قرض سے نجات کاعمل

قرض سے نجات کاعمل

ہر نَماز کے بعد سات بار سورہ قُریش ( اول آخِر ایک بار درود شریف ) پڑھ کر دعاء مانگئے ۔ پہاڑ جتنا قرض ہو گا تب بھی ا ِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ادا ہو جائے گا ۔ عمل تا حصول مُراد جاری رکھئے۔
Advertisement

قرضہ اُتارنے کا وظیفہ

اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
 (ترجمہ :یااللہ عزوجل مجھے حلال رزق عطا فرما کر حرام سے بچا اور اپنے فضل وکرم سے اپنے سوا غیروں سے بے نیاز کردے)تا حُصولِ مُرادہر نماز کے بعد 11 ،11 بار اور صبح وشام 100،100 بار روزانہ( اوّل وآخِر ایک ایک بار دُرُودشریف) پڑھئے۔مروی ہوا کہ ایک مکاتَب۱ ؎ نے حضرت مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں عرض کی :”میں اپنی کتابت(یعنی آزادی کی قیمت) ادا کرنے سے عاجِز ہوں میری مدد فرمائیے۔” آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:”میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسولُ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے سکھائے ہیں،اگر تم پرجَبَلِ صِیر ۲ ؎ جتنادَین( یعنی قرض) ہوگا تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادا کردے گا ،تم یوں کہا کرو، ” اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ  (ترجَمہ :یااللہ عزوجل مجھے حلال رزق عطا فرما کر حرام سے بچا اور اپنے فضل وکرم سے اپنے سواغیروں سے بے نیاز کردے)۔”              (جامِعِ تِرمِذی ج۵ ص۳۲۹ حدیث۳۵۷۴)
مَدَنی التجاء: عمل شُروع کرنے سے قبل حُضُورِ غوثِ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم کے ایصالِ ثواب کیلئے کم از کم گیارہ روپے کی نیاز اور کام ہو جانے کی صورت میں کم از کم پچیس روپے کی
نِیاز امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصالِ ثواب کیلئے تقسیم کیجئے۔(مذکورہ رقم کی دینی کتابیں بھی تقسیم کی جاسکتی ہیں)
صُبح وشام کی تعریف : آدھی رات کے بعد سے لیکر سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صُبح اور ابتِداءِ وقتِ ظُہر سے غُروبِ آفتاب تک شام کہلاتی ہے۔
مَدَنی مشورہ:پریشان حال اسلامی بھائی کو چاہئے کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ سنّتوں بھراسفرکرکے وہاں دعاء مانگے،اگر خودمجبور ہے مَثَلًا اسلامی بہن ہے تو اپنے گھر میں سے کسی اورکو سفرپربھجوائے۔
؎۱ مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کا معاہدہ کیا ہوا ہو۔ (المختصر القدوری ، کتاب المکاتب ص ۳۷۶) ؎۲ صیر ایک پہاڑ کا نام ہے ( النھایۃ ، ج ۳، ص۶۱)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!