حلیۂ مقدسہ

روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں 
حلیہ نورِ خدا  میں  کیا لکھوں
پر  جمالِ   رحمۃٌ    للعالمیں
Advertisement
جلوہ گر ہو گا  مکانِ  قبر    میں
اس لئے ہے آگیا  مجھ کو خیال
مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال
تا کہ یاروں کو مرے پہچان ہو
اور اس  کی یاد  بھی  آسان  ہو
تھا میانہ قد  و اوسط   پاک تن
پر  سپید و سرخ    تھا رنگ  بدن 
چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے
تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے
 تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی 
چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی 
دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال
اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال 
اِتصال  دو مہ “عیدین” تھا 
یاکہ ادنیٰ قرب تھا ’’قوسین‘‘ کا
تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں
دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں
کان دونوں خوب صورت ارجمند
ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند
صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا
صورت  اپنی اس میں ہر اک دیکھتا
تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ
خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ
تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن
ہو  ازار  و جبہ  یا  پیر ہن
سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا
پر کبھی سود و سپید و صاف تھا
میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی
دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!