مدارس اسلامیہ اور نصاب تعلیم

مدارس اسلامیہ اور نصاب تعلیم
از… محمد گل ریز رضا مصباحی بریلی شریف
کسی بھی کورس کو مکمل کرنے کے لیے نصاب تعلیم کا اہم کردار ہوا کرتا ہے جب تک پڑھنے والے کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ مجھے اس کورس میں کون کونسی کتب پڑھائی جائیں گی اسے پڑھنے میں وہ دلچسپی حاصل نہیں ہوگی جو ہونی چاہیے
جس طرح منزل مقصود کا متلاشی اگر اپنے مقصد پر نظر نہ رکھے تو کامیابی حاصل ہونا بہت بعید ہے
سب سے پہلے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی اپنی راہ متعین کرلے اور اسی سمت پر چلتا رہے جلدی ہی اسے اس کے نتائج اور ثمرات حاصل ہونے لگیں  گے اکثر طلبہ کا دور طالب علمی یوں ہی دوست و  احباب کی مجلسوں میں گزر جاتا ہے اور فارغ التحصیل ہونے تک انھیں اپنے مقصد کے متعلق کوئی خبر بھی نہیں ہوتی پھر بعد میں افسوس ہوتا ہے
درس نظامی کا نصاب ملا نظام الدین کے ذریعہ جس زمانے میں مرتب کیا گیا تھا وہ دور کچھ اور تھا اور آج کا دور کافی تبدیل ہو چکا ہے اس زمانے میں طلبہ میں علم دین سیکھنے کی جو لگن تھی وہ آج نظر نہیں آتی ہے معاشرے کے بدلتے حالات بھی انسان کی طبیعت کو دنیاوی علوم کی طرف مائل کررہے ہیں مدارس کا رخ زیادہ تر وہی طلبہ کرتے ہیں جن کا تعلق غریب گھرانے سے ہوتا ہے ان کے والدین  اسکول کی تعلیم کے لیے فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ ان  کا  ایڈمیشن مدارس میں  کرادیتے ہیں.
حالات کو دیکھتے ہویے سو سال پہلے بنے ہویے نصاب تعلیم  پر ایک بار پھر سے غورو فکر کی حاجت ہے
آٹھ سال پڑھنے کے بعد بھی طالب علم اس لائق نہیں ہوپاتا کہ وہ 20 منٹ عربی میں بات کر سکے
زمانے کے بدلنے سے مسائل تو بدلتے ہیں لیکن ہمارا نصاب تعلیم وہیں کا وہیں ہے
اس دور میں شرح جامی جو درجہ رابعہ میں پڑھائی جاتی ہے   اور کافیہ جو  درجہ ثالثہ  میں پڑھائی جاتی ہے  پورے دوسال  تک طلبہ کو کتابوں کےقیل وقال کو الجھانا سود مندی نہیں اس سے بہتر یہ ہے ان کو خارج کرکے  ان دو سالوں میں عربی زبان لکھنے پڑھنے بولنے کی خوب سے خوب مشق کرائی جائے تو ان کے لیے یہ دوسال زیادہ فائدہ مند ہوسکتے ہیں
میری معلومات کے مطابق نحومیر ھدایۃ النحو کا اگر صحیح طور پر اجرا کرادیا جایے تو طلبہ کو اتنے ہی قواعد عربی زبان لکھنے پڑھنے کے لیے کافی ہیں
آج کا دور اس بات کا متقاضی ہے کہ طلبہ کو کوئی بھی فن  پہلے اس کی مادری زبان میں پڑھایا جایے تاکہ وہ  دو پریشانیوں  اولا ترجمہ کرنا اور پھر مفہوم  سمجھنا سے آزاد ہوجائیں مادری زبان میں سکھانے کا فائدہ یہ ہوگا صرف مفہوم سمجھنا ہوگا ترجمہ کا  بوجھ ختم ہوجایے گا
میں سمجھتا ہوں کہ کتابوں کا مقدار کے اعتبار سے زیادہ کردینا اور صرف مقدار مکمل کرانے کی فکر کرتے رہنا نہ اس فن کا اجرا کرانا یہ آج کے دور می‍ں طلبہ کے ساتھ صریح ناانصافی ہے
بہتر یہ ہے آج ایسے متحرک فعال افراد تیار کیے جاییں جو اس فن سے متعلق ترتیب وار زیادہ سے زیادہ اجراء کرائیں   اس طرح کی کتابیں تیار کی جاییں طلبہ جن فنون سے جی چراتے ہیں ان میں کچھ اس طرح سے جدت لائی جائے  وہ فنون پڑھے بغیر انھیں چین نہ ملے
اسی طرح فن بلاغت میں اگر دیکھا جائے  تو مختصر المعانی میں علم معانی تو کچھ حد تک بچوں کو اچھا لگتا ہے کیوں کہ اس کا تعلق الفاظ سے ہے لیکن علم بیان جس کا تعلق معانی سے ہے اس میں آپ غور سے دیکھیں تو بلاغت سے زیادہ خارجی باتیں زیادہ نظر آییں گی اگر بلاغت کا بیان ہوتا بھی ہے تو کیئ صدی پرانی مثالیں جو آج بالکل رائج نہیں ہیں ان کو محل استشہاد میں پیش کیا جاتا ہے کیا اس فن بلاغت کو نیے طریقے سے اور جدید مثالوں کے ذریعہ  مرتب کرنے کی حاجت نہیں ہے
ابتدائی کلاس میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے مادری زبان میں نحو صرف کی کتابیں تیار کرکے بہت اچھا کام کیا ہے اور بہت سے مدارس میں نحو صرف کو اردو زبان میں ہی پڑھایا جارہا ہے
لیکن کچھ مدارس اب بھی وہی پرانی روش میزان الصرف. پنچ گنج وغیرہ پر قائم ودائم ہیں اس سے طلبہ کا فائدہ کم  نقصان زیادہ ہورہا ہے
پنچ گنج پڑھانے کا مجھے تجربہ ہے لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا  جو مادری زبان میں سکھانے سے ملا
میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں دعوت اسلامی کے درجہ اولی کے طلبہ وہ بہت کر لیتے ہیں جو  مدارس میں درجہ ثالثہ میں سمجھ میں آتی ہیں
درجہ اولی کے طلبہ قرآن پاک کا اجراء کرتے ہیں
لیکن اس بات سے کوئی غلط نتیجہ اخذ نہ کیا جایے اور میں کیسے برا سوچ سکتا ہوں جب کہ میں خود مدارس  کا پرودرہ ہوں میری پوری تعلیم مدارس کے طفیل ہے
دشمن وہ نہیں جو تمہارے عیب بتائے دشمن وہ ہے جو تمہارے عیب کو بھی اچھا کہے
ہم حالات سے ہم آہنگی کریں اور طلبہ کے اوپر سے کتابوں اور مقدار کا بوجھ کم کرکے انھیں عربی اور انگلش زبان بولنے اور لکھنے کی خوب مشق کرائیں  اور جس فن کی بھی کویی کتاب پڑھائی جائے اس کی مشقوں کا  خاص طور سے  التزام کر لیا جایے اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب مقدار کم ہوگی تاکہ استاذ کو مشق تیار کرنے کے لیے وقت مل جائے یا کچھ افراد اس کی طرف بھی توجہ کریں.
اللہ کرے ہماری قوم میں کچھ ایسے متحرک فعال افراد سامنے آجاییں جو علم بلاغت. منطق وغیرہ کو جدید مثالوں کی صورت میں پیش کریں اور کل ج ب سے نکل اور  مثالیں  تلاش کریں
اور کوشش کی جایے کہ ابتدائی کلاس میں وائٹ بورڈ کا استعمال ضرور  کیا جایے چھوٹی کلاس میں پریکٹیکل زبانی گفتگو سے زیادہ مفید ہوتا ہے
آخیر میں گزارش ہے کہ مدارس کے نمائندے دعوت اسلامی کے جامعات  جاکر وہاں کے نظام کو دیکھیں اور جو بہتر لگے اسے اپنے یہاں نافذ کریں 
لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اسی پر ختم کرتا ہوں
اللہ کرے دل میں اتر جائے میری بات.
18/3. 2019

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *