رَبّ عّزَّوجلَّ کے دُرُود بھیجنے سے کیا مُراد ہے

رَبّ عّزَّوجلَّ کے دُرُود بھیجنے سے کیا مُراد ہے

شبِ مِعْراج جب حُضُورِپاک ،صاحبِ مِعْراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سِدْرَۃُ المُنْتہٰیکے بعد رَفْرَف نامی نورانی تخت پر جلوہ اَفروز ہوکر مزید مِعْراج کے سفر کی طرف بڑھے، چلتے چلتے بالاخر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں یہ تخت بھی رہ گیا اور حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تنِ تنہارہ گئے ۔ 
اِما م شَعْرانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی فرماتے ہیں  :’’اس وَقت حُضُور کو وحشت سی محسوس ہونے لگی ، توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے ایک آواز سنی جوحضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز سے مشابہ تھی ۔ وہ آواز یہ تھی’’ یَامُحَمَّد قِفْ اِنَّ رَ بَّکَ یُصَلِّیْ، اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  رک جائیے! بیشک آپ کا رَبّ دُرُود بھیجتاہے۔ ‘‘   (الیواقیت والجواہر،ص۲۷۶ ، مقالات کاظمی ،۱/ ۱۷۳) 
Advertisement
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا اپنے نبی پر دُرُود بھیجنے سے مُراد یہ ہے کہ رَبّ تعالیٰ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامکی ثنا وتعظیم بیان فرماتا ہے جیساکہ علاَّمہ ابنِ حَجر عَسْقلانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی ابُو العالیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں  :’’ اَنَّ مَعْنَی صَلَاۃِاللّٰہِ عَلٰی نَبِیِّہ،ثَنَاؤُہُ عَلَیْہِ وَتَعْظِیْمُہٗ،یعنی  اللّٰہ تعالیٰ اہے کہ خُدائے بُزُرگ وبَرتر آپ کی تعریف اورعَظْمَت بیان فرماتا ہے ۔ ‘‘(فتح الباری،کتاب الدعوات،باب الصلاۃ علی النبی ،۱۲ ۱ /۱۳۱،تحت الحدیث:۶۳۵۸)

دیدارِ اِلٰہی کا شوق 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ روایت میں  اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے مِعْراج کی رات اپنے حبیبِ کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والتسلیم  پر دُرُودِپاک کے گجرے نچھاور کیے اور اپنے دیدار سے بھی نوازا ۔ یادرہے ! دیدارِ الٰہی ایک ایسی نعمتِ عظمیٰ ہے کہ جس کے حُصُول کا ہمیشہ سے ہرخاص و عام ہی تمنائی رہا ہے ، جس کی طلب ہر دل کی دھڑکن بنی رہی حتی کہ یہ ہی آرزُو اِلتجا بن کرحضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے مُبارک لبوں  پر بھی آگئی ، عرض کی: ’’رَبِّ اَرِنِیْ،اے رَبّ میرے مجھے اپنا دیدار دکھا !‘‘رَبّ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:’’ لَنْ تَرٰنِیْ تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا ۔‘‘، مگر جب بات اپنے حبیب کی آئی توخُود حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلامکو بھیج کر محبوب کو بلوا یااور اپنے دیدار سے مُسْتَفِیْض فرمایا ، جبھی تو بُلبلِ باغِ جِنان ، شاعرِ خوش بیان امام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن بے ساختہ پُکار اٹھتے ہیں  :
تَبَارَکَ اللّٰہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں  تو وہ جوشِ لَنْ تَرانِیْ کہیں  تقاضے وصال کے تھے
   (حدائقِ بخشش،ص۲۳۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پنے نبی پر جو دُرُود بھیجتا ہے اس سے مُرادیہ 

شاہ دُولہا بنا آج کی رات ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں  اس واقعۂ معراج کو ان اَلفاظ میں  بیا ن فرمایا ہے :
سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہ لِنُرِیَہ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ ٭ (پ۱۵،بنی اسرائیل :۱)
ترجمۂ کنزالایمان :پاکی ہے اسے جو راتوں  رات اپنے بند ے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصا تک جس کے گرداگرد ہم نے بَرَکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں  دکھائیں  بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے ۔ 
حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادی خَزائن العرفانمیں  اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  :’’ مِعْراج شریف نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا ایک جلیل مُعجِزہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حُضُور کا وہ کمالِ قُرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں  آپ کے سوا کسی کو مُیسَّر  نہیں   ۔ نَبُوَّت کے بارہویں  سال سیدِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِعْراج سے نوازے گئے مہینہ میں  اِختلاف ہے مگر اَشہر(یعنی زیادہ مشہور بات) یہ ہے کہ ستائیسویں  رجب کو مِعْراج ہوئی مکّہ مُکرَّمہ سے حضور پُرنور

 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بَیْتُ الْمَقْدِستک شب کے چھوٹے حصّہ میں  تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے اس کا مُنکِر کافر ہے اور آسمانوں  کی سیر اور منازلِ قُرب میں  پہنچنا احادیثِ صحیحہ مُعْتمَدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِّ تَواتُر کے قریب پہنچ گئی ہیں  اس کا مُنکِر گمراہ ہے ، مِعْراج شریف بحالتِ بیداری جسم ورُوح دونوں  کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اَہلِ اِسلام کا عَقیدہ ہے اور اَصحابِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثیر جماعتیں  اور حُضُور کے اَجلّہ اَصحاب اسی کے مُعتَقِد (یعنی ماننے والے) ہیں  ۔ نُصُوصِ آیات و اَحادیث سے بھی یہی مُستَفاد ہوتا ہے ، تِیرہ دِماغانِ فلسفہ (فلسفیوں  کے اندھیروں  میں  بھٹکتے دماغوں ) کے اوہامِ فاسدہ مَحض باطل ہیں  قُدرتِ الٰہی کے مُعْتقد کے سامنے وہ تمام شُبْہات مَحض بے حقیقت ہیں  ۔ ‘‘

لَفْظِ سُبْحٰن کی حکمت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ نے اس عَظیم وجلیل واقعہ کے بیان کولَفْظِ سُبحان سے شُروع فرمایا جس سے مُراد اللّٰہ  تعالیٰ کی تَنْزِیْہ (یعنی پاکی ) اور ذات ِباری تعالیٰ کا ہر عیب ونقص سے پاک ہونا ہے ۔ اس میں  یہ حکمت ہے کہ واقعاتِ مِعْراج جسمانی کی بنا پرمُنکرین کی طرف سے جس قدر اِعتراضات ہوسکتے تھے ان سب کا جواب ہوجائے ۔ مثلاً حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

 وَاٰلِہٖ وسلَّم کا جسمِ اَقدس کے ساتھ بَیْتُ الْمَقْدِس یا آسمانوں  پر تشریف لے جانا اور وہاں  سے’’ ثُم دَنٰی فَتَدَ لّٰی‘‘ کی منزل تک پہنچ کر تھوڑی دیر میں  واپس تشریف لے آنا منکرین کے نزدیک نامُمْکن او ر محال تھا ۔اللّٰہ تعالیٰ نے لَفْظِ سُبحان فرما کریہ ظاہر فرمادیا کہ یہ تمام کام میرے لئے بھی نامُمکن اور محال ہوں  تویہ میری عاجزی اور کمزوری ہوگی ۔ اور عِجز وضُعف ،عیب ہے اورمیں  ہر عیب سے پاک ہوں  ۔ اسی حکمت کی بناپراللّٰہ  تعالیٰ نے اَسْریٰ فرمایا جس کا فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہے حُضُورکو جانے والا  نہیں   فرمایا بلکہ اپنی ذاتِ مُقدَّسہ کو لے جانے والا فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے لفظ ِسُبحان اور اَسْریٰ فرماکرمِعْراجِ جسمانی پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب دیا ہے اور اپنے محبوب عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ مُقدَّسہ کو اِعتراضات سے بچایا ہے ۔ (مقالات کاظمی،حصہ اول،ص۱۲۳)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُضُورفخرِ موجودات سید کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس عَظیمُ الشَّان مُعجزے پر مُعْتَرِضِیْن و مُعانِدِیْن کا بے جا اِعتراضات کرنا کوئی نئی بات  نہیں   بلکہ آپ عَلَیْہ السَّلام کے دورِ مبارک میں  بھی بہت سے کوتاہ اَندیش اور حقیقت سے نا آشنا لوگ اس عظیم مُعجزے کا انکار کرتے آئے ہیں  ، اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ہمیں  ایسوں  سے محفوظ فرمائے اور حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذکرِ خیر اورمُعجزاتِ جلیلہ کا خُوب خُوب چرچا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

یاد رہے کہ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معراج پر بلانے اور اپنے دیدار سے مُشرَّف فرمانے کا مَقْصد حُضُورعَلیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلامکی دِلجوئی اور تسکینِ خاطر تھا کیونکہ آپ کی طرف سے دعوتِ توحید دئیے جانے کے بعد کفارِ جفا کار کی طرف سے لگاتار ظُلم و ستم کے اَنبار کی وَجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہایت بیقرار تھے جس کا واقعہ کچھ یوں  ہے:

جس روز صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کراللّٰہ تعالیٰ کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قریشِ مکہ کو دعوتِ توحید دی تھی اسی روز سے عَداوت وعِناد کے شُعلے بھڑکنے لگے ، ہر طرف سے مَصائب و آلام کا سیلاب اُمڈ آیا۔ رَنج و غم کا اندھیرا دن بدن گہرا ہوتا چلاگیا۔ لیکن اس تاریکی میں  آپ کے چچا ابو طالب اور اُمُّ الْمؤمِنین حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا  کا وجود ہر نازک مرحلہ پر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیلئے تسکین و طمانیَّت کا سبب بنا رہا ، بعثتِ نبوی کے دسویں  سال آپ کے چچانے وفات پائی ، اس صدمہ کا زَخم ابھی مُندَمِل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ مُونِس و ہَمدَم رَفیقۂ حیات حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہَا بھی آپ کو داغِ مُفارَقت دے گئیں  ،کُفّارِ مکہ کو اب ان کی انسانیَّت سوز کارستانیوں  سے روکنے والا اور ان کی سفاکانہ روش پرمَلامت کرنے والا بھی کوئی نہ رہا جس کے باعث ان کی اِیذا رَسانیاں  ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئیں ۔

رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم طائف تشریف لے گئے، شاید وہاں  کے لوگ آپ کی اس دعوتِ توحید کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں  لیکن وہاں  آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جو ظالمانہ برتاؤ کیا گیا، اس نے سابقہ زَخموں  پر نمک پاشی کا کام کیا، ان حالات میں  جب بظاہر ہر طرف مایوسی کا اَندھیرا پھیل چُکا تھا اور ظاہری سہارے بھی ٹوٹ چکے تھے، رحمتِ الہٰی نے اپنی عَظْمَت و کبریائی کی واضح نشانیوں  کا مُشاہَدہ کرانے کے لیے اپنے محبوب کو عالَم بالا کی سیاحت کے لیے بُلایا ، تاکہ حالات کی ظاہری ناساز گاری آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کو مزید رَنجیدہ خاطِر نہ کرسکے ، غور کیا جائے تو سفرِ مِعْراج کے لیے اس سے موزُوں  ترین اور کوئی وقت  نہیں   ہوسکتا تھا۔

سفرِ معراج کا آغاز

اس سفرِمُقدَّس کے تما م احوال و واقعات احادیثِ مُبارکہ اورکُتُبِ سیرت میں  تفصیلاً مذکور ہیں  ۔ آئیے  نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذکرِ خیر کرنے اور آپعَلَیْہِ السَّلامکے بُلند وبالا مراتب جاننے کے لئے ہم بھی مختصراً معراج شریف کا ایمان اَفروز واقعہ سنتے ہیں  ۔چُنانچہ 
مِعْراج کی رات سرورکائنات ،فخرِموجودات  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے گھر کی چھت کُھلی اور ناگہاں  حضرت سَیِّدُناجبرئیل عَلَیْہِ السَّلام  چند فِرِشتوں  

کے ساتھ نازِل ہوئے اور آپ کوحرمِ کعبہ میں  لے جا کر آپ کے سینۂ مُبارک کو چاک کیا اور قلب ِاَنور کو نکال کر آب ِزَمزَم سے دھویا پھر ایمان و حِکْمَت سے بھرے ہوئے ایک طَشْت کو آپ کے سینے میں  اُنڈیل کر شِکم کا چاک برابر کر دیا۔ پھر آپ بُراق پر سوار ہو کر بَیْتُ الْمَقْدِس تشریف لائے ۔ بُراق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا قَدم وہاں  پڑتا تھا جہاں  اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی ۔  بَیْتُ الْمَقْدِسپہنچ کر بُراق کو آپ نے اس حلقہ میں  باندھ دیا جس میں  اَنبیاء عَلَیْھِمُ السَّلاماپنی اپنی سواریوں  کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام اَنبیاء اور رسولوں  عَلَیْھِمُ السَّلام کو جو وہاں  حاضر تھے دو رکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔ (روح البیان، پ۱۵، الاسراء، تحت الایۃ:۱،۵/ ۱۰۶،۱۱۲، ملتقطا)

نمازِ اقصٰی میں  تھا یہی سِرعیاں  ہوں  معنِیٔ اَوَّل آخر
کہ دَست بَسْتہ ہیں  پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے
 ( حدائقِ بخشش ،ص۲۳۲)
جب یہاں  سے نکلے تو حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلام نے شراب اور دُودھ کے دو پیالے آپ کے سامنے پیش کیے آپ نے دُودھ کا پیالہ اُٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند فرمایا اگر آپ شراب کا پیالہ اُٹھا لیتے تو آپ کی اُمَّت گمراہ ہو جاتی۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے پہلے آسمان میں  حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام سے، دوسرے آسمان میں  حضرت یحییٰ و حضرت عیسیٰعَلَیْہِمَا السَّلام  سے جو دونوں 

 خالہ زاد بھائی تھے مُلاقاتیں  ہوئیں  اور کچھ گُفْتُگو بھی ہوئی ۔ تیسرے آسمان میں  حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلام ، چوتھے آسمان میں  حضرت ادریس عَلَیْہِ السَّلام  اور پانچویں  آسمان میں  حضرت ہارون عَلَیْہِ السَّلام اورچھٹے آسمان میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ملے اور ساتویں  آسمان پر پہنچے تو وہاں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلام  سے مُلاقات ہوئی وہ  بَیْتُ الْمَعْمُوْر سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں  روزانہ سترَّ ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں  ۔ بوقتِ ملاقات ہر پیغمبر نے ’’خوش آمدید! اے پیغمبر صالح ‘‘ کہہ کر آپ کا اِستقبال کیا ۔ پھر آپ کو جنَّت کی سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعد آپ سِدْرَۃُ المُنْتہٰی پر پہنچے۔ اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پر توپڑا تو ایک دَم اس کی صُورت بدل گئی اور اس میں  رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں  کو الفاظ ادا  نہیں   کر سکتے۔ یہاں  پہنچ کر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام  یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں   نہیں   بڑھ سکتا ۔ پھر حضرت حق جَلَّ جَلَالُہ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اُوپر جہاں  تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خَلْوت گاہ راز میں  نازو نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت  نہیں   کر سکتی ۔  (سیرتِ مصطفی، ص۷۳۴)

کسے ملے گھاٹ کا کنارا کدھر سے گزرا کہَاں  اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں  سے خود چھپے تھے

خِرد سے کہدو کہ سر جھکا لے گماں  سے گزرے گزرنے والے

پڑے ہیں  یاں  خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے
(حدائقِ بخشش،ص۲۳۵)
پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللّٰہ تعالیٰ کاخاص قرب حاصل کیا اسی مقامِ قرب کو قرآنِ مجید میں  ان الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے :’’ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی ‘‘وہاں  کیا ہوا، یہ بھی میری اور آپ کی عقل کی رسائی سے بالا تر ہے ۔ 
پھر جب آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعالمِ ملکوت کی اچھی طرح سیر فرما کر اور آیاتِ الٰہیہ کا مُعاینہ و مُشاہَدہ فرما کر آسمان سے زمین پر تشریف لائے اوربَیْتُ الْمَقْدِس میں  داخل ہوئے اور بُراق پر سوار ہو کر مَکّہ مُکرَّمہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں  آپ نے بَیْتُ الْمَقْدِس سے مَکّہ تک کی تمام منزلوں  اور قریش کے قافلہ کو بھی دیکھا۔ ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجدِحرام میں  پہنچ کر چونکہ ابھی رات کا کافی حصہ باقی تھا ، سوگئے ۔ 
خدا کی قُدرت کہ چاند حق کے، کروڑوں  منزل میں  جلوہ کرکے
ابھی نہ تاروں  کی چھاؤں  بدلی، کہ نور کے تڑکے آلیے تھے
  (حدائقِ بخشش،ص۲۳۷)
اور صُبحکو بیدار ہوئے اور جب رات کے واقعات کا آپ نے قریش کے سامنے تَذْکرہ فرمایا تو رؤسائے قریش کو سخت تَعَجُّب ہوا یہاں  تک کہ بعض کو ر

 باطنوں  نے آپ کو جھوٹا کہا اور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رُؤسائے قریش نے بار بار بَیْتُ الْمَقْدِس کو دیکھا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی بھی بَیْتُ الْمَقْدِس  نہیں   گئے ہیں  اس لیے اِمتحان کے طور پر ان لوگوں  نے آپ سے بَیْتُ الْمَقْدِس کے دَر و دِیوار اور اس کی محرابوں  وغیرہ کے بارے میں  سوالوں  کی بوچھاڑ شُروع کر دی ۔ اس وَقت اللّٰہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ نَبُوَّت کے سامنے بَیْتُ الْمَقْدِس کی پوری عمارت کا نقشہ پیش فرما دیا ۔ چُنانچہ کفارِ قریش آپ سے سوال کرتے جاتے تھے اور آپ عمارت کو دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں  کا ٹھیک ٹھیک جواب دیتے جاتے تھے۔ (سیرت مصطفی،ص۷۳۵،بحوالہ بخاری کتاب الصلوٰۃ، کتاب الانبیاء ،کتاب التوحید، باب المعراج وغیرہ مسلم ،باب المعراج و شفاء، جلد۱،ص ۱۸۵ و تفسیر روح المعانی ،۱۵ / ۴تا ۱۰ وغیرہ کا خلاصہ)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعۂ مِعْراج کی تصدیق میں  ایمان کا امتحان ہے کہ مختصر سی گھڑی میں  بیداری کے عالم میں  جسم شریف کے ساتھ آسمان و عرشِ اَعظم تک بلکہ عرش سے بھی اُوپر حدِلامکان تک تشریف لے جانا عقل سے بالاتر ہے اسی وَجہ سے وہ لوگ جن کے دل نورِایمان سے خالی تھے اُنہوں نے اس عظیم واقعے کو نہ صرف جُھٹلایا بلکہ طرح طرح سے اس کا مَذاق بھی اُڑایا لیکن جن کے دلوں  میں  یقینِ کامل کا چراغ روشن تھا وہ کسی بھی پریشانی اور تَرَدُّد کا شکار  نہیں  

 ہوئے اور بغیر کسی دلیل کے اس مُعجزے کوتسلیم کرلیا ، جیساکہحضرتِ سیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہکے بارے میں  آتا ہے ۔

تصدیقِ مِعْراج کرنے والے صحابی

اُمُّ المُؤمنینحضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہاسے روایت ہے، فرماتی ہیں  :جب حُضُورنبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اَقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسری صُبح لوگوں  کے سامنے اس مکمل واقعے کو بیان فرمایا ، مُشرکین وغیرہ دوڑتے ہوئے حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدِّیق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : ’’ہَلْ لَکَ اِلٰی صَاحِبِکَ یَزْعُمُ اَسْرٰی بِہِ اللَّیْلَۃَ اِلَی بَیْتِ الْمَقْدَس؟یعنی کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں  جوآپ کے دوست نے کہی ہے کہ اُنہوں  نے راتوں  رات مسجدِ حرام سے مسجد اَقصیٰ کی سیر کی ؟‘‘ آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’کیا آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واقعی یہ بیان فرمایا ہے؟‘‘ اُنہوں  نے کہا: ’’جی ہاں ۔‘‘ آپ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ لَئِنْ کَانَ قَالَ ذٰلِکَ لَقَدْ صَدَق یعنی اگر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے ۔‘‘ اور میں  ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتاہوں  ۔ اُنہوں  نے کہا: ’’اَوَ تُصَدِّقُہُ اَنَّہُ ذَہَبَ اللَّیْلَۃَ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِس وَ جَاء َ قَبْلَ اَنْ یُصْبِحَ؟ یعنی کیا

 آپ اس حیران کُن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں  کہ وہ آج رات بَیْتُ الْمَقْدِس گئے ، اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’نَعَمْ! اِنِّیْ لَاُصَدِّقُہُ فِیْمَا ہُوَ اَبْعَدُ مِنْ ذٰلِکَ اُصَدِّقُہُ بِخَبْرِ السَّمَاءِ فِیْ غَدْوَۃٍ اَوْرَوْحَۃ، جی ہاں ! میں  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آسمانی خبروں  کی بھی صُبح و شام تصدیق کرتا ہوں  ۔‘‘جو یقینا اس بات سے بھی زِیادہ حیران کن اور تَعَجُّب والی بات ہے۔ پس اس واقعے کے بعد آپ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ’’صدِّیق ‘‘ مشہور ہوگئے ۔  ‘‘(مستدرک،کتاب معرفۃالصحابۃ، ذکر الاختلا ف  فی امرخلافۃ…الخ،۴/۲۵، حدیث:۴۵۱۵)

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کس قَدر کامل ایمان تھا صدِّیق اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ کا کہ جب آپ نے یہ سنا کہ جنابِ صادق و امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے ایسا ایسا فرمایا ہے تو اس پر آنکھ بند کرکے یقین کرلیا ۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمار ے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں  اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطافرمااور آپ کی سنَّتوں  پر چلتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطافرما۔ 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!