Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بادشاہ درویش کیسے بنا

حکایت نمبر423: بادشاہ درویش کیسے بنا۔۔۔۔۔۔؟

حضرتِ سیِّدُناعَوْن بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ المجید سے ایک واقعہ بیان کیاتواس کا ان کے دل پر بڑا گہرا اثرہوا۔میں حضرتِ سیِّدُنامسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اور انہیں امیر المؤمنین علیہ رحمۃ اللہ المبین کی حالت سے آگاہ کیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا : ”تم نے ایساکون ساواقعہ بیان کیاجس کی وجہ سے

امیر المؤمنین علیہ رحمۃاللہ المبین کی یہ حالت ہوئی؟” میں نے کہا:”میں نے انہیں یہ واقعہ سنایاتھا کہ سابقہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے بڑاہی خوبصورت شہر تعمیر کیاجس میں تمام سہولیات مہیا کیں ۔اس کی تعمیروترقی کے لئے خوب کوشش کی اورحتَّی الامکان اس میں کوئی عیب والی چیزنہ چھوڑی ۔اس کی کوشش تھی کہ میں ایساشہربناؤں جس میں کوئی خرابی وخامی نہ ہو۔ جب اسے اطلاع دی گئی کہ شہرکی تعمیرمکمل ہوچکی ہے تواس نے شہرمیں ایک پُرتکلف دعوت کااہتمام کیااورلوگوں کوباری باری شہرمیں بھیجتا رہا، درو ا ز ے پر سپاہی کھڑے کردئیے تاکہ دعوت کھاکرآنے والے ہرشخص سے پوچھا جائے کہ ہمارے اس شہرمیں کوئی نقص یا خرابی تو نہیں ؟”
جس سے بھی پوچھا جاتا و ہ یہی کہتا: ”اس شہرمیں کوئی عیب نہیں یہ ہر لحاظ سے مکمل ہے ۔”دعوت کاسلسلہ چلتارہاسب سے آخرمیں چندایسے لوگ شہرمیں داخل ہوئے جن کے کندھوں پر تھیلے تھے ۔جب ان سے پوچھاگیا:”کیاتم نے بادشاہ کے اس عظیم الشان شہرمیں کوئی عیب دیکھاہے ؟”توانہوں نے کہا:”ہاں! ہم نے اس میں دوبڑ ے بڑے عیب دیکھے ہیں۔”یہ سن کر سپاہیوں نے ان خرقہ پوش بزرگوں کوپکڑ لیا اوربادشاہ کواطلاع دی۔بادشاہ نے کہا:”میں تو اس شہرمیں ایک ہلکے سے عیب پربھی راضی نہیں ،انہیں اس میں دوبڑے بڑے کون سے عیب نظرآگئے ،جاؤ!جلدی سے انہیں میرے پا س لاؤ۔”جب بزرگوں کاقافلہ آیا توبادشاہ نے پوچھا: ” کیا تم نے شہرمیں کوئی عیب دیکھاہے؟”فرمایا:”ہاں! اس میں دوعیب ہیں ۔” بادشاہ نے پریشان ہو کر پوچھا: ”جلدی بتاؤ! وہ کون سے عیب ہیں؟”کہا:”تیرا یہ شہر خراب اور فنا ہوجائے گااور اس میں رہنے والا بھی مرجائے گا۔”
سمجھ داربادشاہ نے کہا:”کیاتم کسی ایسے گھرکے بارے میں جانتے ہوجوکبھی فنانہ ہواوراس کامالک کبھی موت کاشکارنہ ہو؟” بزرگوں نے کہا:”اگراس گھرکے خواہش مند ہو توتخت وتاج چھوڑکرہمارے ساتھ چلے آؤ۔”بادشاہ نے کہا : ”ٹھیک ہے میں تیار ہوں ،لیکن میں علانیہ تمہارے ساتھ گیاتومیرے وزراء نہیں جانے دیں گے۔ہاں! فلاں وقت مَیں تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔” چنانچہ، وہ بزرگ وہاں سے چلے آئے اور مقررہ وقت پرانتظار کرنے لگے ۔بادشاہ نے تخت وتاج چھوڑ ا،فقیرانہ لباس زیبِ تن کیااوربزرگوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔کافی عرصہ وہ اس قافلہ کے ساتھ رہا۔ایک دن انہیں متوجہ کر کے کہا:”اب مجھے اجازت دو میں کہیں اورجاناچاہتاہوں ۔”بزرگوں نے کہا:”کیاتمہیں ہمارے درمیان کوئی ناگواربات پیش آئی ہے ؟” کہا:”ایسی کوئی بات نہیں ۔ ” پوچھا:”پھرکیوں جانا چاہتے ہو؟”کہا:”بات دراصل یہ ہے کہ تم مجھے جانتے ہواس لئے عزت واحترام کرتے ہو۔اب میں ایسی جگہ جانا چاہتا ہوں ، جہاں مجھے کوئی جاننے والانہ ہو۔”یہ کہہ کربادشاہ ایک نامعلوم منزل کی جانب چلاگیا۔
حضرتِ سیِّدُنا عَوْن بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں نے حضرتِ سیِّدُنا مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا: ”یہ تھاوہ واقعہ جومیں نے امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ المجیدکوسنایاتھا۔”پھرحضرتِ سیِّدُنامسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت لے کرمَیں واپس آ گیا۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُناعمربن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ المجیدمجھ سے یہی واقعہ سن رہے تھے کہ حضرتِ سیِّدُنا

مسلم رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ حاضر ہوئے تو امیر المؤمنین علیہ رحمۃ اللہ المبین نے فرمایا:”اے مسلم!تمہارا بھلا ہو،اس شخص کے بارے میں تمہاری کیارائے ہے جس پراس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈال دیاگیاہو۔ اگرایساشخص اس بوجھ (یعنی حکومت کی ذمہ داری )کوچھوڑ کر رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے خلوت نشین ہو جائے تو کیا اس پرکچھ حرج ہے؟”حضرتِ سیِّدُنامسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا:”اے امیر المؤمنین علیہ رحمۃ اللہ المبین ! امتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرئیے۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کوچھوڑ کرچلے گئے تویہ اپنی ہی تلواروں سے ایک دوسرے کوقتل کرڈالیں گے ۔”امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ المجیدنے فرمایا : ”اے مسلم ! میں کیا کروں؟یہ خلافت کا بھاری بوجھ میری برداشت سے باہر ہے۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بار بار یہی کہتے رہے اور حضرتِ سیِّدُنا مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کوتسلی دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طبیعت سنبھل گئی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!