Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

احسان مند سانپ

حکایت نمبر 462: احسان مند سانپ

منقول ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں مالک بن حَرِیْم ہَمْدَانِیاپنی قوم کے چند افراد کے ہمراہ(مکہ شریف کے بازار) عُکَاظ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں لوگوں کوشدیدپیاس لگی ،لیکن آس پاس کہیں پانی موجود نہ تھابالآخرانہوں نے مجبورہوکرہرن شکار کیا اور اس کا خون پی کر گزارہ کیا۔جب ساراخون ختم ہوگیاتواسے ذَبح کیا اور لکڑیاں ڈھونڈنے چلے گئے ۔ مالک اپنے خیمے میں
سو گیا اس کے ساتھیوں نے راستہ میں ایک سانپ دیکھا تواسے مارنے کے لئے دوڑے، سانپ خیمے میں داخل ہوگیا۔لوگوں نے پکارکر کہا:”اے مالک! تیرے قریب خطرناک سانپ ہے، جلدی سے اسے مارڈال ۔”لوگوں کی چیخ وپکارسن کرمالک جاگ گیا۔اس نے دیکھاکہ ایک بہت بڑا اژدھا اس کے خیمے میں پناہ لئے ہوئے ہے اورلوگ اسے مارناچاہتے ہیں ۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:”میں تمہیں قسم دیتاہوں کہ تم میں سے کوئی بھی اسے نقصان نہ پہنچائے،میں تمہاری طرف سے اسے کافی ہوں۔” چنانچہ، لوگ اسے مارنے سے رُک گئے اوراژدھاصحیح وسالم ایک جانب چلاگیاپھرمالک نے اس طرح کہا:
”مجھے میرے قابلِ تعظیم ساتھی نے پڑوسی کی تکریم کی وصیت کی، لہٰذامیں نے اپنے پڑوسی کی اس وقت حفاظت کی جب کوئی اس کامحافظ نہ تھا۔اے لوگو!میں تم پرفدا ہوجاؤں کہ تم نے میرے پڑوسی کوچھوڑدیااگرچہ وہ سانپ ہے اورتم اس کا خون ہرگز نہیں بہا سکتے جوپناہ لے چکا،کیونکہ اس کوپناہ دینے والااس کاضامن ہے اورہرطرف سے اس کی حفاظت کرنے والا ہے ۔”
اس کے بعدمالک اوراس کے ساتھیوں نے جانبِ منزل کوچ کیا،راستہ میں انہیں ایسی شدید پیاس لگی کہ زبانیں خشک ہوگئیں۔ پھر اچانک ایک آوازسنائی دی :
”اے مسافرو! اگرتم سارادن اپنے جانوروں کوچلاتے رہو تب بھی آج پانی تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہاں! ایسا کرو کہ تم دن بھرچلو پھر ”شامہ” چلے جاؤ! وہاں تمہیں ایک ریت کے ٹیلے کے پاس بہت ساپانی مل جائے گااورتمہاری کمزوری دورہوجائے گی۔یہاں تک کہ تم خوب پانی پینااوراپنی سواریوں کوپلانااورمشکیزے بھی بھرلینا۔”یہ غیبی آوازسن کر سب لوگ ”شامہ” پہنچے، وہاں ایک پہاڑ کی جڑسے چشمہ بہہ رہا تھا۔ سب نے خوب سیر ہوکرپانی پیا،سواریوں کوپلایا، اپنے مشکیزے اوربرتن بھی بھر لئے۔ اور ”عُکَاظ”کی جانب چل دئیے۔ واپسی پراسی مقام پرپہنچے جہاں پانی کاچشمہ تھاتویہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ اب وہاں چشمے کانام ونشان بھی نہ تھا۔وہ ابھی حیرت کی وادیوں میں گم تھے کہ ایک غیبی آوازسنائی دی، کوئی کہنے والاکہہ رہاتھا:
”اے مالک!میری طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اچھی جزا عطافرمائے۔یہ میری طرف سے تمہیں الوداع اورسلام ہے ۔ ہرگزکسی کے ساتھ نیکی کرنانہ چھوڑنا،بے شک! جوکسی کوبھلائی سے محروم کرتاہے وہ خودبھی ضرور محروم کیاجاتا ہے اور خیر خواہی وبھلائی کرنے والااپنی موت تک قابلِ رشک رہتا ہے ۔فائدہ اٹھاکرناشکری کرنابہت بری عادت ہے۔ سنو!میں وہی سانپ ہوں جس کوتم نے موت سے نجات دی تھی،میں نے اس احسان کا شکریہ اداکردیا،کیونکہ شکریہ اداکرناقابلِ رشک شئے اور بہت ضروری امر ہے۔” پھر وہ غیبی آوازبندہوگئی اورسارے مسافرحیرت سے منہ کھولے رہ گئے۔

error: Content is protected !!