فدک کی صلح

جب ”فدک” کے یہودیوں کو خیبر اور وادی القریٰ کے معاملہ کی اطلاع ملی تو ان لوگوں نے کوئی جنگ نہیں کی۔ بلکہ دربارنبوت میں قاصد بھیج کر یہ درخواست کی کہ خیبر اور وادی القریٰ والوں سے جن شرطوں پر آپ نے صلح کی ہے اسی طرح کے معاملہ پر ہم سے بھی صلح کرلی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست منظور فرمالی اور ان سے صلح ہوگئی۔ لیکن یہاں چونکہ کوئی فوج نہیں بھیجی گئی
Advertisement
اس لئے اس بستی میں مجاہدین کو کوئی حصہ نہیں ملا بلکہ یہ خاص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملکیت قرارپائی اور خیبرو وادی القریٰ کی زمینیں تمام مجاہدین کی ملکیت ٹھہریں۔ (1)       (زرقانی ج ۲ ص ۲۴۸ )
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!