نامہ مبارک اور قیصر

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقدس خط لے کر ”بصریٰ” تشریف لے گئے اور وہاں قیصرروم کے گورنر شام حارث غسانی کو دیا۔ اس نے اس نامہ مبارک کو ”بیت المقدس” بھیج دیا ۔کیونکہ قیصرروم ”ہرقل” ان دنوں بیت المقدس کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔ قیصر کو جب یہ مبارک خط ملا تو اس نے حکم دیا کہ قریش کا کوئی آدمی ملے تو اس کو ہمارے دربار میں حاضر کرو۔ قیصر کے حکام نے تلاش کیا تو اتفاق سے ابوسفیان اور عرب کے کچھ دوسرے تاجر مل گئے۔ یہ سب لوگ قیصر کے دربار میں لائے گئے۔ قیصر نے بڑے طمطراق کے ساتھ دربار منعقد کیا اور تاج شاہی پہن کر تخت پر بیٹھا۔ اور تخت کے گرد اراکین سلطنت، بطارقہ اور احبار ورہبان وغیرہ صف باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ اسی حالت میں عرب کے تاجروں کا گروہ دربار میں حاضر کیا گیا اور شاہی محل کے تمام دروازے بند کردئیے گئے۔ پھر قیصر نے ترجمان کو بلایا اور اس کے ذریعہ گفتگو شروع کی۔ سب سے پہلے قیصر نے یہ سوال کیا کہ عرب
Advertisement
میں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تم میں سے ان کا سب سے قریبی رشتہ دار کون ہے؟ ابوسفیان نے کہاکہ ”میں” قیصر نے ان کو سب سے آگے کیااور دوسرے عربوں کو ان کے پیچھے کھڑا کیا اور کہا کہ دیکھو! اگر ابوسفیان کوئی غلط بات کہے تو تم لوگ اس کا جھوٹ ظاہر کردینا۔ پھر قیصر اور ابوسفیان میں جو مکالمہ ہوا وہ یہ ہے۔
قیصر:    مدعی نبوت کا خاندان کیسا ہے؟
ابوسفیان:    ان کا خاندان شریف ہے۔
قیصر:    کیا اس خاندان میں ان سے پہلے بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟
ابوسفیان:    ”نہیں”۔
قیصر:    کیا ان کے باپ داداؤں میں کوئی بادشاہ تھا؟
ابوسفیان:    نہیں ۔
قیصر:    جن لوگوں نے ان کا دین قبول کیا ہے وہ کمزور لوگ ہیں یا صاحب اثر؟
ابوسفیان:    کمزور لوگ ہیں۔
قیصر:    ان کے متبعین بڑھ رہے ہیں یا گھٹتے جارہے ہیں؟
ابوسفیان:    بڑھتے جارہے ہیں۔
قیصر:    کیا کوئی ان کے دین میں داخل ہوکر پھر اس کو ناپسند کرکے پلٹ بھی 
جاتا ہے؟
ابوسفیان:    ”نہیں”۔
قیصر:    کیا نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے تم لوگ انہیں جھوٹا سمجھتے تھے؟
ابوسفیان:    ”نہیں”۔
قیصر:    کیا وہ کبھی عہدشکنی اور وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں؟
ابوسفیان:     ابھی تک تونہیں کی ہے لیکن اب ہمارے اوران کے درمیان (حدیبیہ)
میں جو ایک نیا معاہدہ ہوا ہے معلوم نہیں اس میں وہ کیا کریں گے؟
قیصر:    کیا کبھی تم لوگوں نے ان سے جنگ بھی کی؟
ابوسفیان:    ”ہاں”۔
قیصر:    نتیجہ جنگ کیا رہا؟
ابوسفیان:    کبھی ہم جیتے، کبھی وہ۔
قیصر:    وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟
ابوسفیان:    وہ کہتے ہیں کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو کسی اور کو خدا کا شریک 
نہ ٹھہراؤ، بتوں کو چھوڑو، نماز پڑھو، سچ بولو، پاک دامنی اختیارکرو، 
رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔(1)
اس سوال و جواب کے بعد قیصر نے کہا کہ تم نے ان کو خاندانی شریف بتایا اور تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ہمیشہ پیغمبر اچھے خاندانوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں۔ تم نے کہا کہ ان کے خاندان میں کبھی کسی اور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ یہ شخص اوروں کی نقل اتار رہا ہے۔ تم نے اقرار کیا ہے کہ ان کے خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو میں سمجھ لیتا کہ یہ شخص اپنے آباء واجداد کی بادشاہی کا طلبگار ہے۔ تم مانتے ہو کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے وہ کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولے تو جو شخص انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا بھلا وہ خدا پر کیوں کر جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ تم کہتے ہو کہ کمزور لوگوں نے ان کے دین کو قبول کیا ہے۔ تو سن لو ہمیشہ ابتداء میں پیغمبروں کے متبعین مفلس اور کمزور ہی لوگ ہوتے رہے ہیں۔ تم نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی پیروی کرنے والے بڑھتے ہی جارہے ہیں تو ایمان کا معاملہ ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد ہمیشہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ تم کو یہ تسلیم ہے کہ کوئی ان کے دین سے پھر کر مرتد نہیں ہورہا ہے۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ ایمان کی شان ایسی ہی ہوا کرتی ہے کہ جب اس کی لذت کسی کے دل میں گھر کرلیتی ہے تو پھر وہ کبھی نکل نہیں سکتی۔ تمہیں اس کا اعتراف ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی غداری اور بدعہدی نہیں کی ہے۔ تو رسولوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ کبھی کوئی دغا فریب کا کام کرتے ہی نہیں۔ تم نے ہمیں بتایا کہ وہ خدائے واحد کی عبادت، شرک سے پرہیز، بت پرستی سے ممانعت، پاک دامنی، صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ تو سن لو کہ تم نے جو کچھ کہا ہے اگر یہ صحیح ہے تو وہ عنقریب اس جگہ کے مالک ہوجائیں گے جہاں اس وقت میرے قدم ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک رسول کا ظہور ہونے والا ہے مگر میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ رسول تم عربوں میں سے ہوگا۔ اگر میں یہ جان لیتا کہ میں ان کی بارگاہ میں پہنچ سکوں گا تو میں تکلیف اٹھاکر وہاں تک پہنچتااور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کا پاؤں دھوتا۔ قیصر نے اپنی اس تقریر کے بعد حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا جائے۔ نامہ مبارک کی عبارت یہ تھی۔
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم من محمد عبد اﷲ ورسولہ الی ہرقل عظیم الروم سلام علٰی من اتبع الھدی اما بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام اسلم تسلم یوتک اﷲ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الاریسین یااھل الکتاب
تعالوا الٰی کلمۃ سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الا اﷲ ولا نشرک بہ شیأا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اﷲ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(1)
شروع کرتاہوں میں خداکے نام سے جوبڑامہربان اورنہایت رحم فرمانے والاہے۔ اللہ کے بندے اور رسول محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے یہ خط ”ہرقل” کے نام ہے جو روم کا بادشاہ ہے۔ اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کا پیرو ہے۔ اس کے بعد میں تجھ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں تو مسلمان ہوجا تو سلامت رہے گا۔ خدا تجھ کو دوگنا ثواب دے گا۔ اور اگر تو نے روگردانی کی توتیری تمام رعایاکا گناہ تجھ پر ہوگا۔ اے اہل کتاب!ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کو خدا نہ بنائیں اور اگر تم نہیں مانتے تو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں!
    قیصر نے ابوسفیان سے جو گفتگو کی اس سے اس کے درباری پہلے ہی انتہائی برہم اور بیزار ہوچکے تھے۔ اب یہ خط سنا۔ پھر جب قیصر نے ان لوگوں سے یہ کہا کہ اے جماعت روم!اگر تم اپنی فلاح اور اپنی بادشاہی کی بقا چاہتے ہوتو اس نبی کی بیعت کرلو۔ تو درباریوں میں اس قدر ناراضگی اور بیزاری پھیل گئی کہ وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بدک بدک کردربارسے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔مگرچونکہ تمام دروازے بند تھے اس لئے وہ لوگ باہر نہ نکل سکے۔جب قیصر نے اپنے درباریوں کی نفرت کا یہ منظر دیکھا تو وہ ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگیا اور اس نے کہا کہ ان درباریوں کو بلاؤ۔ جب سب آگئے تو قیصر نے کہا کہ ابھی ابھی میں نے تمہارے سامنے جو کچھ
کہا۔ اس سے میرا مقصد تمہارے دین کی پختگی کا امتحان لینا تھا تو میں نے دیکھ لیا کہ تم لوگ اپنے دین میں بہت پکے ہو۔ یہ سن کر تمام درباری قیصر کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور ابوسفیان وغیرہ دربار سے نکال دئیے گئے اور دربار برخواست ہوگیا۔ چلتے وقت ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب یقینا ابوکبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا معاملہ بہت بڑھ گیا۔ دیکھ لو! رومیوں کا بادشاہ ان سے ڈر رہا ہے۔(1) 
(بخاری باب کیف کان بدء الوحی ج۱ ص۴ تا۵ومسلم ج۲ ص ۹۷ تا ۹۹،مدارج ج ۲ص۲۲۱وغیرہ)
قیصر چونکہ توراۃ و انجیل کا ماہر اور علم نجوم سے واقف تھا اس لئے وہ نبی آخرالزماں کے ظہورسے باخبر تھا اور ابوسفیان کی زبان سے حالات سن کر اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہوگیا تھا۔ مگر سلطنت کی حرص و ہوس کی آندھیوں نے اس چراغ ہدایت کو بجھا دیا اور وہ اسلام کی دولت سے محروم رہ گیا۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!