Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حِکایت

حِکایت

حضرتِ سَیِّدُنا یَحْیٰ بِن سَعید بِن قَطَّان(رضی اللہ تعالیٰ عنہُ) نے اللہ عَزَّوَجَلّ َکو خواب میں دیکھا،عَرْض کی،اِلٰہی عَزَّوَجَلَّ!میں اکثر دُعاء کرتا ہوں۔اور تُو قَبول نہیں فرماتا؟حُکم ہوا،”اے یَحْیٰ!میں تیری آواز کو دَوست رکھتا ہوں ۔ اِس واسِطے تیری دُعاء کی قَبولِیَّت میں تاخِیر کرتا ہوں۔”
           (اَحْسَنُ الْوِعَاء ص۳۵)
    میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ابھی جو حدیثِ پاک اور حِکایت گزری اُس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ عزوجل کو اپنے نیک بندوں کی گِریہ وَزاری پسند ہے تو یُوں بھی بسا اوقات قَبُولِیَّتِ دُعاء میں تاخِیر ہوتی ہے۔اب اِس مَصلحت کو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں! بَہَر حال جلدی نہیں مچانی چاہئے۔اَحسَنُ الوِعَاء ص ۳۳ میں آدابِ دُعاء بَیان کرتے ہوئے حضرتِ رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین مولیٰنا نَقِی عَلی خان عَلَیْہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:۔
error: Content is protected !!