حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری
ارض دکن کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ اردو کاابتدائی مولدومسکن ہے اور اردو کی جنم بھومی میں شعراء وادبا کاایک لشکرِ جرار ہے جو شعری وادبی کاوشوں میں مصروف ومنہمک ہے۔کچھ لوگ نامور ہیں اور کچھ جادۂ ناموری پر مصروف سفر ہیں۔ایسے اصحاب تگ وتازمیں حیدرمظہری کا اسم گرامی ہے  ۔حیدرمظہری  ایکایسا شخص ہے جو کہنہ مشق اور پختہ کارشاعر ہونے کے علاوہ ایک دردمند اوس احساس مزاج کاحامل ہے۔اسے شعر کہنے کاسلیقہ ودیعت کیاگیاہے۔اس لیے شعر میں کہیں تکلف وسجاوٹ نہیں بلکہ ایک بے ساختہ پن ہے۔ان کی نگارشات کا مطالعہ کرنے والوں کومحسوس ہوگا کہ ان کا سخن سادگی کے رنگ کا حامل ہے مگر اس میں جذبے کی تاثیر کی فراوانی ہے۔جگہ جگہ شاعر کا شعری شعور رنگ جماتا ہوا نظرآتاہے وہ قدم بہ قدم اپنے تجربات کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںایک حدتک وضع دار بھی ہیں مگربے تکلفی انہیں بہت پسند ہے۔ان کی لفظیات میں ایک ارتقا کا عمل صاف دکھائی دیتاہے۔ان کی ترکیبات اپنے اندر ایک شان دلآویزی لیے ہوئے ہیں ان کی مستقل اور شعروادب کی عرق ریزی انہیں اپنے ہم عصروں سے کافی آگے لے گئی ہے۔ 
Advertisement
جوچیز اس کے کلام کو پڑھتے وقت قاری کو متوجہ کرتی ہے وہ اس کا فطری حسنِ ادا ہے۔وہ شعر کچھ اس انداز سے کہہ جاتاہے کہ داد دیے ہی بنتی ہے۔
کوئی بتلائے چراغوں کو ہوا کی نیت
جل اٹھے ہیں یہ سرِ شام خیر خدا کرے
٭
اسے ہی ان دنوں ویرانیاں  بھی راس نہیں
جو شخص شہر میں بھی خال خال رہتاہے
٭
راس آئے نہ راس آئے گلشن کی فضا دائم
بے وجہ سہی لیکن  زنداں پہ نظر رکھنا
٭
بال آئے تو آئینہ دل کا
پھر کسی کام کا نہیں ہے کیا
یہی حسن ادا بعض اوقات اس سے ایسے چونکادینے والا شعرکہلواتی ہے ہے جنہیں پڑھ کر آپ خود وجد کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور خوشگوار حیرت ذہن ودماغ پر طاری ہوجاتی ہے۔یہ اشعار دیکھئے
پتھروں کا ہے شہر چپ ہو جا

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

زندگی کو پکارنے والے
پاسداری مل نہ پائے گی ترے فن کو یونہی
غم کی اس تصویر میں رنگِ حنا رہنے بھی دے
زمیں پر ہے متاعِ زندگانی
ستاروں میں جہاں کوئی نہیں ہے
جبرزیست شائد مڈل کلاس کا مقدر ہے۔حیدرمظہری اسی جبرِ زیست کا شاعر ہے
زندگی ہے تو حادثے کتنے
ناگہاں ناگہاں نہیں ہوں گے 
کرایہ دار نہیں تھا کسی محل میں کبھی
غریب تھا بھی تو اپنے مکان میں میں تھا
مگرزندگی کے اس جبر نے اسے جین اسکھایا ہے وہ خود بیں اورخود آگاہ ہے اور یہی احساس ذات زندگی کے اس خرابے میں اسے قوت حیات عطاکرتا ہے
ابھی ڈھلتے نہیں آنکھوں سے آنسو
ابھی سینے میں پتھر جاگتا ہے
حقیقت جھیلتے آگے بڑھے ہیں
فقط خوابوں کے بہلائے نہیں تھے 
حیدرمظہری کی شاعری غیرروایتی شاعری ہے مگراس نے اپنا رشتہ روایت سے توڑانہیںاور سچی بات یہ ہے کہ احساس روایت کے بغیر اچھی شاعری جنم ہی نہیں لیتی۔ان کے جواشعارمیںنقل کرتاآیا ہوںوہ روایتی ہرگزنہیںمگرروایت سے وابستگی کی دین ہیں۔یہ بات تجربے کی نہیں احساس کی ہے۔
 حیدر مظہری ایک سوچتے ذہن کا ذہن کا شاعر ہے اسے اپنے معاشرے کے تضادات ،سیاہ دھبے،بونے قد،بلندبانگ نعرے سبھی کچھ سنائی دیتے ہیں اور دکھائی بھی۔وہ ان پہ کڑھتابھی ہے اور ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پرجوناانصافیاں،حق تلفیاں بلکہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے اسے اس نے محسوس بھی کیاہے اور اس طرف متوجہ بھی کیاہے اور اس پر طنز بھی کیا ہے۔
کبھی تو قوت کی بے پنا ہی اتارتی ہے زمیں پہ دوزخ
فرشتگی کے لباس ہی میں یہ آدمی بدخصال بھی ہے
ہر ستم گر کا نام لیتا ہے
پر زمانے کو بھول جاتا ہے
اور روتا ہے اپنی حالت پر
مسکرانے کو بھول جاتا ہے
لیکن اس صورت حال نے اسے انسان سے مایوس نہیں کیا۔وہ احترام ِ 
آدمیت کا شاعر ہے۔انسانی عظمتوںکا معترف اور اس کے ا مکانات کامبلغَ
پیغامِ محبت ہی ہر دل کا اثاثہ ہے
ہر لمحہ محبت کے ساماں پہ نظر رکھنا
تمام عمر مسلسل اڑان میں میں تھا
بہت تھکا تھا مگر آسمان میں میں تھا
اڑانوں میں وہ شہپر لے گیا تھا
فرشتوں کا مقدر لے گیا تھا
زمیں پر کھینچ لے آئے مسائل
وہ خود کو آسماں پر لے گیا تھا
 آدمیت کایہی احترام ہے جس نے اسے محبت کامغنی بنادیاہے۔وہ محبت مانگتا اور محبت بانٹتا ہے۔محبت کی تکرار اس کے کلام میں اس قدر ہے کہ بعض اوقات وہ مبلغ محبت نظرآنے لگتا ہے۔
ساری دنیا قحط زدہ سی لگے
کون خوشیوں کی بھیک ڈالے گا
مخالفت تھی تصادم تھا شور تھا حیدرؔ
کہاں سکون تھا اک امتحان میں میں تھا

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

لیکن بات صرف موضوعات کی نہیں ہے بلکہ طرزادا کی ہے شعر میںجان حسن  ادا سے پڑتی ہے وہ حیدر مظہری کوخوب عطاہواہے۔جوایسے شعرکہہ جاتے ہیں

کبھی نہ ترک محبت کی سوچئے حیدرؔ
کہ زندگی ہے تو جی کا وبال رہتاہے
اوروں کی طرح تیری قسم جی نہیں پائے
شامل نہ رہا درد تو ہم جی نہیں  پائے
اک جہنم میں بھی تروتازہ
دل ہے ایسا کہ پھول لگتا ہے
دفترِ اعمال میں لفظِ خطا رہنے بھی دے
آدمی ہوں تو مجھے  تھوڑا بُرا رہنے بھی دے
تعلق اجنبیت کا تماشہ
محبت۔۔۔۔۔شاعری کی آبرو تھی
اس کی فنکارانہ بصیرت اور شعری قامت سے انکار ممکن نہیں۔حیدر مظہری کو شعر کہناآتاہے۔اور وہ اس آسانی سے شعر کہتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!