تراویح کی اُجرت کا شرعی حیلہ

تراویح کی اُجرت کا شرعی حیلہ

Advertisement
اِ س مبارَک فتویٰ کی روشنی میں تراویح کیلئے حافِظ صاحِب کی بھی ترکیب ہوسکتی ہے۔مَثَلاً مسجِد کی کمیٹی والے اُجرت طے کرکے حافِظ صاحِب کو ماہِ رَمَضانُ المبارَک میں نَماز عشاء کیلئے امامت پر رکھ لیں اور حافِظ صاحِب بِالتَّبَع یعنی ساتھ ہی ساتھ تراویح بھی پڑھا دیا کریں کیوں کہ رَمَضانُ المبارَک میں تراویح بھی نَمازِ عشاء کے ساتھ ہی شامل ہوتی ہے۔ یا یوں کریں کہ ماہِ رَمَضان المبارَک میں روزانہ تین گھنٹے کیلئے( مَثَلاًرات8تا11) حافِظ صاحِب کو نوکری کی آفر کرتے ہوئے کہیں کہ ہم جو کام دیں گے وہ کرنا ہوگا،تنخواہ کی رقم بھی
بتادیں۔ اگر حافِظ صاحِب منظور فرمالیں گے تووہ ملازم ہو گئے۔اب روزانہ حافِظ صاحِب کی ان تین گھنٹوں کے اندر ڈیوٹی لگادیں کہ وہ تراویح پڑھادیاکریں۔ یادرکھئے! چاہے امامت ہو یا خطابت ، مؤَذِّنی ہو یا کسی قسم کی مَزدوری جس کا م کیلئے بھی اِجارہ کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ یہاں اُجرت یاتنخواہ کا لین دَین یقینی ہے توپہلے سے رقم طے کرنا واجِب ہے،ورنہ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہوں گے۔ ہاں جہاں پہلے ہی سے اُجرت کی مقررہ رقم معلوم ہومَثَلاًبس کاکرایہ،یابازارمیں بوری لادنے ، لے جانے کی فی بوری مزدوری کی رقم وغیرہ۔ تواب باربارطے کرنے کی حاجت نہیں۔یہ بھی ذِہن میں رکھئے کہ جب حافِظ صاحِب کو (یاجس کوبھی جس کام کیلئے) نوکر رکھا اُس وقت یہ کہہ دینا جائز نہیں کہ ہم جو مناسب ہوگا دے دیں گے یا آپ کو راضی کر دیں گے ،بلکہ صَراحَۃً یعنی واضِح طورپر رقم کی مِقدار بتانی ہوگی، مَثَلاًہم آپ کو ۱۲ ہزار روپے پیش کریں گے اور یہ بھی ضَروری ہے کہ حافِظ صاحِب بھی منظور فرمالیں ۔اب بارہ ہزاردینے ہی ہوں گے، چاہے چندہ ہوسکے یانہ ہوسکے۔ ہاں حافِظ صاحِب کومطالَبہ کے بِغیر اگر اپنی مرضی سے طے شدہ سے زائد دے دیں تب بھی جائز ہے۔جو حافِظ صاحِبان ،یانعت خوان بِغیر پیسوں کے تراویح ، قراٰن خوانی یا نعت خوانی میں حصّہ نہیں لے سکتے وہ شرم کی
وجہ سے ناجائز کام کا ارتِکاب نہ کریں۔میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابِق عمل کرکے پا ک روزی حاصِل کریں۔اور اگر سخت مجبوری نہ ہو تو حِیلے کے ذَرِیعے بھی رقم حاصِل کرنے سے گُریز کریں کہ جس کاعمل ہوبے غرض اُس کی جزاکچھ اور ہے۔ایک امتحان سخت امتحان یہ ہے کہ جو ملنے والی رقم قَبول نہیں کرتااُس کی کافی واہ !واہ! ہوتی ہے اور وہ بے چارہ اپنے آپ کونہ جانے کس طرح ریاکاری سے بچاپاتا ہوگا!زہے مقدّر !ایسا جذبہ نصیب ہوجائے کہ بیان کردہ حِیلے کے ذَرِیْعے رقم حاصِل کرلے اور چُپ چاپ خیرات کردے مگر اپنے قریبی کسی ایک اسلامی بھائی بلکہ گھر کے کسی فرد کو بھی نہ بتائے، ورنہ ریاکاری سے بچنا دشوار ہوجائے گا۔لُطف تو اسی میں ہے کہ بندہ جانے اور اُس کا ربّ عَزَّوَجَلَّ جانے۔
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو    
     کر اخلاص ایسا عطا یا الہٰی
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!