مسجد میں بچے کو لانے کی ممانعت

مسجد میں بچے کو لانے کی ممانعت

Advertisement
سلطانِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ،فیض گنجینہ،صاحِبِ مُعَطّر پسینہ، باعثِ نُزُولِ سکینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ با قرینہ ہے :مسجدوں کو بچّوں اور پاگلوں اور خریدو فروخت اور جھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ ۔          (ابنِ ماجہ ج ا ص ۴۱۵،حدیث ۷۵۰)
ایسا بچّہ جس سے نَجاست (یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کا خطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حرام ہے اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہو تو مکروہ۔جو لوگ جُوتیاں مسجِد کے اندر لے جاتے ہیں ان کو اِس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر نَجاست لگی ہو تو صاف کرلیں اور جو تا پہنے مسجد میں چلے جانا بے اَدَبی ہے             (ردالمحتار ج۲ ص۵۱۸ )
بچّہ یا پاگل(یابے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو اس) کو دم کروانے کیلئے بھی مسجد میں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔چھوٹے بچّہ کو اچھی طرح کپڑے میں لپیٹ کر بلکہ” پیکنگ ”کر کے بھی نہیں لاسکتے۔ اگر آپ بچّہ وغیرہ کو مسجِدمیں لانے کی بھول کرچکے ہیں تو برائے کرم !فوراً توبہ کرکے آئِندہ نہ لانے کاعَہد کیجئے ۔ ہاں فِنائے مسجِد مَثَلاً امام صاحِب کے حُجرہ میں بچّہ کو لے جاسکتے ہیں جبکہ مسجِد کے اندر سے نہ گزرنا پڑے۔

گوشت مچھلی بیچنے والے

گوشت یا مچھلی بیچنے والے کے لباس میں سخت بد بُو ہوتی ہے لہٰذاان کو چاہئے کہ فارغ ہو کر اچّھی طرح نہائیں، صاف لباس زیبِ تن فرما ئیں، خوشبو لگائیں اور پھر مسجِد میں آئیں ۔نہانا اور خوشبو لگانا شَرط نہیں صِرف مشورۃً عرض کیا ہے، کوئی بھی ایسی ترکیب کریں کہ بد بُو مکمَّل طور پر زائِل(یعنی دُور) ہو جائے۔

بعض غذاؤں کی وجہ سے پسینے میں بدبو

بعض غِذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے بدبُو دار پسینہ آتا ہے ایسے اَفراد غذائیں تبدیل کریں۔

منہ کی صفائی کا طریقہ

جومِسواک او ر کھانے کے بعد خِلال کی سنّت ادا نہیں کرتے اور دانتوں کی صفائی کرنے میں سُست ہوتے ہیں اکثر اُن کے مُنہ بد بُو دار ہوتے ہیں۔صِرف
رَسمی طور پر مسواک اور خِلال کا تنکا دانتوں سے مَس کر دینا کافی نہیں ہو تا۔ مسوڑھے زخمی نہ ہو ں اِس احتیاط کے ساتھ ممکنہ صورت میں غذا کا ایک ایک ذرّہ دانتوں سے نکالنا ہو گا ورنہ دانتوں کے درمِیان غِذائی اَجزاء پڑے پڑے سڑتے اور سخت سڑانڈ کا باعِث بنتے رہیں گے ۔ دانتوں کی صفائی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی چیز کھانے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد اور اِس کے علاوہ بھی جب جب موقع ملے مَثَلاً بیٹھے بیٹھے کوئی کام کر رہے ہیں اُس وَقت پانی کا گُھونٹ منہ میں بھر لیں اور جُنبِشَیں دیتے رہیں یعنی ہِلاتے رہیں،اِس طرح مُنہ کا کچرا اور میل کچیل صاف ہوتا رہے گا ۔ سادہ پانی بھی چل جائے گا اور اگر نمک والا نیم گرم پانی ہو تو یہ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بہترین ” ماؤتھ واش” ثابِت ہو گا۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!