِّدُناابراہیم کبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر فرماتے ہیں :” اس کی بات سن کر میں بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ جب افاقہ ہوا تو وہ شخص میرے سرہانے کھڑا تھا ۔” اس نے کہا :” کیا دوبارہ ایسا کروگے ؟” میں نے کہا :” نہیں ، اب کبھی بھی ایسا نہیں کرو ں گا۔ ” پھر وہ پُراَسرار شخص میری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور دوبارہ کبھی نظر نہ آیا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!