Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

دردِ دل کی دوا

حکایت نمبر388: دردِ دل کی دوا

حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ میں ایک جنگل سے گزر رہا تھا کہ ایک عورت کو دیکھا جس کے چہرے سے عبادت وریاضت کا نور ٹپک رہا تھا ۔ اس نے قریب آکر سلام کیا اور میں نے جواب دیا۔ اس نے مجھ سے کہا: ”تم کہا ں سے آرہے ہو ؟ ”میں نے کہا:”میں ایسے حکیم کے پاس سے آرہا ہوں جس جیسا کوئی اور نہیں۔” یہ سن کر عورت نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا:” افسوس ہے ! ایسے حکیم کے ساتھ رہتے ہوئے تمہیں کیا سوجھی کہ تم نے اس سے دوری اختیار کرلی اور سفر پر چلے آئے۔ حالانکہ وہ تو غرباء کاانیس، کمزوروں کا مدد گار اور غلاموں کا مولیٰ ہے ۔ پھر تیرے نفس نے اس سے جدائی کی جرأت کیسے کی ۔”
ا س عورت کے عارفانہ کلام سے میراد ل بھرآیااور میں زور زور سے رونے لگا ۔مجھے روتا دیکھ کر اس نے پوچھا :” تجھے

کس چیز نے رُلایا ؟” میں نے کہا : ” مرض کو دوا مل گئی اب جلد ہی شفاء مل جانے کی امید ہے ۔” کہا:” اے مسافر! اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو پھر رویا کیوں ؟ ”میں نے کہا:” کیا سچے لوگ روتے نہیں ۔” کہا: ”نہیں، کیونکہ روناتو دل کی راحت ہے اور اہلِ عقل کے ہاں تویہ نقص (یعنی خامی) شمار ہوتاہے ۔”میں نے کہا:” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نیک بندی!مجھے کوئی ایسی چیز سکھا جس سے اللہ ربُّ العزَّت مجھے نفع عطا فرمائے۔”کہا:” ہائے افسوس! جس حکیم کے پاس تو رہتا ہے اس کی قربت مل جانا ہی بہت بڑا فائدہ ہے۔ کیا اس عظیم دولت کے مل جانے کے باوجود تو مزید کسی اور شئے کا طالب بنتاہے ؟ ”میں نے کہا : ”اللہ تبارک وتعالیٰ جو چاہتا ہے کرتاہے ۔ اگر تو مناسب سمجھے تو مجھے کوئی نفع بخش چیز سکھادے۔” اس نے کہا:” اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کا شوق رکھتے ہوئے اس کی خوب عبادت کر ، بے شک وہ اپنے اولیاء کے لئے تجلِّی فرمائے گا۔ یہ اس لئے ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو دُنیا میں اُلفت کا ایسا جام پلایا ہے کہ اس کے بعد انہیں کبھی پیاس نہیں لگتی۔” یہ کہہ کہ وہ زار وقطار روتے ہوئے اس طرح التجائیں کرنے لگی:
” اے میرے مالک !اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! تو کب تک مجھے اس ناپائیدار دُنیا میں رکھے گا جہاں میں کسی کو بھی ایسا نہیں پاتی جو میری مصیبت میں میرا مدد گار ثابت ہو ۔” پھر وہ اس حال میں رخصت ہوئی کہ اس کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں اور زبان پرایک شعر جاری تھا جس کا مفہوم یہ ہے :” بندہ جب اپنے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں گم ہوجائے تو پھر اسے کسی ایسے طبیب کی امید نہیں رہتی جس سے وہ علاج کروائے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!