Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بدمذہب اور فاسق کے پیچھے نماز کا حکم

بدمذہب کے پیچھے نماز کا حکم

مسئلہ۲۴: بدمذہب جس کی بدمذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ اس کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب اِعادہ (1 ) ہے۔ (درمختار، ردالمحتار،عالمگیری)
مسئلہ۲۵: فاسق معلن جیسے شرابی، جواری، زانی، سود خور، چغل خور، وغیرہ جو کبیرہ گناہ علانیہ کرتے ہیں اُن کو امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب اِعادہ ہے۔ (ردالمحتارودرمختار وغیرہ)

مسئلہ۲۶: وہ بدمذہب جس کی بدمذہبی حد کفر کو پہنچ گئی ہو جیسے رافضی ( اگرچہ صرف ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت یا صحابیت سے انکار کرتا ہو یا شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی شانِ اَقدس میں تبرا کہتا ہو) جہمی، مشبہ، قدری (1 ) اور وہ جو قرآن کو مخلوق بتاتا اور وہ جو شفاعت یا دیدارِ الٰہی یا عذابِ قبر یا کراماً کاتبین کا انکار کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔ (عالمگیری وغنیہ) اس سے سخت تر حکم ان لوگوں کا ہے جو اپنے آپ کو مسلما ن کہتے ہیں بلکہ متبع سنت بنتے ہیں او راس کے باوجود بعض ضروریاتِ دین کو نہیں مانتے۔ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ورسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم) کی توہین کرتے یا کم از کم توہین کرنے والوں کو مسلمان جانتے ہیں ۔ اُن کے پیچھے بھی بالکل نماز جائز نہیں ۔

فاسق کی اِقتداء کا حکم

مسئلہ۲۷: فاسق کی اِقتداء نہ کی جائے مگر صرف جمعہ میں کہ اس میں مجبوری ہے باقی نمازوں میں دوسری مسجد میں چلا جائے اور جمعہ اگر شہر میں چند جگہ ہوتا ہو تو اس میں بھی اِقتداء نہ کی جائے۔ دوسری مسجد میں جا کر پڑھیں ۔ (غنیۃ، ردالمحتار، فتح القدیر)
مسئلہ۲۸: امام کا تنہا اُونچی جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے اگر بلندی تھوڑی ہو تو مکروہ تنزیہی اور اگر بلندی زیادہ ہو تو مکروہ تحریمی۔ (درمختار وغیرہ)
مسئلہ۲۹: امام نیچے ہو اور مقتدی اُونچی جگہ پر یہ بھی مکروہ اور خلافِ سنت ہے۔ (درمختاروغیرہ )
مسئلہ۳۰: مسبو ق اپنی چھوٹی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے میں منفرد ہے۔

________________________________
1 – یعنی نماز کا پھر سے پڑھنا واجب ہے۔

________________________________
1 – قَدری: جو تقدیر کا منکر ہو۔ مُشَبِّہ: جو خدا کی ذات و صفات کو آدمی کی ذات و صفات کی طرح مانتا ہو۔ جَہْمِی: جہم بن صفوان کے ماننے والوں کو کہتے ہیں، ان کا قول ہے کہ بندے کو بالکل کسی طرح کی قدرت نہیں، نہ موثرہ نہ کاسبہ بلکہ مثل جمادات کے ہے اور جنت و دوزخ لوگوں کے داخل ہونے کے بعدفنا ہوجائے گی یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رہے گا سوا اللّٰہ تعالیٰ کے۔ ۱۲ (منہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!