اسلامواقعات

بدنامِ زمانہ فاحشہ نے توبہ کيسے کی؟

بدنامِ زمانہ فاحشہ نے توبہ کيسے کی؟

حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:” ایک فاحشہ عورت کے بارے میں مشہور تھاکہ اسے دنیا کا تہائی حُسن دیا گیاہے۔اس کی بدکاری بھی اِنتہاء کو پہنچ چکی تھی، جب تک وہ سو دینار نہ لے لیتی اپنے قریب کسی کو نہ آنے دیتی ۔لوگ اس کے حُسن کی وجہ سے اِتنی بھاری رقم ادا کرکے بھی اس سے بد کاری کرتے ۔
ایک مرتبہ ایک عا بد کی اس عورت پر اچانک نظر پڑگئی ،اِتنی حسین وجمیل عورت کو دیکھ کر وہ عابداس کے عشق میں مبتلا ہوگیااور اس نے اِرادہ کیا کہ مَیں اس حسین وجمیل عورت کا قُرب ضرور حاصل کروں گا،جب اسے معلوم ہو اکہ 100 دینار

دیئے بغیرمیری یہ حسرت پوری نہیں ہو سکتی تو اس نے مطلوبہ رقم حاصل کرنے کے لئے دن رات مزدوری کی۔ کافی تگ ودو کے بعد جب 100دینار جمع ہو گئے تو وہ اس بد کار عورت کے پاس پہنچا اور کہا: ”اے حسن وجمال کی پیکر!مَیں پہلی ہی نظر میں تیرا دیوانہ ہوگیا تھا، تیرا قُرب حاصل کرنے کے لئے میں نے مزدو ری کی اور اب سودینار لے کر تیرے پاس آیا ہوں۔”
یہ سن کر اس فاحشہ عورت نے کہا: ”اندر آجاؤ۔” جب وہ عا بد کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ حسین وجمیل عورت سونے کے تخت پر بیٹھی ہے۔اس نے عا بد سے کہا:”میرے قریب آؤ اور اپنی دیرینہ خواہش پوری کر لو ،مَیں حاضر ہو ں،آؤ! میرے قریب آؤ۔”وہ عا بد بے تا ب ہو کر اس کی طر ف بڑھا اور اس کے قریب تخت پر جا بیٹھا۔ جب وہ دونوں بد کاری کے لئے بالکل تیار ہوگئے تو اس عابد کی سابقہ عبادت اس کے کام آگئی اور اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضری کا دن یاد آگیا۔ بس یہ خیال آنا تھا کہ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی ، اس کی شہوت ختم ہوگئی اور اسے اپنے اس فعلِ بد کے ارادے پر بڑی شرمندگی ہوئی۔ اس نے عورت سے کہا: ”مجھے جانے دو اور یہ سو دینار بھی تم اپنے پاس رکھو، مَیں اس گناہ سے با ز آیا۔”اس عورت نے حیران ہوکر پوچھا: ” آخر تمہیں کیا ہوا؟ تم تو کہہ رہے تھے کہ تمہارا حسن وجمال دیکھ کر میں دیوانہ ہوگیاہوں اور میرا قُرب حاصل کرنے کے لئے تم نے بہت جتن کئے، اب جبکہ تم میرے قُرب میں ہو او رمیں نے اپنے آپ کو تمہارے حوالے کردیا ہے تواب تم مجھ سے دو ر بھاگ رہے ہو، آخر کیا چیزتمہیں میرے قُرب سے مانع ہے ؟ ”
یہ سن کر اس عابد نے کہا:” مجھے اپنے رب عزوجل سے ڈر لگ رہا ہے اور اس کا خوف تیری طر ف مائل نہیں ہونے دے رہا، مجھے اس دن کا خوف دامن گیر ہے جب میں اپنے پر وردگار عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو ں گا، اگر مَیں نے یہ گناہ کرلیا تو کل بروزِ قیامت اللہ عزوجل کی ناراضگی کا سامنا کس طر ح کرسکوں گا، لہٰذا اب میرا دل تجھ سے اُچاٹ ہو چکا ہے، مجھے یہاں سے جانے دو ۔”
عا بد کی یہ باتیں سن کر فاحشہ عورت بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی: ”اگر تم اپنی اس گفتگو میں سچے ہو تو مَیں بھی پختہ ارادہ کر تی ہو ں کہ تمہارے علاوہ کوئی اور میرا شوہر ہر گز نہیں بن سکتا، مَیں تم ہی سے شادی کروں گی۔” عابد کہنے لگا :” تم مجھے چھوڑ دو مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے ۔” عورت نے کہا: ”اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو مَیں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں۔”عا بد نے کہا :” جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں اس وقت تک میں شادی کے لئے تیار نہیں۔” عورت نے کہا: ”اچھا! ابھی تم چلے جاؤ لیکن میں تمہارے پاس آؤں گی اور تم ہی سے شادی کرو ں گی ۔” پھر وہ عابد سر پر کپڑا ڈالے منہ چھپائے شرمندہ شرمندہ وہاں سے نکلا اور اپنے شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔

فاحشہ عورت کے دل میں اس عابد کی باتیں اَثر کر چکی تھیں۔ چنانچہ اس نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کر لی پھر اس نے اپنے شہر کو خیرباد کہا اور اس عابد کے بارے میں پوچھتی پوچھتی بالآخر اس کے گھر پہنچ گئی۔”لوگوں نے عابد کو بتایا کہ فلاں عورت تم سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔”عابد باہر آیا جیسے ہی اس کی نظر عورت پر پڑی تو ایک زور دار چیخ ماری اور اس کی روح عالمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی۔ عورت اس کی طرف بڑھی تو دیکھا کہ اس کا جسم ساکت ہو چکا تھا۔ وہ بہت زیادہ غمزدہ ہوئی اور اس نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے؟” لوگوں نے کہا: ”ہاں، اس کا ایک بھائی ہے لیکن وہ بہت غریب ہے۔ ” یہ سن کر ا س عورت نے کہا: ”مَیں تواس نیک عابد سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن یہ تو دنیا سے رخصت ہو گیا،اب میں اس کی محبت میں اس کے بھائی سے شادی کروں گی۔”
چنانچہ اس عورت اور عا بدکے بھائی کی شادی ہوگئی، اللہ ربُّ العزَّت نے انہیں نیک وصالح اولاد عطا فرمائی اور ان کے ہاں سات بیٹے ہوئے جو سب کے سب اپنے زمانے کے مشہور ولی بنے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !”ہمیں بھی اپنا ایسا خوف عطا فرما کہ ہم ہر قسم کے گناہوں سے محفو ظ رہیں، ہمارا کوئی عضوکبھی بھی تیری نافرمانی والے کاموں کی طرف سبقت نہ کرے۔اے اللہ عزوجل !ہمیں عبادت کی لذت وچاشنی عطا فرما ، اگر بتقاضائے بشریت ہم سے گناہ سر زد ہو جائے تو اپنے فضل وکر م سے فوراً توبہ کی تو فیق عطا فرما، اپنی ناراضگی سے ہماری حفاظت فرما، ہمیں گناہوں پر شرمندگی عطا فرما۔ اے اللہ عزوجل !تُو ہی گناہ گارو ں کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، اپنے محبوبوں کے صدقے ہماری تمام خطائیں معا ف فرمادے اور اپنی دائمی رضا کی دولت سے ہماری جھولیاں بھر دے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
؎ بخش ہماری ساری خطائیں کھول دے ہم پر اپنی عطائیں
برسا دے رحمت کی برکھا، یا اللہ(عزوجل)! میری جھولی بھردے

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!