قیامت میں مفلس کون ؟

قیامت میں مفلس کون ؟

تاجدارِ مدینہ منوّرہ، سلطانِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابہ کِرَام علیھمُ الرضوان سے اِسْتِفْسار فرمایا،”کیا تم جانتے ہو کہ مُفلِس کون ہے؟” صَحابہئ کِرَام علیھم الرضوان نے عرض کی ،یا رسولَ اللہ عزوجل و َ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہم میں سے مُفلِس تو وہ ہے
جس کے پاس دِرہم و دُنیاوی سازوسامان نہ ہو۔ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:” میری اُمّت کا مُفلِس ترین شخص وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ، زکوٰۃ تو لیکر آئے گا مگر ساتھ ہی کسی کو گالی بھی دی ہوگی،کسی کوتُہمت لگائی ہوگی، اُس کا مال ناحَق کھایا ہوگا،اُسکا خون بہایا ہوگا،اسکو مارا ہوگا،پس ان سب گُناہوں کے بدلے میں اس کی نیکیاں لی جائیں گی۔پس اگر اسکی نیکیاں خَتْم ہوجائیں اور مزید حَقدار باقی ہو ں تو اُن(یعنی مظلوموں) کے گُناہ لیکر بدلے میں اِس (یعنی ظالم) پرڈالے جائیں گے پھر اس (ظالم) شخص کو جہنَّم میں ڈال دیا جائے گا۔”
                (صحیح مسلم ص۱۳۹۴حدیث۲۵۸۱)
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!