جدتِ اظہار کا شاعر ولی کرناٹکی

جدتِ اظہارکاشاعر ولی کرناٹکی
جب بھی میرے سامنے ولیوںکاتذکرہ ہوتاہے تو دو ولیوںکے تصاویرمیرے حاشیۂ خیال میں ابھرتے ہیں۔ ایک وہ جس سے میراتعلق ادبی اورتصوراتی ہے جسے اردو دنیاولی دکنی کہتی ہے۔دوسراوہ  ہے جب ملتاہے قلندرانہ شان وشوکت سے ملتاہے جس کی ادبی خدمات کادور نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط ہے جسے ارباب ذوق ولی کرناٹکی کہتے ہیں
یہ نصف صدی کاقصہ ہے یہ دو چار برس کی بات نہیں
شاعری سچائی ،کشف،جستجواورخوشبوبھراجادہ ہے جس پرصدق،خلوص اور محبت یہ ایسے جذبے ہیں جن کے بغیرشعرکاجادونہیں چلتا۔شعر سے عطرآویزخوشبوپھوٹتی ہے رنک جھلملاتے ہیں۔یہ جادویہ رنگ یہ خوشبو تخلیق کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ولی کرناٹکی کی شاعری میں یہ سب کچھ شامل ہے اس کی وجہ شاید ان کا اندازتفکر اورفنی جہات سے  عبارت ہے جو ان کی شعری حیات میں ساتھ ساتھ رہتاہے اورانہیں کہیں ڈگمگانے نہیں دیتانہ ہی ان کے فن پر تشکیک کاسایہ پڑنے دیتاہے۔
ولی کرناٹکی ایک حساس دل ،فطرت سناش اور خوبصورت یادوںکاشاعرہے۔یہ محبوب کی یادوں سے میکدہ بناتاہے۔اس کی شاعری میں یادوں کی شبستاںمیں سحرکاپیام ہے۔ولی ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہاہے۔جس کی شاہراہیں طویل اور استحصال کے سنگ میل چارسوپھیلے ہوئے ہیں۔مصلحت ،جبر اورہوس کے اس دورمیں انسان اپنی انااورتشخص کے لئے کٹھن مراحل سے گزرناپڑتاہے۔
جب اٹھانا قلم کسی پہ ولیؔ
اپنے آگے اک آئینہ رکھنا
آپ تزئین گلشن سے پہلے ولیؔ
دل کو آمادۂ رنگ وبو کیجئے
ولی کرناٹکی کی شاعری میں حزن وملال کی دھیمی دھیمی آنچ بھی محسوس ہوتی ہے۔یہی اس کی  صداقت ہے ۔ولی نے نظروں سے اوجھل چیزوں کوبھی شاعری میں شامل کر کے اپنی شاعری کومزیدنکھاردیاہے۔
شام کو صبح بنانا ہمیں آتاہے ولیؔ
ہم کو قطرہ بھی جو ملتا اسے دریا کرتے
ہم نے سورج کی طرف داری نہ کی
ہم مجسم ہو کے بے سایہ ہوئے
ولی کی شاعری میرے لئے ہمیشہ ایک سوال ابھارتی ہے اور وہ کہ گہری سیاہی استعمال کرنے کے باوجودبھی اتناروشن کیسے لکھ پاتا ہے۔وہ دیکھتابھی سیاہ ہے سوچتابھی سیاہ ہے لیکن اس کالکھاحرف حرف سوچالفظ لفظ آفتاب کی طرح روشن ہے۔وہ اوروں کی طرح نہیں لکھتا ۔وہ شاعروں کی طرح بھی نہیں لکھتاہے وہ تو اپنافرض ادا کررہاہے پوریسچائی اورایمانداری کے ساتھ۔محبت ،وقت،تنہائی،آئینہ،اور سورج اس کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔بقول شخصے محبت جدائی کے بغیرمکمل ہے۔ محبت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ 
ہرفلسفہ کا رد کردیتاہے۔
محبتوں کا وہ موسم ابھی کہاں آیا
الجھ رہی ہے ابھی دھوپ سائبانوں سے
محبت ہی تو بصارت کو بصیرت میں وحشت کو عبادت میںعداوت کوریاضت میں ایسے تبدیل کرتی ہے کہ عمر کے شبستاں میں نئے رنگ ونکہت کے  گلاب لہلہانے لگتے ہیں۔جسم کی مٹی میں محبت کی شاخ گل جب جڑپکڑتی ہے تودرویش کا جبہ کتناہی میلاکیوں نہ ہو اس کا وجدان خوشبو کے معجزے تخلیق کرتاہے ۔اجالوںکی آیات تحریرکرتاہے ۔کبھی سیاہ رات کی پیشانی پر کبھی بادصبح کی حیرانی پر۔۔۔اک کیفیت حال ہے جواندرکاآتشکدہ سرد ہونے نہیں دیتی۔آہوں بھری  سسکیوںسے سانسوں کی تسبیح  ٹوٹنے لگتی ہے۔ہڈیاں پگھلنے لگتی ہیںمگرہستی میں مستی ،فقیری میں بادشاہی نیازمندی میں بے نیازی کا راز نہاں ہوجاتاہے۔صدیوں سے محبت پر بہت کہاگیاہے اورکہاجارہاہے۔مگرولی کایہ شعردیکھیں۔
محبتوں کے وہ پیکر  نظر نہیں آتے
یہ کیا ہوا کہ فرشتے ادھر نہیں آتے
ولی بے تحاشہ لکھتاہے ۔پرانے الفاظ کو نئے معنی میں باندھ کر قاری کے دماغ میںپکنے کے لئے چھوڑدیتاہے ،استعارات دماغ کے کاغذ سے بہتے ہوئے اوراق پراترتے ہیںاورتب ایک روشنی انگڑائی لیتی ہے اورپھروہی روشنی ولی کے دماغ کی تاریکیوں پردلیل ٹھہرتی ہے۔۔وہ سیاسی شاعر نہیں ہے اس کے کلام میں ایک بھی ایسا شعر نہیں ہے جو نعرہ بن سکے۔
لیکن اس نے  انسان کے اندر ونی حالات اس خوبی سے برتے ہیں کہ باہرکاآدمی صرف باہر ہی سے اندازہ نہیں لگاسکتا۔وہ لاشعور کے نہاں خانے میں بیٹھ گیاہے۔گویایہ جہنم اس کا اپنادہکایاہواہے۔
نہ رکھنا کوئی رشتہ پتھروں سے
ولی رہتے ہو تم شیشہ کے گھرمیں
رنج و غم ہم کو وراثت میں ملے
اس اثاثے کو سنبھالا جائے گا
محبت شاعری کاعمومی اور غزل کا خصوصی موضوع ہے  ولی کی شاعری میں بھی محبت اہم موضوع ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کا محبوب ہرجائی ہے، ستمگرہے،بیوفاہے۔
تم آج جس کی رفاقت پہ ناز کرتے ہو
ہمارے ساتھ بھی یارو یہی زمانہ تھا
اس کے احسانات کی فہرست لمبی ہے مگر
اب کے وہ کیا گل  کھلاتا ہے ستمگر! دیکھنا
صدمے تری فرقت کے اٹھائے نہیں جاتے
زخم اور دل زار پہ کھائے نہیں جاتے
سانحہ ہے زندگی کا یہ ولیؔ
چھٹ گیا ہے ان کا دامن ہاتھ سے
سر ہتھیلی پر لیے ہم آگ پر چلتے رہے!
یوں پڑی مہنگی ہمیں تیری سناشائی بہت
مؤخرالذکر شعر میں دومحاروں کابرملا استعمال قابل غور ہے ۔وہ بات سے بات پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔شاعر خواب دیکھتے ہیں دراصل خواب ہی اس  کی زندگی  کا سرمایہ ہے۔کیونکہ یہ خواب مثالی زندگی سے تعلق رکھتے ہیںاس لئے تو وہ زمین بانجھ ہوتی ہے جہاں خوابوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ولی نے جوزندگی گزاری ہے ۔اس زندگی نے کچھ حقائق بھی ان پرمنکشف کئے ہیںاس نے اپنے مشاہدے سے کچھ نتائج بھی اخذکئے ہیںاوران کوخوبصورت شعری پیکرمیںپیش کیا ہے۔
تشنگی لے آئی صحراؤں سے دریا کی طرف
موج کی صورت لب ساحل سے ٹکراتا ہوں میں
جوبھی مجھے ملا وہ فرشتہ صفت ملا
میں ڈھونڈتا ہوں اپنے برابر کا آدمی
سوچوں تو کئی تیر ہیں پیوست بدن میں
دیکھوں تو کہیں زخم دکھائی نہیں دیتا
ولی کرناٹکی چوں کہ ایک سچااورکھرا انسان ہے ۔اس نے شاعری بھی انہیں خالص پیمانوں پرکی ہے اس کاایک چہرہ ہے لہذاوہ سب دیکھنے والوں کوہمیشہ ایک جیسا ہی نظرآتا ہے ۔اس کے ہاں تصنع یابناوٹ نام کی کوئی منافقت اس سارے وجود میں کہیں نہیںہے ہاں البتہ چہرے کی رنگوںمیں تبدیلی ضرورہوتی رہتی ہے اگرکبھی محبوب سے دوری اور ملک کے نامساعد حالات کے اذیت ناک احساس سے اس کے چہرے کے رنگ مدھم ہوجاتے ہیں،جس سے ولی کی شخصیت میں بلا نکھارہے اور فن میںبرسوں پختگی کہیں بھی قاری کے ذہن کوایک پل کے لئے بھی ادھرادھرہونے نہیںدیتی۔
فرصت ملی تو ڈھونڈ ہی لیں گے خدا کو ہم
اب تو تلاش ہے کہ کوئی آدمی ملے
ہر اک دہلیز پر آہ و بکا ہر آنکھ میں آنسو
دلیل بربریت ہے درو دیوار کی سرخی
اس طرح اب فسون غم زیست کو توڑدو
غم تم کو چھوڑتا نہیں  تم غم کو چھوڑدو
ولی کرناٹکی کو مختصر بحریں مرغوب ہیں۔مختصربحرمیںسہولت اورابلاغ کے ساتھ شعر کہنابہت مشکل ہے مختصربحروںمیںشاعری بھی ریاضت کی متقاضی ہے۔
ولی بات جلدی سے۔اورکم لفظوںمیں کہناجانتاہے اورعام زندگی میں بھی اسکی گفتگوکایہی اندازہے۔اورشاعری میں بھی وہ کم سے کم الفاظ استعمال کرتاہے۔شاعری ایمائیت اورکفایت لفظی کاتقاضہ کرتی ہے اوریہی اظہار کی خوبی ہے اوریہ خوبی اس کے یہاںموجودہے
پیڑ سے  خالی جو بستی ہو گی
سایے سے سایے کو ترستی ہو گی
سال بھر موسموں کی چوکھٹ پر
پھرتی  رہتی ہے  دربدر دنیا
اشکوں سے ہیں سیراب بہت دل کی زمینیں
یہ سارا علاقہ تمہیں بنجر نہ ملے گا
یہاں سب یوسفِ ثانی بنے ہیں
کسی کے پاس آئینہ نہیں ہے
غم کی شمشیر کو میان میں رکھ
اپنے سورج کو سائبان میں رکھ
ہم کو انجام وفا معلوم ہے
ہم کہاں  ڈرتے ہیں نقصانات سے
پلٹ جاتے ہیں رحمت کے فرشتے
کوئی دیوار جب اٹھتی ہے گھر میں
اس میں آتی ہے وفا کی خوشبو
یہ مرے دیس کی مٹی ہوگی
میں کہاں آیا ستاروں کو لیے پلکوں پر
سب ہیں سورج کے پرستار خدا خیر کرے
آندھیاں کر رہی ہیں گھر کا طواف
کیا غضب ہوگیا دیا رکھنا
مطربۂ نغمۂ حیات نہ چھیڑ
زندگانی سسک رہی ہے ابھی
حرف آئے نہ کہیں آپ کی فیاضی پر
بھیک دیتے ہیں تو چہرے نہیں دیکھا کرتے
یہ کیسی مصلحت ہے کہاں کا جواز ہے
شیشے کی بستیوں میں ہے پتھر کا آدمی
اس کے یہاں اظہار کی جدت ہے لیکن روایت کے ساتھ مربوط۔یہی خوبی قارئین کو متاثر کرتی ہے۔ولی کرناٹکی نے شعبدہ بازی نہیں کی شاعری کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے اس نے بڑی محنت  وریاضت کی ہے اس نے روایت سے رشتہ جوڑکر اپنااسلوب نیا بنانے کی کامیاب سعی کی ہے۔اور 
ہر کسی سے یہ دادِ سخن کی طلب
خود کو اتنا نہ بے آبرو کیجئے
خودارولی کسی سے صلے خواہش رکھتا ہے نہ داد کی امید ۔ولی کے یہاں داد کی طلب فن کو بے آبرو کرنے کے مانند ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *