ادیب الہندحضرت مولانافیض الحسن سہارنپوری​

ادیب الہندحضرت مولانافیض الحسن سہارنپوری
غلام ربانی فداؔ​
مدیرجہان نعت ہیرورکرناٹک(, email: [email protected]
Advertisement
 ​
gulamrabbanifida.yolasite.com​

حضرت مولانا فیض الحسن سہارنپوری کی شخصیت غیرمنقسم ہندوستان کے آسمان حدیث وتفسیر وادب کے ماہتاب سی ہے۔افسوس کی بات ہے ہم نے شخصیت پرستی میں کیسے کیسے عظیم شخصیتوں کوفراموش کرتے گئے اوردیوبندی انہیںاپنے جھولی میں ڈالتے رہے۔مواد کی کمی اور ذاتی مصروفیات نے بہت دنوں تک قلم اٹھانے سے روکے رکھا۔پھرچندتنکے چن کر آپ تک پہنچارہاہوں۔

’’حضرت مولانا فیض الحسن صاحب کا بڑا فیض یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے عربی ادب میں انقلاب پیدا کردیا اور متاخرین سے ہٹاکر قدیم شعرا وادب کی طرف متوجہ کیاآپ اس پایہ کے ادیب تھے کہ خاک ہندنے صدیوں میں شاید کوئی اتنابڑا امام الادب پیداکیا ہو‘‘۔آپ نے ایک طویل عرصہ تک عربی زبان میں ماہنامہ ’’شفاء الصدور‘‘بھی جاری کیاجواہل علم میں بہت مقبول تھا،اسی طرح اردوزبان میں رسالہ’’ گلدستہ‘‘ بھی جاری فرمایاتھا۔

حضرت مولانا فیض الحسن ابن علی بخش،ابن خدابخش ،ابن قلندر بخش،ابن شرف الدین،ابن غلام مصطفی ،ابن عبد الواحد، ابن عبد الحفیظ حنفی،چشتی،قرشی سہارنپورمیں۲۳۲۱ھ مطابق ۶۱۸۱ء کوپیداہوئے۔

حفظ کلام اللہ اورابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد حضرت مولانا علی بخش اورسہارنپورکے کئی قابل ترین حضرات سے حاصل کی۔

اس کے بعد رام پور اسٹیٹ پہنچ کر حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی اور مولانا عبد الرحیم ابن حاجی محمدہزاروی(متوفی ۴۳۲۱ھ) اوررام پور کے مدرسہ عالیہ کے اساتذہ کرام سے علی وجہ الدرجات بلاغت ومعانی،منطق اورفلسفہ وغیرہ علوم کی تحصیل کی۔پھر دہلی میںحضرت شاہ ابوسعید عمری دہلوی متوفی ۰۵۲۱ھ؁)سے حدیث وتفسیر پڑھی۔

دہلی ہی میں مشہور ومعروف طبیب،حکیم عماد الدین صاحب سے طب یونانی بھی پڑھی، تفسیر وحدیث فقہ وفتاوی ، عروض، منطق وفلسفہ ،بدیع وبیان وادب میں خاص دسترس حاصل تھی ،آپ ادب عربی میں یدطولیٰ رکھتے تھے،اْردو،عربی اورفارسی کے قادرالکلام شاعرونثرنگارتھے۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اْردو شاعری کا فن اور کمال حضرت موصوف نے مفتی صد الدین آزردہ، اما م بخش صہبائی،حکیم مومن خان مومنؔ،مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اورشیخ محمد ابراہیم خاں ذوق وغیرہم کی مجالس سے حاصل کیا۔

علامہ اقبال جیسے عظیم ترین ،فصیح وبلیغ شاعر کی زبان پروقتاً فوقتاً حضرت موصوف کے اشعار جاری رہتے تھے اور بعض مرتبہ اقبال مرحوم اپنی مجلس میں خصوصیت سے تذکرہ کرتے اور خوب مدح سرائی فرماتے تھے۔

بیعت وارادت کا تعلق حضرت حاجی امداداللہ تھانوی مہاجر مکی سے تھا،پیرومرشد سید الطائفہ حضرت حاجی امداداللہ صاحب جرمکی نوراللہ مرقدہ سے بہت زیادہ محبت اور الفت تھی۔

حضرت مولانا فیض الحسن صاحب نے حضرت حاجی امداداللہ صاحب سے بیعت ہونے کے وقت کہاتھا کہ دوشرطوں کے ساتھ بیعت ہوتا ہوں(۱)کبھی نذرانہ نہیں دونگا(۲)کبھی خط نہ بھیجوں گا۔حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ اس سے بھی زیادہ شرطیں کروتو وہ بھی منظور ہیں ‘‘

دہلی میں علوم وفنون سے فارغ ہونے کے بعداپنا مشغلہ تعلیم وتعلم بنایا اور علوم نبوت ،ادب عربی اورشعر وانشاء سے اشتیاق ودلچسپی رکھنے والے آپ کے علم وفضل سے مستفیدہونے لگے۔

حضرت موصوف گرچہ دیگر علوم وفنون میں جیدا لاستعداد اور استحضار کامل رکھتے تھے،حتی کہ آپ کی جوشہرت عربی ادب وشاعری میں ہوئی وہ مستغنی عن التعارف ہے۔آپ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبہ عربی کے سب سے پہلے پروفیسر تھے۔

۰۷۸۱ء؁میں علی گڑھ سے لاہور کا سفر طے کیا ،وہاں آپ کے علم وفضل کا بہت چرچا ہوا حتی کہ آپ کے ادیبانہ کلام،شاعرانہ ذوق،محدثانہ اور مفسرانہ طرز تکلم کو دیکھ کر ڈاکٹر لائٹنر بہت متاثر ہوئے۔

چونکہ ڈاکٹر لائیٹنر ازحد متاثر ہوگئے تھے،اسی بناء� پر ان کا فوراً اورینٹل کالج لاہور کے’’شعبہ عربی‘‘میں تقررکرلیا پھر کچھ دن بعد شعبہ عربی کا صدر الصدور منتخب کردیا۔

لاہور میں موصوف کا قیام ’’بھاٹی دروازے‘‘کے اندر’’بازارحکیمانہ‘‘میں رہا ،تقریباً ۷۱ سال عربی ادب کی تعلیم سے طلبہ اور عوام وخواص کو مستفید فرماتے رہے۔

حضرت مولانا فیض الحسن کو دینی مدارس سے بے پناہ تعلق تھا۔

آپ کے شاگردوں کی بڑی تعدادہے جن کے ناموں کی فہرست پیش کرنے سے ہم قاصر ہیں۔

۰۷سال کی عمر پاکربارہ جمادی الاولی ۴۰۳۱ھ مطابق ۶۸۸۱ء؁ ’’ راہی دارالبقاء‘‘ ہوئے ،مولانا موصوف کی نعش لاہور سے سہارنپور لائی گئی، یہیں نماز جنازہ پڑھی گئی اورقبرستان گوٹے شاہ سے ملحق تدفین عمل میں آئی۔تدفین کے بعدآپ کی قبرمبارک سے کافی دنوں تک خوشبومحسوس کی جاتی رہی۔

شبلی نعمانی نے اپنے استاذحضرت مولانا فیض الحسن کے سانحہ ارتحال پر خاص عالم تاثرمیں پْردرد وپْراَثر مرثیہ لکھا جس کے چند اشعار یہ ہیں۔

دریں آشوب غم عذرم بنہ گرنالہ زن گریم

جہانے راجگرخوں شد ہمیں تنہانمی گریم

بہ تحسین صبوری چند بفریبی مرا ناصح

دمے بگذار تا در ماتم فیض الحسن گریم

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

بہ مرگش علم وفن درنالہ بامن ہم نوا باشد

ہنر برخویش گرید چومن برخیشتن گریم

گہے خود بہ برہم گشتن بزم ہنر نالم

گہے بے خویش ہر روز سیاہ علم وفن گریم

آپ کی چنداہم علمی تصانیف میںایام عرب،حل ابیات بیضاوی،تعلیقات جلالین ،تحفہٗ صدیقہ،ضوء المشکوٰۃ، قرابادین، فیضیہ،فیضی،فیض القاموس،ریاض الفیض،وسیل الظفر،حاشیہ قاموس،حاشیہ العقدالثمین،حاشیہ دیوان حسّان،دیوان الفیض، سنین اسلام ، نسیم فیض،روضہ فیض،مثنوی صبح عید، اوس وخزرج وغیرہ قابل ذکرہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!