Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ایمان و کفر کا بیان

ایمان و کفر کا بیان

ایمان کیا ہے؟

ایمان یہ ہے کہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بتائی ہوئی تمام باتوںکا یقین کرے اور دل سے سچ جانے۔

کفر کیا ہے؟

اگر کسی ایسی ایک بات کا بھی انکار ہے جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ اسلام کی بات ہے تو یہ کفر ہے۔ جیسے قیامت، فرشتے، جنت، دوزخ، حساب کو نہ ماننا یا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو فرض نہ جاننا۔ قرآن کو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کا کلام نہ سمجھنا۔ کعبہ قرآن یا کسی نبی یافرشتہ کی توہین کرنی یا کسی سنت کو ہلکا بتانا، شریعت کے حکم کا مذاق اڑانا اور ایسی ہی اسلام کی کسی معلوم و مشہور بات کا انکار کرنایا اُس میں شک کرنا یقینا کفر ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے ایمان و اعتقاد کے ساتھ اِقرار بھی ضروری ہے، جب تک کوئی مجبوری نہ ہو مثلاً منہ سے بولی نہیں نکلتی یا زبان سے کہنے میں جان جاتی ہے یا کوئی عضو کاٹا جاتا ہے تو اُس وقت زبان سے اِقرار کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف زبان سے خلافِ اسلام بات بھی جان بچانے کے لیے کہہ سکتا ہے لیکن نہ کہنا ہی اچھا ہے اور ثواب ہے۔ اِس کے سوا جب کبھی زبان سے کلمہ

کفر نکالے گا کافر سمجھا جائے گا، اگرچہ یہ کہے کہ خالی زبان سے کہا دل سے نہیں، اسی طرح وہ باتیں جو کفر کی نشانی ہیں جب اُن کو کرے گا کافر سمجھا جائے گا جیسے جنیو ( 1) ڈالنا، چٹیا رکھنا، صلیب لٹکانا۔

کتنی بات سے آدمی مسلمان ہوتا ہے ؟

مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ صرف دین اسلام ہی کو سچا مذہب مانے اور کسی ضروری دینی کا منکر نہ ہو اور ضروریاتِ دین سے کسی ضروری دینی کے خلاف عقیدہ نہ رکھتا ہو، اگرچہ تمام ضروریاتِ دین کا اس کو علم نہ ہو لہٰذا بالکل لٹھ گنوار جاہل جو اسلام اور پیغمبر ِاسلام (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو حق مانے اور اسلامی عقیدوں کے خلاف کوئی عقیدہ نہ رکھے، چاہے کلمہ بھی صحیح نہ پڑھ سکتا ہو وہ مسلمان ہے مومن ہے کافر نہیں، البتہ نماز روزہ حج وغیرہ اَعمال کے ترک سے گنہگار ہوگا لیکن مومن رہے گا اس لیے کہ اَعمال ایمان میں داخل نہیں۔
عقیدہ۲۲: جو چیز بے شبہ حرام ہو، اُس کو حلال جاننا اور جو یقینا حلال ہو اس کو حرام جاننا کفر ہے جب کہ یہ حرام و حلال ہونا معلوم ومشہور ہو یا یہ شخص اُس کو جانتا ہو۔

شرک کے معنی

شرک کے معنی ہیں اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کسی اور کو خدا جاننا یا عبادت کے لائق سمجھنا اور

یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے اس کے سوا کیسا ہی سخت کفر کیوں نہ ہو حقیقتاً شرک نہیں، کسی کافر کی مغفر ت نہ ہوگی، کفر کے سوا سب گناہ اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے۔
عقیدہ۲۳: کبیرہ گناہ کرنے سے مسلمان کافر نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے اگر بلا توبہ کیے مر جائے تو بھی اس کو جنت ملے گی، گناہ کی سزا بھگت کر یا معافی پا کر اور یہ معافی اللّٰہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے دے یا حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی شفاعت سے۔

________________________________
1 – ایک مخصوص دھاگہ جسے کفار مقدس جان کر گلے اور بغل میں باندھتے ہیں ۔
2 – قال العلامۃ التفتازانی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) :الاشراک ھو اثبات الشریک فی الالوہیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس اواستحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام۔شرح عقائد نسفی۔ (۱۲منہ) (شرح العقائد النسفیۃ،ص۲۰۱)

error: Content is protected !!