Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

۔۔۔۔۔۔ اشتغال ومشغول عنہ کابیان۔۔۔۔۔۔

اشتغال کی تعریف:
    اشتغال کا لغوی معنی فارغ ہونا ،مصروف ہونا،مشغول ہونا ہے،جبکہ اصطلاح میں جب کسی اسم کے بعد کوئی فعل یاشبہہ فعل ہواور یہ فعل یا شبہہ فعل اپنے مابعد ضمیریااس سے متصل اسم میں اسطرح عمل کررہا ہو کہ اگراسکے مابعد معمول کوحذف کردیا جا ئے تویہ (فعل یا شبہہ فعل) ماقبل اسم کو نصب دے اس عمل کو نحویوں کی اصطلاح میں اشتغال کہتے ہیں ، اور فعل یاشبہ فعل سے ماقبل آنیوالے اسم کو مشغول عنہ کہتے ہیں ۔ جیسے زَیْدًا ضَرَبْتُہ،،  (میں نے زید کو مارا) زَیْدًا ضَرَبْتُ أَخَاہ،  (میں نے زید کے بھائی کو مارا) ان مثالوں میں زَیْدًا مشغول عنہ ہے۔ اور اسکے مابعد فعل بھی ہے جو ضمیر یا اس سے متصل اسم میں اس طر ح عمل کررہا ہے کہ اگراسکے مابعد معمول کوحذف کردیا جا ئے تویہ ماقبل اسم کو نصب دیگا۔ اصل عبارت اس طرح تھی ضَرْبَتُ زَیْدًا ضَرَبْتُہ، اور ضَرَبْتُ زَیْدًا ضَرَبْتُ أَخَاہ، پھر زَیْدًا سے پہلے ضربت کو حذف کر دیاگیا، کیونکہ مابعد فعل اس کی تفسیر بیان کررہاہے۔ اسے اضمار علی شریطۃ التفسیر بھی کہتے ہیں، یہاں پہلے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ مشغول عنہ کے اعراب کی مختلف صورتیں ہیں کبھی رفع واجب کبھی نصب واجب اور کبھی دونوں جائز۔ 
۱۔رفع واجب:
    جب اسم مشغول عنہ سے پہلے ایسے حروف آجائیں جو حروف اسماء ہی پر داخل ہوتے ہیں توایسی صورت میں رفع واجب ہے جیسے دَخَلْتُ الْبُسْتَانَ فَاِذَا الأَعْدَاءُ أَشَاھِدُھُمْ  (میں باغ میں داخل ہو اتو اچانک میں نے دشمنوں کو دیکھا) ۔
    اس مثال میں اِذَا فجائیہ ،أَلأَعْدَاءُ مشغول عنہ سے پہلے آگیا یہ حرف اسموں پرہی داخل ہوتا ہے۔ لہذا اس صورت میں رفع واجب ہے۔ یہ رفع مشغول عنہ کے مبتداء بننے کی وجہ سے واجب ہے۔ اسی طرح لَیْتَمَاالْعِلْمُ حَصَلْتُہ،، ا س میں بھی أَلْعِلْمُ پر رفع واجب ہے۔ 
۲۔نصب واجب:
        جب مشغول عنہ سے پہلے ایسے حروف آجائیں جوصرف افعال ہی پر داخل ہوتے ہیں تو اس صورت میں نصب واجب ہے۔ مثلا کلمات شرط اِنْ، لَوْ، حَیْثُمَا، مَتٰی وغیرہ جیسے اِنَّ الْبُسْتَانَ دَخَلْتَہ، فَلا تَقْطَفِ الازھارَ ۔ حروف تحضیض ھَلاَّ ، أَلاَّ ،لَوْلاَ جیسے:۔ ھَلاَّ ضَعِیْفًا نَصَرْتَہ،
(تو نے کمزورکی مدد کیوں نہیں کی) ۔
نوٹ :
    اگر ہمزہ کے علاوہ حروف استفہام آجائے تو پھر بھی نصب واجب ہے۔ جیسے أینَ الکتابَ وضعتَہ۔
۳۔رفع و نصب دونوں جائز:
        جہاں مذکورہ بالا دونوں صورتیں نہ پائی جائیں وہا ں رفع پڑھنا بھی جائز ہے جیسے محمودٌ دعوتُہ اس صورت میں اسے مبتداء مان لیں گے اور نصب بھی پڑھ سکتے ہیں۔جیسے مَحْمُوْداً دَعَوْتُہ اس صورت میں مشغول عنہ سے پہلے فعل محذوف مان لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!