اسلام

فعل تعجب کا بیان

فعل تعجب کی تعریف:
     وہ فعل جو کسی چیز پر تعجب کے اظہار کے لیے وضع کیا گیا ہو ۔مَااَحْسَنَہ،(وہ کتنا حسین ہے!)
فعل تعجب بنانے کاطریقہ:
    ثلاثی مجرد سے فعل تعجب کے تین اوزان ہیں:  (۱)مَا أَفْعَلَہٗ(۲) أَفْعِلْ بِہٖ(۳)فَعُلَان کو بنانے کے الگ الگ طریقے ہیں۔
    (۱)۔۔۔۔۔۔فعل مضارع سے علامت مضارع حذف کر کے اس کی جگہ ہمزہ مفتوحہ اور اس سے پہلے ”مَا تعجبیہ”کا اضافہ کریں، عین اور لام کلمہ کوفتحہ دے کر آ خر میں ضمیر یا اسم ظاہر منصوب بڑھادیں۔ جیسے یَفْعَلُ سے مَاأَفْعَلَہٗ۔یا مَااَفْعَلَ زَیْداً۔
     (۲)۔۔۔۔۔۔فعل مضارع سے علامت مضارع کو حذف کر کے اس کی جگہ ہمزہ مفتوحہ کا اضافہ کریں ، عین کلمہ کو کسرہ دیکر لام کلمہ کو ساکن کردیں اورآخرمیں حرف جر (بِ)کے ساتھ ضمیریااسم ظاہر مجرورلے آئیں ۔ جیسے یَفْعَل ُسے أَفْعِلْ بِہٖ، أَفْعِلْ بِزَیْدٍ۔
     (۳)۔۔۔۔۔۔فعل مضارع سے علامت مضارع حذف کرکے فاء کلمہ کو فتحہ ، عین کلمہ کوضمہ اور لام کلمہ کو فتحہ دیدیجئے ۔ جیسے یَفْعَل ُسے فَعُلَ۔
تنبیہ :
    (۱)۔۔۔۔۔۔خیال رہے کہ ہر فعل سے فعل تعجب نہیں بن سکتا بلکہ اس کے بھی وہی
شرائط ہیں جو اسم تفضیل کے بیان میں ذکرکر دیے گئے ہیں۔
    (۲)۔۔۔۔۔۔پھریہاں بھی وہی تفصیل ہے کہ اگر فعل میں اول الذکر پانچ شرائط میں سے کوئی شرط مفقودہوتواس سے فعل تعجب اصلاً نہیں بن سکتا،نہ مَااَفْعَلَہٗ ، نہ أَفْعِلْ بِہٖ اورنہ فَعُلَ۔
    اگر آخرالذکر تین شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہوتواس سے ان اوزان پرتو فعل تعجب نہیں بن سکتا،البتہ ایک اور طریقہ سے بنایا جاسکتاہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے :
    اس فعل کے مصدر سے پہلے ”مَاأَشَدَّ”یا ”اَشْدِدْ” لگائیں گے۔
    ”مَاأَشَدَّ”
کے ساتھ مصدر نکرہ اور منصوب لائیں گے ،جیسے مَااَشَدَّ اِسْتِقَامَۃً  (وہ کس قدراستقامت والا ہے!)
    اور
”أَشْدِدْ” لانے کی صورت میں مصدر کے ساتھ حرف جر ”بَاء”کا اضافہ کریں گے اور آخر میں ضمیر یا اسم ظاہر مجرورآئے گا۔جیسے اَشْدِدْ بِعَمْیِہ (وہ کیسا اندھاہے)
اَشْدِدْ بِحُمْرَۃِ زَیْدٍ۔  (زید کتنا سرخ ہے !)

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!