Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کے صوفیانہ افکار

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی
کے صوفیانہ افکار

بقلم : شاہ محمد فصیح الدین نظامی اشرفی رضوی،
مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ‘ حیدرآباد ۔دکن

قرآن کریم میں صادقین، صادقات، خاشعین خاشعات، قانتین قانتات، موقنین، مخلصین، محسنین، خائفین، وجلین، راجین، عابدین، سائحین، صابرین، متوکلین، مخبتین، اولیاء، متقین، ابرار، مقربین، مشاہدین، مطمئنین، سابقین، مسارعین فی الخیرات کا ذکر ہے۔ بس انہی کو ہم عارف یا صوفی کہتے ہیں جو ان اعمال و اخلاق و مقامات سے متصف ہوں اس لئے معرفت سے غفلت جائز نہیں۔ 
معرفت کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان خود کو پہچانے، اپنی ابتداء اور انتہا اور پیدائش کی غرض کو جانے جو خود کو نہیں پہچانتا اور برق و باد، جغرافیہ بلاد، بُعد و حجم آفتاب، منازلِ ماہتاب، سیاروں کا نظام، احوالِ زماں و مکان سے واقف ہے یقینا وہ سراسر نا واقف ہے کوئی عقلمند اس شخص کو جو دنیا بھر سے خبردار ہو مگر اپنے گھر سے بے خبر ہو، باخبر یا ہوشیار نہیں کہتا بلکہ اس سے یوں خطاب کرے گا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
جو اپنے افکار کی دنیا میں سفر کرتا ہے اس کو اپنے اندر چھ بڑے بڑے سمندر نظر آئیں گے۔( ۱) بحرِ شہوات (۲) بحرِ علم (۳) بحرِ ذکر (۴) بحرِ فکر (۵) بحرِ معرفت (۶) بحرِ توحید۔
ہر سمندر میں بڑی زبردست موجیں ہیں ہر ایک کے اندر عجیب و غریب جواہرات ہیں، ہر ایک کو طے کرنے کے لئے مختلف جہاز ہیں ہر جہاز کے ملاح الگ ہیں۔ بحرِ شہوات، لطیفہ نفس کی تہذیب وسلامتی کے ساتھ طے ہوتاہے، اگر لطیفۂ نفس کو مہذب نہ بنایا جائے تو اس سمندر کی ایک موج سارے عالم کو اپنے اندر لپیٹ لیتی اور فساد برپا کردیتی ہے۔ بحرِ علم، لطیفۂ قلب کی نورانیت سے طے ہوتا ہے، بحرِ ذکر، لطیفۂ روح سے وابستہ ہے۔ بحرِ فکر، لطیفۂ سر کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔ بحرِ معرفت، لطیفہ خفی سے، بحرِ توحید، لطیفۂ اخفی سے متعلق ہے۔ کوئی سمندر شور ہے، کوئی شیریں ہے مگر ایک دوسرے سے مل نہیں سکتا۔ ہر لطیفہ کے مختلف انوار ہیں، ہر ایک کی جداگانہ بہار ہے۔ اگر لطیفۂ قلب میں بہار نظر آجائے تو دنیا کے باغ و بہار کو بھول جائے۔ 
خود کو پہچاننے کے بعد دوسرا قدم یہ کہ خدا کو پہچانے اس کے بعد تیسرا قدم یہ ہے کہ خدا کے سوا سب کو بھول جائے کیونکہ معرفت کے لئے محبت لازم ہے۔ چوتھا قدم یہ ہے کہ اپنے بھولنے کو بھی بھول جائے، کیونکہ سونے والے کو اگر اتنی خبر ہے کہ میں سورہا ہوں تو وہ بیدار ہے، کمالِ فنا یہ ہے کہ اپنی فنا پر بھی نظر نہ رہے۔ سرتا پا مستغرقِ مشاہدۂ محبوب ہوجائے۔ پانچواں قدم یہ کہ موجودات پر نظرِ واپسیں ڈالے اور سب میں صفات و افعالِ حق کی تجلی کا مشاہدہ کرے اس مقام میں عارف اور غیر عارف بظاہر یکساں نظر آتے ہیں مگر دونوں کے باطن میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ 
معرفت کی غرض و غایت:
معرفت انسان کی پیدائش کی غرض و غایت ہے ۔ عبادت بغیر معرفت کامل نہیں ہوتی۔ تجربہ شاہد ہے کہ یہ دولت کتابوں اور کاغذوں کے دفتروں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اہل معرفت کی نظر سے حاصل ہوتی ہے ورنہ بعثت انبیاء و رسل کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ہر شخص کے گھر میں آسمان سے صحیفوں اور کتابوں کا نازل ہوجانا کافی ہوجاتا ہے۔ جن کو پڑھ کر اپنی عقل سے خدا کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ مولانا روم ؔفرماتے ہیں کہ 
آزمودم عقل دور اندیش را 
بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
اکبر الہ آبادی ؔ
نہ کتابوں سے نہ کالج سے نہ زر سے پیدا 
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
اقبال ؔلاہوری 
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
مومن و عارف کا فرق؟
معرفت ایک آگ ہے اور ایمان نور ہے۔ معرفت و جد ہے، ایمان عطا ہے۔ مومن و عارف میں فرق یہ ہے کہ مومن اللہ کے نورسے دیکھتا ہے اور عارف اللہ سے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد قدسی ہے۔ فکنت سمعہ الذی۔ یسمع بہ و بصرہ الذی یبصربہ ،میں اس کی قوتِ سماعت ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے عام مومن کا دل ذکر اللہ سے مطمئن ہوجاتا ہے اور عارف اللہ کے سوا کسی سے مطمئن نہیں ہوتا یہی تصوف کی حقیقت ہے۔ 
یہ خیال بے بنیاد ہے کہ اسلامی معرفت یا اسلامی تصوف فلسفۂ افلاطون یا ویدانت سے لیا گیا ہے۔ 
تصوف یا معرفت اسلامی کی حقیقت وہ ہے، جس کو حدیث جبرئیل میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ألاحسان أن تعبداللہ کأنک تراہ فإن لم تک تراہ فإنہ یراک۔احسان یہ ہے کہ تم اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گویا تم ان کو دیکھ رہے ہو اگر تم ان کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تم کو دیکھ رہے ہیں۔ معرفت یا تصوف کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ کی متابعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔
  ظاہر و باطن میں رسول اللہ  ﷺ کی پیروی کرنا ہی تصوف ہے، اسی پیروی کا نام شریعت بھی ہے اور طریقت بھی، ظاہر کی پیروی شریعت ہے، باطن کی پیروی طریقت ہے۔ 
قرآن رہے پیش نظریہ شریعت ہے
خدا رہے، پیش نظر یہ طریقت ہے
ائمۂ شریعت کیا کہتے ہیں؟
(۱) حضرت  امام مالکؒ (م ۱۷۹ھ؁ ؍۷۹۵ء؁ ) فرماتے ہیں:
جس نے علم فقہ حاصل کیے بغیر راہِ تصوف اختیار کی وہ زندیق ہوا… اور جس نے علم فقہ حاصل کیا، تصوف کے راستہ پر نہیں چلا وہ فاسق ہوا … جس نے ان دونوں کو جمع کیا وہ صحیح مومن ہے۔ 
(۲) حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ(م ۵۶۱ھ؁ ؍۱۱۶۵ء؁) فرماتے ہیں:
اگر حدود شریعت میں سے کسی حد میں خلل آیا تو جان لے کہ تو فتنہ میں پڑا ہوا ہے… بیشک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے۔ 
(۳) حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ (م۔۳۷۰ھ؁ ؍۹۸۰ء؁ فرماتے ہیں:
جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے، وہ حقیقت نہیں، بے دینی ہے۔ 
(۴) حضرت جنید بغدادیؒ (م ۲۹۷؁ھ ؍۹۰۹ء؁) فرماتے ہیں:
جس نے نہ قرآن یاد کیا، نہ حدیث لکھی (یعنی علم شریعت سے آگاہ نہ ہوا) طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں، اسے اپنا رہبر نہ بنائیں کہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے۔  
(۵) حضرت  شیخ محی الدین ابن عربیؒ (م ۲۳۸۱؁ھ ؍۱۲۴۰ ء؁) فرماتے ہیں:
خبردار! علم ظاہر جو شریعت کی میزان ہے اسے ہاتھ سے نہ چھوڑنا بلکہ جو کچھ اس کا حکم ہے فوراً اس پر عمل کرو۔
(۶) حضرت  امام غزالیؒ (م ۵۰۵؁ھ ؍۱۱۱۱ء؁) حضرت شیخ سری سقطیؒ (م ۲۵۰ھ؁ ؍۸۶۴ء؁ کی دعا کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جس نے پہلے حدیث و علم حاصل کرکے تصوف میں قدم رکھا وہ فلاح کو پہنچا… اور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے صوفی بننا چاہا اس نے اپنے کو ہلاکت میں ڈالا۔ 
(۷) حضرت شیخ محمد عارف ریوگریؒ (م ۶۳۴ھ؁ ؍۱۲۳۶ء؁ فرماتے ہیں:
اے عارف! جب تک اپنے اقوال و اعمال و احوال میں بغیر کمی بیشی کے حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ سنیہ اور شریعت رفیعہ کی پیروی نہ کرے گا بلا شبہہ تو مقبولوں اور واصلوں کے زمرے میں نہ ہوگا ۔
(۸) حضرت  شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ (م ۹۷۳ھ ؁ ؍۱۵۶۵ء؁ فرماتے ہیں:
تصوف کیا ہے؟ … بس احکامِ شریعت پر بندے کے عمل کا خلاصہ ہے … علمِ تصوف‘ چشمۂ شریعت سے نکلی ہوئی نہر ہے ۔
(۹) حضرت شیخ احمد سرہندیؒ (م ۱۰۳۴؁ھ ؍ ۱۶۲۴ء؁) فرماتے ہیں:
طریقت و شریعت ایک دوسرے کے عین ہیں، بال برابر بھی ان دونوں میں فرق نہیں… جو چیز شریعت کے خلاف ہے، وہ مردود ہے۔
(۱۰) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (م ۱۰۵۲ھ؁ ۱۶۴۲ء؁ فرماتے ہیں:
تصوف، فقہ کے بغیر نہ صرف یہ کہ کافی نہیں بلکہ صحیح ہی نہیں… تصوف کی طرف رجوع، فقہ کے ساتھ جائز ہے۔
(۱۱) حضرت  شیخ عبدالغنی نابلسیؒ (م ۱۱۴۳؁ھ ؍۱۷۳۰؁ء) فرماتے ہیں:
اے عاقل!… اے حق کے طالب! دیکھو، یہ عظمائے مشایخِ طریقت، یہ کبرائے اربابِ حقیقت، سب کے سب شریعتِ مطہرہ کی تعظیم کر رہے ہیں۔ 
(۱۲) حضرت  حاجی محمد امداد اللہ چشتی مہاجر مکیؒ (م ۱۳۱۰؁ھ ؍ ۱۸۹۲؁ء) تحریر فرماتے ہیں: 
’’پہلا مرتبہ (زبان سے اقرار) شریعت ہے اور دوسرا مرتبہ (دل کی تصدیق) طریقت، ان سے کوئی مرتبہ بھی دوسرے کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ حدیث شریف إنما االأعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہی ہے)کی مراد یہی دل کی تصدیق ہے۔ ( ۱) 
حضرت شیخ الاسلام شاہ ابوالبرکات محمد انوار اللہ فاروقیؒ (۱۲۶۴؁ھ ؍ ۱۳۳۶؁ھ) فرماتے ہیں :
تصوف ہمارے دین میں اعلیٰ درجے کا علم ہے جس پر اولیاء اللہ کا عمل رہا ہے اگر وہ فلسفے کا ہم خیال ثابت ہوجائے تو شریعت سے اس کو کچھ تعلق نہ رہا، حالانکہ اولیاء اللہ شریعت کے نہایت پابند رہتے ہیں۔  ( ۲ )
حضرت شیخ الاسلامؒ
حضرت شیخ الاسلام ایک عالم ربانی ہونے کے ساتھ ساتھ، صوفی باصفا بھی تھے۔ آپ کی صوفیانہ زندگی، صلحائے متقدمین کے سلسلہ کی تابناک کڑی تھی جس میں ظاہر و باطن کا ایک حسین امتزاج اور درس گاہ و خانقاہ کا ایک خوبصورت سنگم تھا۔ آپ فرماتے ہیں۔
’’تصوف کچھ اور ہی چیز ہے جس کو قرآن و حدیث اور شریعت کا لبِّ لُباب کہنا چاہئے اس کو نہ فلسفہ قدیمہ سے کوئی تعلق ہے نہ فلسفہ جدیدہ سے کوئی مناسبت‘‘( ۳ )۔ 
حضرت مولانا شاہ رفیع الدین قندھاریؒ جو نظام سوم نواب سکندر جاہ کے عہد حکومت میں ایک باکمال صوفی اور عالم اور ممتاز مقام کے حامل تھے۔ شیخ الاسلام کا سلسلہ بیعت صرف ایک واسطہ سے یعنی ان کے والد حضرت ابو محمد شجاع الدین قندھاریؒ کے ذریعہ حضرت شاہ رفیع الدین قندھاریؒ سے ملتا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام کا نورِ باطن اسی مرد درویش کے فیضانِ علمی و عملی سے روشن ہے۔ 
حضرت شاہ رفیع الدین قندھاریؒ بارہویں صدی ہجری کے مشہور و معروف صوفی حضرت خواجہ رحمت اللہ نائب رسولؒ (رحمت آباد)کے خلیفہ ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کے والد کو خیر آباد کے بسا بزرگ حضرت حافظ محمد علیؒ سے چشتیہ سلسلہ میں بیعت حاصل تھی۔ مجاہدِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی حضرت حافظ محمد علی خیرآبادی سے فصوص الحکم (حضرت ابن عربی) کا درس لینے آیا کرتے تھے۔ 
اس کے علاوہ حضرت شیخ الاسلام نے شیخ العرب والعجم حضرت احمد حسین امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے تمام سلاسل میں بیعت کرکے منازل سلوک کی تکمیل فرمائی۔ بلا طلب خرقہ خلافت عطا کرنے کے علاوہ دکن کے مریدوں کو حضرت شیخ الاسلام سے مدد لینے کی ہدایت فرمائی۔
درس و تدریس کے علاوہ مغرب سے نصف شب تک آپ پانچویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی کتاب ’’فتوحات مکیۃ‘‘ کا درس دیا کرتے تھے جس میں منتخب علماء و صوفیا ہی شریک رہتے۔ اس درس کی مجلس پر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص توجہ تھی جس سے مسائل حل ہوجاتے اور حضور تاجدار بغداد غوث الثقلینؒ کی تشریف آوری بھی ہوا کرتی تھی۔ 
افکار صوفیانہ
 سلوک کی تعلیم شیخ الاسلام نے اپنے والد محترم سے پائی اور تمام سلاسل طریقت میں بیعت کرکے خلافت حاصل کی ۔نیزآپ نے حضرت امداد اللہ مہاجر مکی ؒ سے تجدید بیعت کی اور خلافت بھی حاصل فرمائی۔
حضرت شیخ الاسلام کا شجرہ عالیہ قادریہ 
الحمد للہ رب العٰلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین 
الٰہیبحرمت سید المرسلین محمد مصطفی ﷺ
الٰہیبحرمت سیدنا امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
الٰہیبحرمت شیخ حسن بصری قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ حبیب العجمی  قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ داؤدالطائی قدس سرہ 
الٰہیبحرمت شیخ  معروف کرخی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ سری سقطی قدس سرہ
الٰہیبحرمت سید الطائفہ جنید بغدادی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ  ابی بکر محمد دلف بن خلف الشبلی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ عبدا للہ واحد التمیمی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ ابی الفرح محمد بن عبداللہ الطرطوسی  قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ ابوالحسن علی ابن احمد بن یوسف القریشی الھنکاری قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ  ابی سعید المخرمی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ المشائخ غوث الثقلین قطب الدین محی الدین سید عبد القادر جیلانی  قدس سرہ العزیز
الٰہیبحرمت شیخ عبداللہ بن علی الاسدی  قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ  احمد بن عبداللہ الاسدی قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ محمد بن احمد الاسدی  قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ  فخرالدین بن ابی بکر بن محمد نعیم قدس سرہ
الٰہیبحرمت شیخ محمد محی الدین احمد بن محمد الاسدی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ سراج الدین الیمنی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ  اسمعیل بن ابراہیم الزبیدی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ محمد مرجاجی الیمنی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ اسمعیل بن صدیق الجبرتی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ ابی بکر بن السلامی الیمنی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ ابی احمد بن موسی المشروعی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ جنید بن احمد الیمانی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ عبدالقادر الیمانی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ امین الدین المرواحی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ محمد یوسف قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ احمد القشقاشی قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت سید عبد اللہ بالفقیہ قدس سرہٗ
الٰہی بحرمت سید عبداللہ بروم قدس سرہٗ
الٰہی بحرمت خواجہ رحمت اللہ نائب رسول اللہ (ﷺ) قدس سرہٗ
الٰہیبحرمت شیخ محمد رفیع الدین ابن شمس الدین قدس سرہٗ العزیز
الٰہی بحرمت شیخی وابی محمد شجاع الدین قدس سرہٗ
غلام دستگیر صاحب ومحمد انواراللہ اصلح اللہ مقاصدھما بمنازل ومراتب بزرگان وموصوف بفضل خود برساندودرظل یوم لاظل الاظلہ محشور کردند وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد والہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
المرقوم تاریخ۷ماہ ذی الحجہ  ۱۳۳۱؁ھ          
مطبع احمدیہ (نقل از مطبوعہ شجرہ مخزونہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن)
حضرت شیخ الاسلام عموماً سلسلہ قادریہ میں بیعت لیتے تھے۔ اگر کوئی خواہش کرتا تو دوسرے سلسلہ میں بھی شریک فرمالیتے۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ انسان اپنے نفس کی معرفت کے بعد ہی اشرف المخلوقات کہلانے کا مستحق ہوسکتاہے اور اللہ کی صفات پہچاننے کے لئے نفس کی صفات کی پہچان ضروری ہے۔ اس نکتہ کی مزید وضاحت اپنی کتاب ’’مقاصد الاسلام‘‘ حصہ سوم میں اس طرح فرماتے ہیں۔
’’غرض مقتضائے حکمت یہی تھا کہ نفس میں ایسے صفات ودیعت رکھے جائیں کہ صفات کمالیہ الٰہیہ کے نمونے ہو مثلاً وجود، تجرد، سمع، بصر ،مشیت، ارادہ، قدرت، کلام وغیرہ۔ دیکھئے ان تمام مضامین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس وضاحت سے ایک مختصر جملے میں بیان فرمایا ومن عرف نفسہ فقد عرف ربہ،یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا‘‘۔ 
’’چشتیہ سلسلہ میں بیعت کی وجہ سے حضرت شیخ الاسلام کبھی کبھی سماع کا اہتمام بھی فرماتے تھے۔ سابق امیر ملت اسلامیہ علامہ مفتی عبدالحمید صدیقیؒ (رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کے مطابق حضرت شیخ الاسلام بند حجرے میں بلا مزا میر ہی قوال سے اشعار سنا کرتے اور اس میں بھی ممکنہ احتیاط ملحوظ رکھا جاتا‘‘۔ ( ۴ )
وجد و رقص کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام تفسیر ابن جریر کے حوالہ سے فرماتے ہیں۔ ’’حضرت داؤد علیہ السلام سے جب تابوت سکینہ (جس میں موسیٰ علیہ السلام کے الواح کے چند ٹکڑے تھے) کی نہایت خوشی سے ناچتے ہوئے اس کی طرف گئے۔ ان کی بیوی نے کہا، تم نے یہ کیسی حرکت کی لوگ کیا کہیں گے آپ نے فرمایا، تو مجھے میرے رب کی طاعت سے روکنا چاہتی ہے میں تجھے اب اپنے نکاح رکھنا نہیں چاہتا۔ چنانچہ اس کو طلاق دیدی‘‘۔ 
خلاصہ کلام میں فرماتے ہیں ’’یہی طریقہ رقص بزرگان دین میں سماع کے وقت آثار فیضان کی وجہ سے جاری ہوتا ہے وہ رقص حضرت داؤد علیہ السلام کے جیسا رقص ہوگا ورنہ نقل ہوگا‘‘۔ 
معاشرے اور عقائد و نظریات کی اصلاح بھی ایک صوفی باصفا کا اہم مشن ہوتاہے حضرت شیخ الاسلام نے بحیثیت صوفی اس تحریک کو بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ایک صوفی کسی سے الجھتا نہیں بلکہ الجھے ہوئے کو سلجھاتاہے۔ حضرت شیخ الاسلام صلح پسند تھے چنانچہ مخالف کو چپ کرانا، بحث و مباحثہ، مناظرہ کرنا آپ کی طبیعت کے خلاف تھا۔ جس کی وجہ سے مختلف پیروانِ مذہب کے قلوب آپ کی بڑی عزت و وقعت قائم ہوگئی تھی۔ 
وحدۃ الوجود
حضرت شیخ الاسلام بحیثیت صوفی مسلک وحدۃ الوجود کے قائل تھے۔ مسئلہ وحدۃ الوجود کو ایک قریب الفہم مثال کے ذریعہ آپ نے اس طرح ذہین نشین کرایا ہے۔ 
’’ہم گھر کی تعمیر کرتے ہیں تو پہلے اس کا نقشہ ذہن میں لاتے ہیں پھر خارج میں اس کوموجود کرتے ہیں اور خارج میں جو گھر موجود ہوا وہی خیال میں بھی محفوظ و موجود تھا۔ حاصل کلام یہ کہ موجود گھر سے اگر نظر ہٹالی جائے تو صرف گھر رہ جائے گا جو وجود سے پہلے معدوم تھا اور وجود ملنے کے بعد موجود ہوگیا اس کو اس گھر کی عین ثابت کہیں گے، گو کہ حالتِ عدم میں وہ موجود نہیں مگر کسی وجہ سے اس کو ثبوت کا درجہ حاصل ہوگیا جس کو وجود نہیں کہہ سکتے۔ عین ثابت یا کثرت کی وجہ سے اعیان ثابتہ کہیں گے۔ ( ۵)
انتخاب فتوحاتِ مکیہ
اس کے علاوہ ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ جیسی تصوف کی معرکہ آراء کتاب میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے وحدت الوجود کے نظریہ کو عارفانہ انداز میں سمجھایا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام نے اس بلند پایہ کتاب کا ایک مفید انتخاب بڑی سائز کے دیڑھ سو صفحات پر پیش کیا ہے جس کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں۔  
مایتعلق بالقلب۔ 
مایتعلق بالیقین و العقل۔
 فضائل الاولیاء و ما یتعلق بھم و اصناف الاولیاء ۔
 فضائل علی کرم اللہ وجہہ۔
و فضائل حسن بصری رحمہ اللہ۔ 
محبت الصالحین۔ 
عشق اللہ و نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ 
مجاہدات ۔ 
مقام فنا۔ 
ذکر و فکر۔ 
اخلاق و سلوک۔ 
علم الأسرار۔ 
توحید الأفعال۔ 
توحیدِ صفات۔ 
توحیدِ ذات۔ الحقائق وغیرہ۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں فصوص الحکم، فتوحات مکیہ وغیرہ جن کے دیکھنے سے واضح ہے کہ ہر عامی تو کیا اکثر علماء بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے۔
حضرت شیخ الاسلام کا صوفیانہ مشرب و مسلک اس رباعی سے ظاہر ہوتا ہے۔
بندۂ پروردگارم امتِ احمدنبی 
دوست دارے چار یارم تا باَولادِ علی
مذہبِ حنفیہ دارم ملتِ حضرت خلیل
خاکپائے غوثِ اعظم زیرِ سایہ ہر ولی
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں :
’’کچا صوفی پکا ملحد ہوتا ہے‘‘۔
حواشی و حوالہ جات
(۱) تقریظ بر ’’انوار التمجید فی ادلتہ التوحید‘‘ از مفتی محمد انوار اللہ سابق مدیر المھام امور مذہبی ریاست حیدرآباد، دکن
(۲) امام محمد انوار اللہ فاروقی ؍مقاصد الاسلام، حصہ سوم، ص ۱۲۴
(۳) امام محمد انوار اللہ فاروقی ؍مقاصد الاسلام حصہ سوم ص ۱۲۶
(۴) حضرت علامہ مفتی عبدالحمیدؒ ؍معارف انوار ص ۱۶۔۱۷
(۵) امام محمد انوار اللہ فاروقی ؍رسالہ انوار اللہ الودود فی مسئلۃ وحدۃ الوجود
٭٭٭
error: Content is protected !!