اہل سنت و جماعت

تحریراعلیٰ حضرت


سنت والجماعت
۔امسلمانو! اچھی طرح غورسے سنو۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کومومن اورمسلمان کہتے تھے۔اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان واسلام ایک ہی چیزہے ۔گولفظ تودوہیں ۔اوراس میں لغوی تھوڑی سی فرق بھی ہے۔مگرشرعاً دونوں لفظوں میں کچھ فرق نہیں ہے۔ جب مسلمانوں کوابتدائے اسلام میں کافروں نے تکلیف پہنچائی ۔کچھ مسلمان مرداورعورتیں حبش کی طرف ہجرت کرگئے۔ انہی کو اللہ پاک نے مہاجرین اولین سے تعبیرفرمایا۔ بعدکوجس وقت سب مسلمان ہجرت کر گئے ،مدینہ طیبہ پہنچے۔ اللہ پاک نے ہجرت کرنے والوں کومہاجرین سے تعبیرفرمایا اوراہل مدینہ کوانصار سے۔ مگریہ مہاجروانصارکون تھے۔وہی مسلمان تھے ۔جن کو ابتدا میں مومن ومسلمان کہتے تھے۔اب ان سب کواصحاب رسولﷺ کہتے ہیں ۔اب ان میں بعض بدرکی لڑائی میں شریک تھے۔ ان کوبدری صحابہ کہتے ہیں۔ بعض صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔بعض غزوۂ احدمیں شریک تھے۔ان سب کوایک ایک نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جب نبی کریمﷺ اس عالم سے تشریف لے گئے اس وقت صحابہ کے درمیان میں خلافت کے متعلق کچھ اختلاف پڑا۔ اس میں سے بعض جوحضورﷺ کے زمانے میں خوف کے مارے ایمان ظاہرکرتے تھے حضورﷺ کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد صاف مرتدہوگئے۔بعض کارتدادظاہرنہیں ہوا۔مگرخلافت حضرت ابابکرصدیق ؄پرناراض تھے ۔ یہ بھی دراصل منافق ہی تھے۔ بعضوں نے آڑلے لی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی۔ یہ کہنے لگے کہ خلافت کے حقداراصل حضرت مولیٰ علی ہیں۔ ان کو شیعہ علی کہتے تھے۔بعضوں نے طرفدای کی عثمان غنی ؄ کی،انہوں نے حضرت مولی علی؄ کے مقابلے میں خروج کیا۔ ان ہی کو خوارج سے کہتے ہیں۔محمدابن عبدالوہاب نجدی خاندان اہل خوارج سے ہیں۔اوروہابی بھی اہل خوارج سے ہوئے۔ بعضوں نے ُقدرکاانکارکیا۔ان کوقدریہ کہتے ہیں۔بعضوں نے قیامت کے روزاللہ پاک کی رویت کاانکارکیا۔اورعذاب قبر کا انکارکیا۔سوال وجواب قبرکاانکارکیا۔ان کومعتزلہ کہتے ہیں۔غر ض ابتدائے اسلام میں جن کومومن مسلمان کہتے تھے۔بعدانہی کومہاجربھی کہے ۔انہی کوانصاربھی کہے۔ جب خلافت حضرت ابابکرصدیق ؄ پراتفاق کیا۔ انہی کواہل سنت والجماعت کہتے ہیں۔ اس واسطے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل وتقریرپراورصحابہ کے قول وفعل اور تقریرپرعمل کرنے والے اوراجماع امت پرعمل کرنے والے ہیں باقی یعنی رافضی،خوارجی،وہابی وغیرہ کے نزدیک صحابی کاقول وفعل حجت نہیں۔اسی واسطے انہوں نے صحابیوں کوبدعتی کہا۔رافضی ،خوارجی ،وہابی کے نزدیک اجماع امت بھی حجت نہیں۔ اسی واسطے رافضیوں نے حضرت ابابکرصدیق؄ کی خلافت کوانکارکیا۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک خلافت حضرت ابابکرصدیق؄ کوانکارکرناکفرہے۔ حضورﷺنے سنت والجماعت کے متعلق کہاکہ ایک جماعت ہمیشہ حق پررہے گی۔ اب یہی جماعت ابتداسے چلی آئی۔ اس کے سوائے جتنے ہیں اسلام سے خارج ۔اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ حدیث کی تعریف علمانے یہ کی ہے کہ صاحب ہدایہ علامہ جرجانی وشرح ترمذی میں شیخ محقق شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میںیہ تعریف کی ہے نبی کریمﷺ نے جوکچھ کیااورفرمایا اوران کے سامنے کسی نے کوئی کام کیا۔حضورﷺ خاموش رہے اس کو بھی حدیث کہتے ہیں۔۔ صحابی کاقول، صحابی کافعل اورصحابی کی تقریر اس کوبھی حدیث کہتے ہیں ۔تابعی کاقول۔تابعی کافعل اورتابعی کی تقریراس کوبھی حدیث کہتے ہیں۔ مذکورۂ بالاکے اعتبارسے حنفی پورے اہل حدیث ہیں ، کیوں کہ حضرت امام اعظم تابعین میں سے ہیں۔ ہم حنفی رسول اللہ ﷺکے قول وفعل اورتقریراورصحابہ کے قول وفعل اورتابعین کے قول وفعل اورتقریرپرعمل کرتے ہیں۔ مگرالاقدم فاالاقدم یعنی پہلے حضورﷺ کاقول وفعل اورتقریر۔ اس کے بعد صحابہ کاقول وفعل اور تقریر اس کے بعد تابعی کاقول وفعل اورتقریر۔٭٭٭
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *