انصاریوں سے خطاب

جن لوگوں کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بڑے بڑے انعامات سے نوازا وہ عموماً مکہ والے نو مسلم تھے۔ اس پر بعض نوجوان انصاریوں نے کہاکہ
    ”رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قریش کو اس قدر عطا فرما رہے ہیں اور ہم لوگوں کا کچھ بھی خیال نہیں فرما رہے ہیں۔حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوۂ طائف)
    اور انصار کے کچھ نوجوانوں نے آپس میں یہ بھی کہا اور اپنی دل شکنی کا اظہار کیا کہ جب شدید جنگ کا موقع ہوتا ہے تو ہم انصاریوں کو پکارا جاتا ہے اور غنیمت دوسرے لوگوں کو دی جا رہی ہے۔(2) (بخاری ج۲ ص۶۲۱ غزوۂ طائف)
    آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب یہ چرچا سنا تو تمام انصاریوں کو ایک خیمہ میں جمع فرمایا ا ور ان سے ارشاد فرمایا کہ اے انصار!کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!(عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے سرداروں میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا ہے۔ ہاں چند نئی عمر کے لڑکوں نے ضرور کچھ کہہ دیا ہے۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم پہلے گمراہ تھے میرے ذریعہ سے خدا نے تم کو ہدایت دی، تم متفرق اور پراگندہ تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمایا، تم مفلس تھے، خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو غنی بنا دیا۔(بخاری ج۲ ص۶۲۰ غزوۂ طائف)
    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار آپ کے ہر جملہ کو سن کر یہ کہتے جاتے تھے کہ”اﷲ اور رسول کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔” 
    آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے انصار!تم لوگ یوں مت کہو، بلکہ مجھ کو یہ جواب دو کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو ہم لوگوں نے آپ کی تصدیق کی۔ جب لوگوں نے آپ کو چھوڑ دیا تو ہم لوگوں نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ جب آپ بے سروسامانی کی حالت میں آئے تو ہم نے ہر طرح سے آپ کی خدمت کی۔ لیکن اے انصاریو! میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں تم مجھے اس کا جواب دو۔سوال یہ ہے کہ
    کیا تم لوگوں کو یہ پسند نہیں کہ سب لوگ یہاں سے مال و دولت لے کر اپنے گھر جائیں اور تم لوگ اﷲ کے نبی کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔خدا کی قسم! تم لوگ جس چیز کو لے کر اپنے گھر جاؤ گے وہ اس مال و دولت سے بہت بڑھ کر ہے جس کو وہ لوگ لے کر اپنے گھر جائیں گے۔
    یہ سن کر انصار بے اختیار چیخ پڑے کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم اس پر راضی ہیں۔ ہم کو صرف اﷲعزوجل کا رسول چاہیے اور اکثر انصار کا تو یہ حال ہو گیا کہ وہ روتے روتے بے قرار ہو گئے اور آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔
پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار کو سمجھایا کہ مکہ کے لوگ بالکل ہی نو مسلم ہیں۔ میں نے ان لوگوں کو جو کچھ دیا ہے یہ ان کے استحقاق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ صرف ان کے دلوں میں اسلام کی اُلفت پیدا کرنے کی غرض سے دیا ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اگرہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اور اگر تمام لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔(1) 
(بخاری ج۲ ص۶۲۰ و ص۶۲۱ غزوۂ طائف)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *