غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں

غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غیر شادی شدہ آدمی ہر وقت شیطان کے نرغے میں رہتا ہے۔جوانی کا فطری تقاضا، خیالات اور جذبات کو غلط راہوں پر ڈال سکتا ہے۔ خصوصاً بے حیائی کے اِس دور میں، جب کہ جذبات کو بہکانے اور بھڑکانے کا سامان ہر طرف موجود ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو زیادہ عرصے تک ازدواجی زندگی سے محروم رکھنے سے معاشرے میں بڑی گھناؤنی اخلاقی بیماریاں نشوونما پاتی ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے :
ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃ (الاسراء 32)
اور زنا کے پاس بھی مت جائو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔
بڑا ہی بُرا راستہ ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے کے لیے جہاں یہ تدبیر بتائی گئی ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں وہی نکاح کو عملی ذریعہ بتایا گیا۔ سورۂ المؤمنون میں کامیاب اہل ایمان جو آخرت میں جنت کے وارث بنیں گے، ان کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ عملی ذریعہ کیا ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا اَلَاعْلٰی اَزْوَاجِھِمْ سوائے اپنی بیویوں/شوہروں کے۔ زوج سے تعلق ہی شرم گاہوں کی حفاظت کا عملی ذریعہ ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے امت کو یہ ہدایت دی کہ نکاح کو آسان بناؤ تاکہ زنا مشکل ہوجائے۔ یہ بھی فرمایا کہ برکت کے لحاظ سے بہترین نکاح وہ ہے، جس میں کم سے کم خرچ ہو۔آج امت نے نبی کریمﷺ کی ان ہدایات کو نظر انداز  کر کے اپنی بد اعمالیوں کے ذریعے نکاح کو مشکل بنادیا ہے۔ حال یہ ہے کہ چاہے بال بال قرض میں ڈوب جائے ، مکان جائیداد بک جائے یا گروی رکھنے کی نوبت آئے، اولاد کے لیے ترکہ میں چھوڑنے کے لیے کچھ نہ بچے، مگر رسموں، بدعتوں، نمود ونمائش کے ہنگاموں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے آج نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی کے اس بُرے راستے کی طرف جارہے ہیں۔ یہ راستہ ان کے لیے آسان ہو گیا ہے، بالخصوص بڑے شہروں میں۔ اللہ تعالیٰ ملّت کے نوجوانوں کی حفاظت فرمائے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں کی مدد اللہ نے اپنے ذمّے لے لی ہے۔ اس میں سے ایک وہ آدمی ہے جو عفت اور پاک دامنی کی زندگی بسر کرنے کے لیے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ ﴿مگر غریبی رکاوٹ ہے﴾۔‘‘سورۂ البقرہ، آیت: ۱۸۶ روزوں سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔ ھُنّ لِباسٌ لَکُمْ وَ اَنْتُم لِباسٌ لَہُنَّ) وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس۔ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا، اسی طرح تمہارا اور تمہاری بیویوں کا باہمی تعلق ہے۔ لباس کا نمایاں پہلو آدمی کے جسم کے لیے ساتر ہونا ہے جس سے عیوب کی پردہ پوشی ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے جنسی جذبات کے لیے پردہ فراہم کرتے ہیں۔بہرحال نکاح کا پہلا اور اہم مقصد ہر مومن مرد اور عورت کے اخلاق کی حفاظت اور اس کے ذریعے سے پورے معاشرے کو فتنہ و فساد اور اخلاقی بگاڑ سے محفوظ رکھنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *