Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

يا دگار منانا

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
ترجمہ کنزالایمان:     تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت(۱) اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کريں(۲) وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔(۳)(پ۱۱، يونس:۵۸ )
تفسير:
    (۱)بعض علماء نے فرمايا  کہ اللہ کا فضل حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ہيں اور اللہ کی رحمت قرآنِ کريم۔ رب فرماتا ہے۔  وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا ﴿۱۱۳﴾ اور بعض نے فرمايا  کہ اللہ کا فضل قرآن ہے اوررحمت حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ہيں۔ رب فرماتا ہے، ؕوَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
    (۲)معلوم ہوا کہ قرآن مجيد کے نزول کے مہينے يعنی رمضان ميں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی ولادت کے مہينے يعنی ربيع الاوّل ميں خوشی منانا عبادات کرنا بہتر ہے، کيونکہ رب کی رحمت ملنے پر خوشی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم تو رب کی بڑی اعلیٰ نعمت ہيں، يہ خوشی رب کی نعمتوں کا شکريہ ہے۔ 
    (۳)يعنی يہ خوشی منانا دنيا  کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے کيونکہ يہ خوشی عبادت ہے جسکاثواب بے حساب ہے۔    (تفسير نورالعرفان)
error: Content is protected !!